پاکستان کی عدالت عظمیٰ سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ترامیم کے خلاف چئیرمین پاکستان تحریک انصاف [پی ٹی آئی] کی درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے متعدد شقیں کالعدم قرار دے دی۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے محفوظ کیا گیا فیصلہ جاری کرتے ہوئے دو ایک کی اکثریت کا فیصلہ سنایا۔
عدالت نے نیب کی تمام تحقیقات اور مقدمات بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے 50 کروڑ کی حد سے کم ہونے پر ختم ہونے والے تمام مقدمات بھی بحال کر دیے۔
چیف جسٹس پاکستان نے فیصلہ پڑھ کر سناتے ہوئے عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال کر دیے اور کہا کہ نیب ترامیم کے خلاف درخواست قابل سماعت قرار دی جاتی ہے۔
اس سے قبل توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزرائے اعظم نواز شریف، یوسف رضا گیلانی اور سابق صدر آصف زرداری کے خلاف قائم کیس واپس لے لئے گئے تھے۔
-
نیب ترمیمی آرڈیننس منظور، ملزمان کو دوران انکوائری گرفتار کرنے کا اختیار مل گیا
قائم مقام صدر مملکت صادق سنجرانی نے نیب ترمیمی آرڈیننس پر دستخط کردیے جس کے بعد اب ...
پاكستان -
نیب نے عمران خان کو جمعرات کے روز القادر ٹرسٹ کیس میں طلب کر لیا
نیب راولپنڈی نے سابق وزیراعظم عمران خان کو جمعرات کے روز القادر ٹرسٹ کیس میں طلب ...
پاكستان