کیا پی آئی اے کی یورپ کے لیے پروازیں اڑان بھرنے کے لیے تیار ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یورپی یونین کا ایک وفد اس بات کا تعین کرنے کے لیے اگلے ہفتے پاکستان کا دورہ کر رہا ہے کہ کیا پی آئی اے کی یورپ کے لیے پروازیں اڑان بھرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں.

اس طرح کم از کم یورپی وفد کے متوقع دورہ پاکستان سے پی آئی اے کی پروازوں پر تین سال سے زائد عرصے سے عائد پابندی ہٹنے کی امید پیدا ہوئی ہو گئی ہے۔

یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ای اے ایس اے) نے گذشتہ روز بتایا کہ یورپی کمیشن اور انکی ایجنسی کے نمائندوں پر مشتمل ایک وفد اگلے ہفتے پاکستان کا دورہ کرنے والا ہے. اس طرح یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی یورپی براعظم کے بڑے حصے کیلیے پروازوں پر عائد پابندی بالآخر اٹھا لی جائے گی۔

واضح رہے کہ مئی 2020 میں کراچی میں ہونے والے افسوسناک فضائی حادثے کے بعد لگائی گئی یہ پابندی پائلٹوں کے لائسنسنگ کے معاملے سے منسلک تھی. یہ تنازعہ اس وقت سامنے آیا جب ملک کے سابق وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ تیس فیصد پاکستانی پائلٹ نے ’’مشکوک‘‘فلائنگ پرمٹ دھوکہ دہی کے ذریعے حاصل کئے ہیں۔ وزیر موصوف نے تو بعد میں یہ بیان واپس لے لیا،لیکن یورپی ایجنسی پی آئی اے کی پروازوں پر غیر معینہ مدت تک عائد کر دی۔

چار رکنی یورپی وفد اگلے ہفتے اپنے دورے کے دوران قومی ایئر لائن کی تیاری کا موقع پر جائزہ لے گا جو کہ حفاظتی پروٹوکول کے طور پر یورپی کمیشن اور ایوی ایشن ایجنسی کا ایک لازمی حصہ ہے۔

یورپی ایجنسی کی ترجمان، ویرا تاویرس نے ای میل پر عرب نیوز کو تصدیق کی کہ یورپی کمیشن اور EASA کا ایک مشترکہ مشن اگلے ہفتے پاکستان کا دورہ کرے گا۔ تاہم انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔

ادھر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (PCAA) کے ایک اہلکار نے تصدیق کی کہ موقع پر ہونے والا جائزہ وفد کے ایجنڈے کے تحت ایک اہم سرگرمی ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پی آئی اے کے حفاظتی اقدامات کی جانچ پڑتال کی جانی مقصود ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال جنوری میں، EASA نے بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (ICAO) کے ایک آڈٹ کا حوالہ دیتے ہوئے سول ایوی ایشن کے سرٹیفیکیشن اور نگرانی کی صلاحیتوں میں فقدان کی نشاندہی کے باعث پی آئی اے پر پابندی ہٹانے سے انکار کر دیا تھا۔

تاہم، چند ماہ بعد جولائی میں، EASA نے کہا کہ پاکستان میں سول ایوی ایشن کے حکام کے ساتھ اس معاملے پر تعمیری بات چیت جاری ہے۔

اس پابندی سے ہٹ کر پی آئی اے پہلے ہی شدید مالیاتی بحران سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر اس کی پروازیں معطل کی گئی تھی اور نگران حکومت کی جانب سے اس کی نج کاری کے لئے دباؤ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں