دبئی میں مقیم پاکستانی خاتون مہم جو اگلے ماہ تاریخی خلائی سفر کرنے کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایک پاکستانی خاتون مہم جو اپنے ملک کی وہ پہلی شخصیت بننے کے لیے تیار ہیں جو 5 اکتوبر کو ورجن گیلیکٹک کی نجی کمرشل خلائی پرواز کے ساتھ خلائی سفر کا آغاز کرنے والی ہیں۔ اپنے اس خواب کو حیقیقت کے روپ میں دھالنے کے لیے انہیں 17 سال کا طویل انتظار کرنا پڑا ہے۔

2004 میں وجود میں آنے والی اور کیلیفورنیا میں قائم ایک خلائی پرواز کمپنی ورجن گیلیکٹک اگلے ماہ اپنی چوتھی تجارتی خلائی پرواز شروع کرے گی جس میں امریکہ، برطانیہ اور پاکستان سے تین خلائی سیاح ہوں گے۔

دبئی میں مقیم نمیرہ سلیم خلا کا سفر کرنے والی پہلی پاکستانی بن کر تاریخ رقم کریں گی۔ قبل ازیں وہ بالترتیب 2007 اور 2008 میں شمالی اور جنوبی قطبین پر ملک کا سبز ہلالی پرچم لہرا چکی ہیں اور انہوں نے ایورسٹ کی پہاڑی چوٹی پر فضا سے چھلانگ لگانے والی پہلی ایشیائی ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

2011 میں حکومتِ پاکستان نے ان کی شاندار کامیابیوں کے اعتراف میں باضابطہ طور پر انہیں تمغۂ امتیاز سے نوازا۔ خواہشمند خلا نورد کو خلائی تحقیق کے نہ رکنے والے جذبے کے لیے 2016 میں فیمینا مڈل ایسٹ ویمن ایوارڈ بھی عطا کیا گیا۔

دبئی سے اتوار کو عرب نیوز سے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں انہوں نے کہا، " میں نے جنوری 2006 میں ورجن گیلیکٹک کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور اپنا ٹکٹ خریدا لیکن اس وقت کسے معلوم تھا کہ اس خواب کو حقیقت بنانے میں 17 سال لگ جائیں گے۔"

انہوں نے بات کو جاری رکھا، "گذشتہ ہفتے میں نے سبز ہلالی پرچم کو باضابطہ طور پر وصول کرنے کے لیے پاکستان کا دورہ کیا تھا جسے میں خلائی سفر کے دوران اپنے ساتھ لے کر جاؤں گی۔ سبز ہلالی پرچم کو بلند کرنا میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہوگا۔"

2021 میں لی گئی تصویر میں پاکستانی مہم جو نمیرہ سلیم (بائیں) دبئی، متحدہ عرب امارات میں ورجن گروپ کے بانی رچرڈ برانسن کے ساتھ ہیں۔ (تصویر بشکریہ: نمرہ سلیم)
2021 میں لی گئی تصویر میں پاکستانی مہم جو نمیرہ سلیم (بائیں) دبئی، متحدہ عرب امارات میں ورجن گروپ کے بانی رچرڈ برانسن کے ساتھ ہیں۔ (تصویر بشکریہ: نمرہ سلیم)

سلیم نے کہا کہ انہوں نے 2006 میں ٹکٹ کے لیے $200,000 ادا کیے تھے حالانکہ اسی پرواز کی موجودہ قیمت $450,000 ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا تربیتی سیشن نیو میکسیکو کے ایک نجی اسپیس پورٹ پر ان کے ساتھی امریکی اور برطانوی مسافروں کے ساتھ طے کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا، "ہمارے مشن میں مدار کو توڑنا اور فضا میں دوبارہ داخل ہونا شامل ہے۔ اس طرح کی پروازیں عموماً گراؤنڈ اپ راکٹ لانچ کے ساتھ نو سے 11 منٹ کا وقت لیتی ہیں۔ تاہم ہماری پرواز مختلف ہے کیونکہ ہمارے خلائی جہاز کو فضا میں چھوڑنے سے پہلے ایک بڑے مدر شپ کے ذریعے 50,000 فٹ کی بلندی تک لے جایا جائے گا، اس بلندی سے خلا تک پہنچنے کے لیے راکٹ موٹر انجن کو آگ لگائے گا۔

خلاء کے بارے میں ان کے شوقِ جنون کے سوال پر سلیم نے کہا کہ یہ ان کا بچپن کا خواب تھا جب سے ان کے فوجی اہلکار والد نے انہیں قطبی ستارے سے متعارف کرایا اور شمالی آسمان میں برجوں (ستاروں کے جھرمٹوں) کے بارے میں سکھایا۔

اس نے کہا۔ "میں ہمیشہ کہتی ہوں کہ خلا میرے ڈی این اے میں ہے۔ جب میں بہت چھوٹی تھی تو اپنے والدین سے کہتی تھی کہ میں کھلونوں سے نہیں کھیلنا چاہتی۔ میں خلا میں جانا چاہتی تھی اور جب میں 14 سال کی ہوئی تو والد نے مجھے میری پہلی دوربین خرید کر دی۔"

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو نئے خلائی ممالک جیسے کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی مثال کی پیروی کرنی چاہیے جو انسانی خلائی پرواز کے مواقع پیدا کرنے کے لیے تجارتی خلائی منصوبوں کا رخ کر رہے ہیں۔

انہوں نے ذکر کیا، "متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے نئے خلائی دور کو قبول کرنے اور خلائی سفر کو تجارتی بنانے میں متأثر کن پیش قدمی کی ہے،" اور مزید کہا کہ دونوں اس دور کے مواقع کو بروئے کار لائے اور ان کے فوائد لوگوں تک پہنچائے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، "متحدہ عرب امارات کے پہلے خلاباز اور سعودی عرب کے حالیہ مشن ان کی پوری اقوام کے لیے متأثر کن رہے ہیں جس میں مرد اور خواتین دونوں خلابازوں کو خلا میں بھیجنا شامل ہے۔

مستقبل کے ارادوں کے بارے میں سوال پر سلیم نے یونیورسٹی طلباء کے ساتھ مل کر تین یونٹ والے کیوب سیٹلائٹ کی تیاری کے منصوبے کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس اقدام کی قیادت ان کی غیر منافع بخش تنظیم سپیس ٹرسٹ نے کی۔

انہوں نے کہا، "'زیرو جی 2030' کے نام سے معروف یہ پروجیکٹ خلا کے لیے پہلے امن مشن کی نمائندگی کرتا ہے جہاں ہم یونیورسٹی کے دو شراکت داروں کے تعاون سے طلبہ کے بنائے ہوئے اس سیٹلائٹ کو مدار میں امن کے پیغامات کے ساتھ لے کر جائیں گے۔ ایک کینیا کی یونیورسٹی آف نیروبی ہے اور دوسری امریکہ کی ایریزونا یونیورسٹی ہے۔"

سلیم نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ نے عالمی خلائی صنعت میں ان کی خدمات کے اعتراف میں اس چھوٹے سیٹلائٹ کے لانچ کو سپانسر کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں