پاکستان کے نواز شریف کی جلاوطنی اور پھر وطن واپسی کی وجہ بننے والے واقعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کے تین بار وزیرِ اعظم رہنے والے نواز شریف کے وکیل اور پارٹی نے کہا ہے کہ لندن میں چار سال کی خود ساختہ جلا وطنی کے بعد وہ ہفتے کو وطن واپس آ رہے ہیں۔

73 سالہ شریف 1990 میں پہلی بار وزیر اعظم بنے تھے۔ انہیں 1999 کی بغاوت میں معزول کر دیا گیا جس سے وزیرِ اعظم کے طور پر ان کی دوسری مدت ختم ہو گئی اور 2007 تک وہ خود ساختہ جلاوطنی میں چلے گئے۔

یہاں ان واقعات کی ترتیب پیش کی جاتی ہے جو ان کی جلاوطنی کے آخری سالوں اور پھر واپسی تک لے جاتے ہیں:

اپریل 2016: پاناما کی ایک قانونی فرم کی لاکھوں دستاویزات میڈیا کو لیک ہو گئیں۔ جن آف شور کمپنیوں کی لندن میں جائیدادیں ہیں، کچھ نام نہاد پانامہ پیپرز شریف خاندان کی ان میں شمولیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ 2013 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد تیسری بار وزیرِ اعظم بننے والے شریف غلط کام کرنے سے انکار کرتے ہیں لیکن ان کے خلاف پاکستان میں ان کے اہم حریف اور کرکٹر سے سیاست دان بننے والے عمران خان نے مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔

28 جولائی 2017: سپریم کورٹ نے نواز شریف کو اپنے بیٹے کی ملکیت والی کمپنی سے آمدن ظاہر نہ کرنے پر بے ایمان قرار دیتے ہوئے وزارتِ عظمیٰ سے نااہل قرار دے دیا۔ شریف جو بھارت کے ساتھ تعلقات سمیت پالیسی اختلافات پر طاقتور فوج سے لڑ پڑے تھے، اسی دن عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ وہ جلد ہی اپنی اہلیہ کی دیکھ بھال کے لیے لندن روانہ ہو گئے جو وہاں علاج کروا رہی تھیں۔

13 اپریل 2018: سپریم کورٹ نے اپنی نوعیت کے اولین فیصلے میں شریف پر سیاست میں حصہ لینے یا کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے پر تاحیات پابندی عائد کردی۔

5 جولائی 2018: ایک انسدادِ بدعنوانی عدالت نے شریف کو غیر حاضری کے جرم میں 10 سال قید کی سزا سنائی۔ وہ اور ان کی بیٹی مریم نواز جنہیں حامی ان کے سیاسی وارث کے طور پر دیکھتے ہیں، کو مجرم قرار دیا گیا کہ وہ اس آمدنی کا ذریعہ ثابت کرنے میں ناکام رہے جو 1990 کے عشرے میں لندن میں جائیدادیں خریدنے کے لیے استعمال ہوئی۔

12 جولائی، 2018: نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز اپنے آبائی شہر اور سیاسی گڑھ لاہور واپس پہنچے اور انہیں ائیرپورٹ پر ہی گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔

25 جولائی 2018: شریف کے مرکزی حریف عمران خان نے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ قدامت پسند خان کو سویلین حکومت کی قیادت کے لیے فوج کی حمایت حاصل تھی۔ خان اور فوج دونوں اس کی تردید کرتے ہیں۔

24 دسمبر 2018: شریف کو بدعنوانی کے ایک اور کیس میں سات سال قید اور 25 ملین ڈالر جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں اسٹیل مل کی ملکیت سے منسلک الزامات سیاسی تھے۔

19 نومبر 2019: عدالت کی جانب سے طبی علاج کے لیے جانے کی اجازت ملنے کے بعد شریف اس شرط پر لندن روانہ ہو گئے کہ وہ صحت یاب ہونے پر واپس آئیں گے۔ مگر وہ واپس نہیں آئے۔

10 اپریل، 2022: سکیورٹی تقرریوں پر فوج کے ساتھ اختلافات کے بعد پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے خان کو وزیرِ اعظم کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف وزیرِ اعظم بن گئے۔

9 مئی 2023: انسدادِ بدعنوانی ایجنسی نے خان کو گرفتار کیا جس کے نتیجے میں ان کے حامیوں کی طرف سے پرتشدد مظاہرے ہوئے۔ ان کے اور فوج کے درمیان مہینوں کی کشیدگی کی وجہ سے جوہری ہتھیاروں سے لیس پاکستان کے بارے میں تشویش میں اضافہ ہوا جبکہ یہ ریکارڈ مہنگائی سے دوچار ہو گیا۔

9 اگست 2023: شہباز شریف کی حکومت نے اپنی مدت پوری کرتے ہوئے اقتدار ایک نگران انتظامیہ کو سونپ دیا جو عام انتخابات کی نگرانی کرے گی۔

21 ستمبر 2023: الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ وہ جنوری 2024 کے آخر تک عام انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے۔

19 اکتوبر 2023 — ایک عدالت نے حکام کو شریف کو وطن واپسی پر گرفتار کرنے سے روک دیا اور ان کے وکیل کہتے ہیں کہ وہ اپنی سزاؤں کے خلاف اپیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کی پارٹی نے کہا ہے کہ اگر ان کی سزائیں ختم کر دی گئیں تو وہ عام انتخابات میں نشست کے لیے لڑیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں