رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی ترسیلات زر میں سعودی عرب بدستور سرِفہرست

ابتدائی سات ماہ کے دوران 3.8 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول: سٹیٹ بینک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سٹیٹ بینک کی جانب سے پیر کو اشتراک کردہ اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب رواں مالی سال کے سات مہینوں میں پاکستان کو غیر ملکی ترسیلات کا سب سے بڑا ذریعہ رہا جس میں جولائی 2023 سے جنوری 2024 تک جنوبی ایشیائی ملک کو موصولہ کل 15.8 بلین ڈالر میں ریاض کا حصہ 3.8 بلین ڈالر کا رہا۔

سعودی عرب پاکستانی مزدوروں کے لیے سرِفہرست مقامات میں سے ایک ہے جو اپنے اہلِ خانہ کو گھر پر رقم بھیجتے ہیں۔ محنت کشوں کی ترسیلاتِ زر اسلام آباد کے لیے اہم ہیں کیونکہ موجودہ معاشی بحران کی بنا پر غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کم سطح پر ہیں اور ملکی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہے جس کی وجہ سے یہ عالمی قرض دہندگان اور دوست ممالک سے مالی امداد لینے پر مجبور ہو گیا ہے۔

سٹیٹ بینک نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ پاکستان کو جنوری 2024 کے دوران 2.4 بلین ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں جو دسمبر 2023 کے مقابلے میں 0.6 فیصد زیادہ اور سال بہ سال کی بنیاد پر 26.2 فیصد زیادہ ہیں۔ سٹیٹ بینک نے کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران پاکستان کو مجموعی طور پر 15.8 بلین ڈالر موصول ہوئے جن میں سعودی عرب سے ترسیلاتِ زر 3.8 بلین ڈالر، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے 2.7 بلین ڈالر جبکہ دیگر خلیجی ممالک سے پاکستانی کارکنان نے اسی عرصے میں 1.7 بلین ڈالر بھجوائے۔

سٹیٹ بینک نے ایک پریس ریلیز میں کہا، "جنوری 2024 کے دوران ترسیلاتِ زر کی آمد زیادہ تر سعودی عرب (587.3 ملین ڈالر)، متحدہ عرب امارات (407.6 ملین ڈالر)، برطانیہ (362.1 ملین ڈالر) اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ (283.4 ملین ڈالر) سے ہوئی۔"

پاکستان کو گذشتہ مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 27.3 بلین ڈالر موصول ہوئے جس میں سعودی عرب سے 6.5 بلین ڈالر، متحدہ عرب امارات سے 4.6 بلین ڈالر، دیگر خلیجی ممالک سے 3.2 بلین ڈالر، یورپی یونین کے ممالک سے 3.1 بلین ڈالر اور امریکہ سے 3.2 بلین ڈالر شامل ہیں۔ جنوبی ایشیائی ملک نے مالی سال 2022 میں 31.3 بلین ڈالر کی سب سے زیادہ ترسیلاتِ زر ریکارڈ کیں۔

عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کے ریسرچ کے سربراہ طاہر عباس نے کہا کہ حکومت نے غیر قانونی رقم کی منتقلی کے نظام مثلاً حوالہ اور ہنڈی کے خلاف جو حالیہ کریک ڈاؤن کیا ہے، اس کی وجہ سے ترسیلاتِ زر کی آمد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

عباس نے عرب نیوز کو بتایا، "حکام کی جانب سے غیر قانونی چینلز کے خلاف کارروائی کی وجہ سے آمد میں بہتری آ رہی ہے۔"

پاکستان نے رواں سال کے لیے کارکنان کی ترسیلاتِ زر کا ہدف 28.5 بلین ڈالر مقرر کیا ہے۔

عباس کا خیال ہے کہ پاکستان میں ترسیلاتِ زر میں مزید اضافہ دیکھنے میں آئے گا کیونکہ عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے اسلامی تہوار رواں مالی سال کے اندر ہی آئیں گے۔

انہوں نے وضاحت کی، "موجودہ مالی سال کی دوسری ششماہی موسمی اثرات کی وجہ سے بہت بہتر ہو گی کیونکہ کارکنان روایتی طور پر اپنے گھر والوں کو زیادہ ترسیلات بھیجتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں