پاکستانی کمپنی'کیڑے کے فضلے' سے زمین کی زرخیزی اور بہتر پیداوار کے لیے کوشاں

پانی کا استعمال ایک تہائی تک کم، پیداوار اور پودوں کی صحت میں نمایاں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

انیقہ ستار کیاری نما مستطیل جگہوں پر کھاد کے بڑے ڈھیروں کے گرد گھوم پھر رہی ہیں جو گوبر سے بھری اور گھاس کے بڑے تنکوں سے ڈھکی ہوئی ہیں۔ انہوں نے جھک کر ایک ہاتھ کھاد کے ڈھیر میں داخل کیا اور قریب سے معائنہ کیا کہ اس میں کیا ہے: چند ہلتے ہوئے اور گوبر میں دھنسے ہوئے کیڑے۔

ورمی کمپوسٹنگ کیڑوں کے ذریعے کھاد بنانے اور کیڑوں کے غذائی اجزاء سے بھرپور فضلہ کو کھاد کے طور پر استعمال کرنے کا عمل ہے۔

ستار راولپنڈی میں پاکستانی کمپنی پاک آرگینک لائف کی شریک بانی ہیں جو ورمی کمپوسٹنگ (کیڑوں کے ذریعے کھاد بنانا) نامی عمل کے ذریعے غذائیت سے بھرپور نامیاتی کھاد تیار کرتے ہیں۔ اس عمل میں کیڑے گوبر کھا کر اپنے فضلے سے کھاد بنانے میں شامل ہیں۔ غذائیت سے بھرپور فضلہ — ورمی کمپوسٹ — جو کیڑے گوبر کھانے کے بعد خارج کرتے ہیں، فصل کی صحت اور پیداوار کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

زراعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے جس کا حصہ جنوبی ایشیائی ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار میں 21.4 فیصد ہے۔ یہ پاکستان کی 45 فیصد افرادی قوت کا ذریعۂ ملازمت ہے اور معیشت کے دیگر شعبوں کی ترقی میں اس کا حصہ ہے۔ پاکستان بزنس کونسل کی اس سال شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی غذائی فصلوں کی پیداوار گذشتہ برسوں میں جمود کا شکار رہی ہے جبکہ آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس سے غذائی عدم تحفظ کے خطرات لاحق ہیں۔

ستار کے مطابق ورمی کمپوسٹ سے کسانوں کو کافی فائدہ ہوتا ہے۔

ستار نے اس ہفتے عرب نیوز کو بتایا، "اس سے ان [کسانوں] کے پانی کے استعمال میں تقریباً ایک تہائی کمی آتی ہے اور ان کی سبزیوں، پھلوں اور جو کچھ بھی وہ پیدا کر رہے ہیں، اس کا ذائقہ بڑھ جاتا ہے۔"

پاکستانی کمپنی پاک آرگینک لائف کی شریک بانی انیقہ ستار 23 ستمبر 2023 کو راولپنڈی، پاکستان میں ورمی کمپوسٹنگ کے لیے کھلے میدان میں ڈالی گئی کھاد کو ٹریٹ کر رہی ہیں۔ (اے این فوٹو)
پاکستانی کمپنی پاک آرگینک لائف کی شریک بانی انیقہ ستار 23 ستمبر 2023 کو راولپنڈی، پاکستان میں ورمی کمپوسٹنگ کے لیے کھلے میدان میں ڈالی گئی کھاد کو ٹریٹ کر رہی ہیں۔ (اے این فوٹو)

فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق جنوبی ایشیائی ملک 155 کلو گرام فی ہیکٹر روایتی کھاد استعمال کرتا ہے اور اس کا کل رقبہ 23.3 ملین ہیکٹر ہے۔ کھاد ڈالنے کے لیے اتنے بڑے رقبے کے ساتھ ورمی کمپوسٹ روایتی کھادوں کے مقابلے سستا ہے: اس کی قیمت 45 روپے ($0.16) فی کلوگرام ہے جب کہ کھاد کی قیمت 300 روپے ($1.05) فی کلوگرام ہے۔

لیکن یہ عمل محنت طلب ہے اور اسے مکمل ہونے میں مہینوں لگتے ہیں۔

ورمی کمپوسٹنگ کا آغاز پہلے جانوروں کے گوبر کو ٹریٹ کرنے سے ہوتا ہے جسے ستار کی کمپنی راولپنڈی کے گردوپیش کے کسانوں سے جمع کرکے کھلے میدان میں پھینک دیتی ہے۔ کیاریوں میں پھیلانے اور اس میں کینچوے ڈالنے سے پہلے دو ہفتے تک کچرے پر پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے۔

ستار نے وضاحت کی کہ کیڑے گوبر کو کھاتے اور اسے بہت غذائیت سے بھرپور چیز میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "مکمل گوبر کو ورمی کمپوسٹ میں تبدیل کرنے میں تقریباً دو سے تین ماہ کا وقت لگتا ہے۔"

یہاں ڈھیروں کیڑے ہیں کیونکہ ستار کی کمپنی ان میں سے تقریباً 5000 کلو گرام کیڑوں کی مالک ہے۔ جو کسان ورمی کمپوسٹ بنانے کا اپنا کاروبار شروع کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، وہ انہیں کیڑے 5,000 روپے ($17.5) فی کلو کے حساب سے فروخت کرتی ہیں۔ ان کی کمپنی فی الحال دو ٹن سے زیادہ کیڑے ہر ماہ پال رہی ہے اور آئندہ مہینوں میں اس میں مزید اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

کمپنی کے زیادہ تر صارفین کا تعلق پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ، بشمول کراچی اور حیدرآباد کے شہروں سے ہے۔

پاکستانی کمپنی پاک آرگینک لائف کی شریک بانی انیقہ ستار 23 ستمبر 2023 کو راولپنڈی، پاکستان میں پلاسٹک کے تھیلے میں نامیاتی کھاد پیک کر رہی ہیں۔ (اے این فوٹو)
پاکستانی کمپنی پاک آرگینک لائف کی شریک بانی انیقہ ستار 23 ستمبر 2023 کو راولپنڈی، پاکستان میں پلاسٹک کے تھیلے میں نامیاتی کھاد پیک کر رہی ہیں۔ (اے این فوٹو)

ستار نے شیئر کیا۔ "ہمارے صارفین اسے [ورمی کمپوسٹ] خرید رہے ہیں۔ ان میں سے اکثر کے اپنے باغات ہیں یا ان کے پاس ایسی زمین ہے جس پر وہ خوراک، سبزیاں پیدا کر رہے ہیں۔ (ورمی کمپوسٹ کے استعمال سے) پیداوار میں تقریباً 10-15 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔"

اور اگر وہ ورمی کمپوسٹ استعمال کر رہے ہیں تو ستار نے کہا کہ ان کو اپنی فصلوں پر مختلف کھادیں استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

انہوں نے کہا۔ "یہاں ورمی کمپوسٹ میں ہمارے پاس ایک ہی کھاد میں پودوں کے تمام 17 غذائی اجزاء موجود ہیں۔ ہمیں کسی دوسرے آپشن پر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔"

راولپنڈی میں پودوں کی نرسری کے منیجر عباس علی گذشتہ دو تین ماہ سے اپنے پودوں اور پنیری کے لیے ورمی کمپوسٹ استعمال کر رہے ہیں۔

علی نے ایک گملے میں گوبھی کے بیج لگاتے ہوئے عرب نیوز کو بتایا، "اس وقت خدا کا شکر ہے ہم موسمی پودوں پر کھاد کا استعمال کر رہے ہیں اور نتیجہ بہت اچھا ہے۔"

پاکستان کی حکومت اسلام آباد میں نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (این اے آر سی) کے ذریعے کسانوں کو ورمی کمپوسٹنگ کے بارے میں تعلیم دے رہی ہے۔ یہاں، سائنس دان کسانوں کو ورمی کمپوسٹنگ اور کینچوے پالنے کے بارے میں تربیت دیتے ہیں۔

اسلام آباد میں این اے آر سی لینڈ ریسورسز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طارق سلطان نے عرب نیوز کو بتایا، "ہم اس ٹیکنالوجی کو اصل صارفین کے لیے فروغ دے رہے ہیں کیونکہ یہ گھریلو سطح کی انٹرپرینیورشپ ہے۔"

سلطان نے کہا، وہ ہمیشہ لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ چند کیڑوں کے ساتھ "چھوٹے پیمانے پر" ورمی کمپوسٹ شروع کریں اور پھر اسے آہستہ آہستہ بڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل عالمی حدت کو بھی کم کرتا ہے کیونکہ یہ کاربن ضبطی کے عمل کو متحرک کرتا ہے۔

اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں سلطان کے خیال میں ورمی کمپوسٹنگ کاروبار کے لیے بہت اچھی ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا، "یہ ایک بہت منافع بخش کاروبار ہے کیونکہ اس وقت کھاد کے نرخ بہت زیادہ ہیں۔ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو پاکستان میں فروغ دیا جائے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں