اسرائیل کی غزہ پر بمباری، پاکستان میں فلسطینی اپنے عزیزوں کے لیے پریشان

سات اکتوبر سے غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 8,400 سے زائد افراد ہلاک: فلسطینی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اسرائیل کی جانب سے اس وقت غزہ پر مسلسل بمباری جاری ہے تو پاکستان میں موجود فلسطینیوں نے کہا ہے کہ وہ ایک اذیت ناک کیفیت میں ہیں اور گنجان آباد علاقے میں محصور اپنے دوستوں اور خاندانوں کی خیریت کے بارے میں مسلسل فکرمند ہیں۔

اسرائیل نے غزہ پر بموں کی بارش کی ہے جس کے بارے میں اس نے کہا ہے کہ یہ حماس کی طرف سے 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی پر حکمران گروپ کے اچانک حملے کا جواب ہے۔

اسرائیل کا بیان ہے کہ اس حملے میں 1300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور سینکڑوں کو حماس کے جنگجوؤں نے یرغمال بنا لیا۔ حماس کا بیان ہے کہ یہ حملہ اسرائیلی افواج کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ کی بے حرمتی اور آباد کاروں کے تشدد میں اضافے کا جواب ہے۔

 26 اکتوبر 2023 کو ایک منہدم عمارت سے دھواں اور آگ نکل رہی ہے جبکہ غزہ شہر پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے درمیان لوگ جمع ہیں۔ (اے ایف پی)
26 اکتوبر 2023 کو ایک منہدم عمارت سے دھواں اور آگ نکل رہی ہے جبکہ غزہ شہر پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے درمیان لوگ جمع ہیں۔ (اے ایف پی)

اس کے بعد اسرائیل نے فلسطینی شہریوں کو خوراک، ادویات اور امدادی اشیاء تک رسائی کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ دریں اثناء تل ابیب نے علاقے میں اہداف پر حملے جاری رکھے ہیں جس سے ہزاروں عمارات ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں جبکہ دنیا جنگ بندی کا بندوبست کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ سات اکتوبر سے غزہ پر اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں 8,400 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں خواتین، بچے اور بوڑھے شامل ہیں۔

اپنے گھر سے خوراک کی فراہمی کا کاروبار چلانے والی فلسطینی خاتون بسمہ المشرقہ نے غزہ میں بڑھتے ہوئے بحران کے پیشِ نظر "بے خواب راتوں" میں مبتلا ہونے کے بارے میں بات کی۔ اسلام آباد کی رہائشی المشرقہ کا تعلق مغربی کنارے کے شہر الخلیل سے ہے۔

انہوں نے گذشتہ ہفتے عرب نیوز کو بتایا: "یہ ٹھیک ہے کہ ہم یہاں ہیں اور بہت دور ہیں لیکن یقین کریں ہم سو نہیں سکتے، ہم کھا پی نہیں سکتے، کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ ہم پریشان ہیں اور ہم ٹی وی کو آن رکھتے ہیں۔ ہم ہمیشہ وہاں کے لوگوں سے رابطے میں رہنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ہم کوئی اچھی خبر سننا چاہتے ہیں کہ وہ ابھی تک محفوظ ہیں، وہ ابھی تک زندہ ہیں۔"

فلسطینی وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ غزہ میں ایک چرچ کے احاطے میں پناہ لینے والے متعدد بے گھر افراد گذشتہ ہفتے اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے۔

یہ چرچ الاہلی عرب ہسپتال سے زیادہ دور نہیں ہے جسے 17 اکتوبر کو ایک مہلک فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ حماس نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ اس نے بڑے پیمانے پر بمباری کی مہم کے دوران ہسپتال کو نشانہ بنایا۔ فلسطینی حکام کے مطابق اس حملے میں کم از کم 471 افراد ہلاک ہوئے۔

حالیہ اسرائیلی حملوں میں متعدد عزیزوں کو کھو دینے والی المشرقہ نے کہا کہ غزہ میں رشتہ داروں اور دوستوں سے رابطہ کرنے میں کسی بھی تاخیر سے وہ ان کی حفاظت کے حوالے سے خوفزدہ ہو جاتی ہیں۔

اس نے کہا "اگر انہیں دیر ہو جائے تو ہم بہت ڈرتے ہیں کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ کچھ ہو گیا ہے۔ میری سہیلی کا پورا خاندان ہے جس میں چار بچے اور شوہر ہیں اور وہ خاتون۔ ان کی عمر صرف 25 سے 26 سال تک ہے اور وہ، اس کا شوہر، بچے اور ساس سب اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے۔"

انہوں نے کہا غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں جاری تشدد سے بچے اور خواتین سمیت عام شہری متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، "یہ کوئی عام بات نہیں ہے، اس دفعہ یہ الگ بات ہے۔"

پاکستان میں فلسطینی مشن کے نائب سربراہ نادر الترک جن کا تعلق غزہ سے ہے، کہتے ہیں کہ ان کی والدہ، بہنیں اور سسرالی افراد اس وقت شدید اسرائیلی بمباری کے درمیان شہر میں مقیم ہیں۔

انہوں نے بدھ کے روز عرب نیوز کو بتایا، "گذشتہ دو ہفتوں میں ہمیں انہیں ٹیکسٹ کرنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ شاید ہر چار یا پانچ دن بعد ہمیں ایک خط ملتا ہے۔ صرف اتنا لکھا ہوتا ہے، 'الحمدللہ، ہم ابھی تک زندہ ہیں'۔

اسلام آباد میں ایک فلسطینی تاجر اور صحافی ڈاکٹر فواد احمد جن کا تعلق ہیبرون سے ہے، نے المشرقہ کی بات سے اتفاق کیا کہ اس بار غزہ میں "بہت زیادہ مخالف اور پریشان کن صورتِ حال" ہے۔

احمد نے کہا کہ وہ غزہ میں رہنے والے اپنے وسیع خاندان اور دوستوں کے بارے میں فکرمند ہیں۔ انہوں نے کہا، فلسطینی مسجدِ اقصیٰ کے لیے لڑ رہے ہیں جو نہ صرف ان کی بلکہ دنیا بھر کے ہر مسلمان کی ہے۔

انہوں نے گذشتہ ہفتے کہا، "مسلم دنیا کے لیے میرا پیغام یہ ہے کہ آج ہم مصیبت میں ہیں تو کل آپ بھی ہو سکتے ہیں اس لیے براہ کرم غزہ کی مدد کریں، وہاں کے انسانوں کی مدد کریں۔"

غزہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینی طالبِ علم سمیر عدنان جو اس وقت اسلام آباد کی کامسیٹس یونیورسٹی میں الیکٹریکل انجینئرنگ پروگرام میں ماسٹرز کے دوسرے سال میں ہیں، نے کہا کہ اسرائیل نے نہ صرف غزہ پر حملہ کیا بلکہ علاقے کو پانی، خوراک اور بجلی کی سپلائی بھی منقطع کر دی۔

انہوں نے دنیا سے آگے آنے اور "انسانیت کی خاطر" غزہ کو بچانے کی اپیل کی۔

انہوں نے گذشتہ ہفتے کہا، "میں غزہ کی صورتِ حال سے بہت پریشان ہوں۔ میرے شہر، میرے خاندان، دوست، لوگ، سبھی پر اور خاص طور پر بچوں پر اسرائیلی افواج کے حملے ہو رہے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں