انڈونیشیا میں پھنسے پی آئی اے کے دو میں سے ایک طیارہ پاکستان پہنچ گیا

پی آئی اے کو دو کروڑ 60 لاکھ ڈالر لیزنگ کمپنی کو ادا کرنا ہیں، ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کے بعد ایک طیارے کو واپسی پرواز کی اجازت ملی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

انڈونیشیا میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے دو پھنسے ہوئے طیاروں میں سے ایک ایئربس اے 320 اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر واپس آگیا۔

تفصیلات کے مطابق طیارہ ایئر بس اے 320 (رجسٹریشن نمبر اے پی۔ڈی ایل جی) نے دو پائلٹس اور عملے کے ساتھ جکارتہ سے اڑان بھری، اور بنکاک سے تیل بھروانے کے بعد طیارہ اسلام آباد ایئر پورٹ پر تقریباً 10 بج کر 45 منٹ پر اترا۔

پی آئی اے کی سینئر انتظامیہ اس موقع پر ایئر پورٹ پر موجود تھے، یہ طیارہ دوبارہ پی آئی اے کے بیڑے میں شامل ہو گیا ہے، انڈونیشیا میں پھنسے ایک اور طیارے ایئربس اے 320 کے دو دن کے اندر پاکستان پہنچنے کی توقع ہے۔

پی آئی اے کو 2 کروڑ 60 لاکھ ڈالر لیزنگ کمپنی کو ادا کرنا ہیں، ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کے بعد ایک طیارے کو جانے کی اجازت دی گئی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کو انڈونیشیا میں پھنسے ہوئے دو ایئربس اے 320 طیاروں میں سے ایک مل جائے گا کیونکہ پی آئی اے نے اس مقصد کے لیے لیزنگ کمپنی کو ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر ادا کردیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سیکریٹری ایوی ایشن کی سربراہی میں پی آئی اے کا اعلیٰ سطح کا وفد اکتوبر میں معاملہ حل کرنے کے لیے انڈونیشیا گیا تھا۔

پی آئی اے ترجمان نے بتایا تھا کہ پی آئی اے کے دو ایئربس اے 320 طیارے ستمبر 2021 سے جکارتہ میں لیزنگ کمپنی کے ساتھ تنازع کی وجہ سے کھڑے ہیں۔

پی آئی اے نے ابتدائی طور پر 2021 میں ایئربس اے 320 طیارے لیزنگ کمپنی کو واپس کر دیے تھے، تاہم لیز پر دینے والی کمپنی نے یہ کہتے ہوئے طیارے کو واپس لینے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ معاہدے میں بیان کردہ مخصوص معیار پر پورا نہیں اترتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں