پاکستان کاسی پیک کے تحت ریلوےکی بہتری،خشک بندرگاہ کےلیے6.7 بلین ڈالرکا ترقیاتی منصوبہ

یہ منصوبہ تیز رفتار نقل و حمل کی راہداری کے ذریعے علاقائی شراکت داروں کو ملائے گا: وزارتِ منصوبہ بندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وزارتِ منصوبہ بندی کے تحت کام کرنے والی ایک کلیدی پاکستانی کمیٹی نے بدھ کے روز اقتصادی نگرانی کے اعلیٰ ادارے کی منظوری کے لیے ایک ترمیم شدہ منصوبے کی تجویز پیش کی۔ یہ تجویز 6.7 بلین ڈالر کے اخراجات سے پاکستان ریلویز کی موجودہ مین لائن (ایم ایل-ون) کی اپ گریڈیشن اور ڈرائی پورٹ کے قیام کے لیے ہے۔

ایم ایل-ون ریلوے اپ گریڈ اربوں ڈالر کی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت سب سے بڑے منصوبوں میں سے ایک ہے جس میں کراچی تا پشاور ریلوے ٹریک کی بحالی اور درجہ بندی میں بہتری لانا شامل ہے۔

اس کے پیمانے اور پاکستان کے بنیادی ڈھانچے اور علاقائی اقتصادی ربط سازی پر اس کے جو نمایاں اثرات متوقع ہیں، ان کی بنا پر اسے سی پیک اقدام کے سنگِ بنیاد کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

وزارتِ منصوبہ بندی پاکستان کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق سماجی و اقتصادی ترقی کے منصوبوں کا جائزہ لینے والی مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کو ایم ایل ون پر ایک نئی دستاویز پیش کی کیونکہ پاکستان اور چینسی پیک کے دوسرے مرحلے پر بات چیت کر رہے ہیں۔

وزارت کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا، "[ایم ایل-ون] منصوبے کو فریم ورک معاہدے کے تحت غیر ملکی فنڈنگ کے ذریعے مالی اعانت فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پاکستان ریلوے کا بنیادی ڈھانچہ ایک صدی سے زیادہ پرانا ہے اور اپنی افادیت کی مدت پوری کر چکا ہے۔"

اس میں مزید کہا گیا، "اصل ٹریک جو 19 ویں صدی کے آخر اور 20 ویں صدی کے اوائل میں بنایا گیا تھا، وہ کم رفتار اور کم ایکسل بوجھ کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا جو باربرداری کے موجودہ تقاضوں اور مطلوبہ رفتار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ حکومتِ پاکستان کا مقصد جی ڈی پی کی نمو میں مدد کے لیے ضروری لاجسٹک سہولیات کی تعمیر کرنا ہے اور اس سلسلے میں یہ پاکستان ریلوے نیٹ ورک کو اپ گریڈ کرنے اور جدید بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔"

وزارت نے کہا کہ پاکستان ریلویز قومی خزانے پر ایک مالی بوجھ بن گیا تھا۔ اور مزید کہا، 6.7 بلین ڈالر کا منصوبہ اسے مالی اور سماجی طور پر زیادہ قابلِ عمل ادارہ بھی بنا سکتا ہے۔

وزارت نے اپنا نکتۂ نظر برقرار رکھتے ہوئے کہا، یہ منصوبہ نقل و حمل کے اخراجات میں کمی، نقل و حرکت میں حفاظت اور دیہی علاقوں اور شہری مراکز میں واقع بازاروں کے درمیان مؤثر رابطے کو یقینی بنا سکتا ہے۔

مزید برآں یہ مختلف اقتصادی مراکز بشمول فضائی، سمندری اور خشک بندرگاہوں کے درمیان سڑک اور ریل نیٹ ورکس کو مربوط کرے گا جبکہ بڑے علاقائی تجارتی شراکت دار ممالک کو ملانے والی نقل و حمل کی تیز رفتار اور بڑی صلاحیت کی حامل راہداریاں تشکیل دے گا۔

وزارت نے بیان میں کہا، "حکومت کا مقصد حاصل کرنے کے لیے ریلوے نظام کی ایک بڑی اپ گریڈیشن کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جس میں مسافر اور مال بردار ٹرینوں کی رفتار میں اضافہ، مین لائن سیکشنز کے ٹریکس کو دوگنا کرنا اور لائن کی گنجائش میں اضافہ کرنا شامل ہے تاکہ وسطی ایشیائی ریاستوں، چین اور دیگر ہمسایہ ممالک سے ریل رابطوں کو آسان بنایا جا سکے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں