مشرق وسطیٰ

عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف کیس کی حمایت کرتے ہیں: پاکستان

’’پاکستان جنوبی افریقہ کی جانب سے فلسطینی عوام کے حق میں اسرائیل کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کے عمل کو سراہتا ہے۔‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے جمعرات کو کہا ہے کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق میں اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں جنوبی افریقہ کی درخواست کی حمایت کرتا ہے۔

جمعرات کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ ’پاکستان جنوبی افریقہ کی جانب سے غزہ کے فلسطینی عوام کے حق میں اسرائیل کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کو سراہتا ہے، پاکستان اس حوالے سے جنوبی افریقہ کی حمایت کرتا ہے اور ہم جنوبی افریقہ کے اس قانونی عمل کو بروقت سمجھتے ہیں۔‘

جنوبی افریقہ نے 29 دسمبر 2023 کو انصاف کی عالمی عدالت میں اسرائیل کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ عدالت یہ واضح کرے کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینی گروپ حماس کے خلاف کریک ڈاؤن کی آڑ میں مبینہ نسل کُشی کر رہا ہے۔

یورپی ملک نیدرلینڈز کے شہر دا ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف میں اس کیس کی دو روزہ سماعت آج سے شروع ہو گئی ہے، جس میں دنیا بھر سے آئے ججز جنوبی افریقہ اور اسرائیل کے دلائل سنیں گے اور اپنا ابتدائی فیصلہ سنائیں گے۔

اس مقدمے میں جنوبی افریقہ نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عارضی یا قلیل مدتی اقدامات کرے جس میں اسرائیل کو غزہ میں اپنی فوجی مہم روکنے کا حکم دیا جائے، غزہ کو معاوضے کی پیشکش کی جائے اور تعمیر نو کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں۔

دفتر خارجہ میں پریس بریفنگ کے دوران ترجمان ممتاز زہرا بلوچ سے سوال کیا گیا کہ کیا عالمی عدالت انصاف فلسطین کو انصاف دلانے میں کامیاب ہو گی؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ’عالمی عدالت نے بین الاقوامی قوانین کے حوالے سے فیصلہ دینا ہے جبکہ اس فیصلے پر عمل درآمد کروانا اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی ذمہ داری ہے۔‘

بقول ممتاز زہرا بلوچ: ’اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل اس جنگ کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ پاکستان نے بار ہا سکیورٹی کونسل پر زور دیا ہے کہ فلسطین پر جنگ بند کروائی جائے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم غزہ میں فوری جنگ بندی اور فلسطینیوں کے قتل عام کو رکوانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم فلسطین کے دو ریاستی حل پر یقین رکھتے ہیں۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں