غزہ میں اسرائیلی بمباری کے دوبارہ آغاز پر ’مایوسی‘ ہے: پاکستان

ایران نے غزہ میں دوبارہ جنگ مسلط کرنے پر ’سنگین نتائج‘ کی دھمکی دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے جمعے کو کہا کہ عالمی کمیونٹی کو ’اسرائیل کی فلسطینی عوام کے خلاف دہشت گردی کی مہم کو ختم کرنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات لینے چاہییں۔‘

دفتر خارجہ کی ترجمان نے پریس بریفنگ میں کہا: ’پاکستان کو اس بات پر مایوسی ہے کہ عارضی وقفے کے بعد اسرائیل نے فلسطینیوں پر دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں۔‘

ان کے بقول جنگ میں عارضی وقفے نے غزہ کے لوگوں کو نہایت اہم اور ضروری مہلت فراہم کی تھی اور قیدیوں کا تبادلہ اسی وجہ سے ممکن ہوا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا: ’پاکستان اپنے موقف کو دہراتا ہے کہ ایک پائیدار اور دیرپا سیزفائر ہونا چاہیے تاکہ وسیع پیمانے پر انسانی بنیادوں پر امداد اور زخمیوں کی طبی مدد کی جاسکے اور اسرائیلی قابض فورسز کے جارحانہ حملوں کی وجہ سے بےدخل ہونے والوں کو پناہ مل سکے۔‘

ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا: ’ہمیں اسرائیل کی مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی جارحیت اور فلسطینیوں کے خلاف ظالمانہ کارروائیوں پر شدید تشویش ہے۔ ہم جنین پناہ گزین کیمپ پر اسرائیل کے حملوں، پرتشدد کارروائیوں اور قیدیوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ جابرانہ رویے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔‘

ایران کی ’سنگین نتائج‘ کی دھمکی

ایران نے جمعے کو غزہ پر اسرائیل کی جانب سے دوبارہ جنگ مسلط کرنے پر’سنگین نتائج‘ کی دھمکی دے دی۔

ایران کے وزیر خارجہ حسین عبداللہیان نے ایکس پر لکھا: ’واشنگٹن اور تل ابیب کی جنگ کا مطلب ہے کہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں نئے سرے سے نسل کشی ہے۔ لگتا ہے کہ انہوں نے دوبارہ جنگ شروع کرنے کے سنگین نتائج کے بارے میں سوچا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں