مہر گڑھ [بلوچستان] کے آثار ونوادرات کے بچاؤ کی خاطر خطیر امریکی امداد کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

’’امریکہ بلوچستان کے ثقافتی ورثے کو اہمیت دیتا ہے۔ مہر گڑھ کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرنا امریکی عزم کا ثبوت ہے۔ پاکستان بھر میں ثقافتی ورثہ سے متعلق 33 منصوبوں کے لئے 80 لاکھ ڈالر سے زائد فنڈز خرچ کئے گئے ہیں۔‘‘

اس امر کا اظہار پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے بلوچستان میں امریکی سفیر کی جانب سے فنڈ برائے بحالی تاریخی وثقافتی ورثہ (اے ایف سی پی) کے پہلے منصوبے کے آغاز پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان علی مردان خان ڈومکی بھی موجود تھے۔

اس تاریخی اقدام کے تحت تین لاکھ بیس ہزار ڈالرز سے زائد رقم مختص کی گئی ہے، جو کہ مہر گڑھ تہذیب کے نیئولیتھک دور کے آثار اور دیگر تاریخی نوادرات کی حفاظت کے علاوہ کوئٹہ میں قائم مہرگڑھ میوزیم آف بلوچستان کے انصرام کو مزید بہتر بنانے کے لئے استعمال کی جائے گی۔

سفارت خانے کے پریس ریلیز کے مطابق امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے مزید کہا "یہ کوشش اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ امریکہ بلوچستان کے ثقافتی ورثے کو اہمیت دیتا ہے اور اسکی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرنا ہمارے عزم کا ثبوت ہے۔”

امریکی حکومت کی جانب سے پاکستان بھر میں ثقافتی ورثہ سے متعلق 33 منصوبوں کے لیئے 80 لاکھ ڈالر سے زائد فنڈز خرچ کئے گئے ہیں۔ مذکورہ منصوبوں میں صوبہ سندھ کے ورن دیو مندر، فریئر ہال، نسروانجی بلڈنگ اوریونیسکو ورلڈ ہیریٹیج کے مقام مکلی کے تاریخی قبرستان میں واقع سلطان ابراہیم اور امیر سلطان محمد کے مقبروں کی بحالی شامل ہے۔

منصوبے کی افتتاحی تقریب میں کراچی میں امریکی قونصل جنرل کانریڈ ٹربل، بلوچستان حکومت کے محکمہ ثقافت کے اعلیٰ حکام، سیز کے شریک بانی ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری اور ڈاکٹر عاصمہ ابراہیم نے شرکت کی، جبکہ تقریب میں مہرگڑھ کی تاریخ اور مہر گڑھ میوزیم آف بلوچستان پر روشنی ڈالی گئی۔

مہر گڑھ میوزیم آف بلوچستان کا قیام ستمبر 2022 کو عمل میں آیا، جو کہ خطے کی ابتدائی تاریخ کے متعلق آگاہی دیتا ہے۔ مہر گڑھ کے نوادرات کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی ملی ہے جو کہ نیو یارک میں میٹرو پولیٹن میوزیم آف آرٹ اور پیرس کے میوسی گیمے میوزیم میں نمائش کے لئے رکھے گئے ہیں، جو کہ پاکستان کی آثار قدیمہ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

اس امریکی گرانٹ سے ملنے والی مالی اعانت سے میوزیم کی تزئین ونمائش کی بہتری اور بلوچستان ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی کے عملے کی تربیت اور انکی آبادی تک رسائی میں اضافہ ہو گا۔ اے ایف سی پی کا یہ منصوبہ حکومت بلوچستان کے محکمہ ثقافت اور سندھ ایکسپلوریشن اینڈ ایڈونچر سوسائٹی کے اشتراک سے نافذ العمل ہوا ہے، جبکہ یہ منصوبہ خطے کے ثقافتی منظر نامے کو محفوظ رکھنے کی کاوشوں میں معاونت فراہم کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں