’’عمران خان کا قید تنہائی میں ہونے کا موقف بھی غلط ہے‘‘، جیل کی تصاویر جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وفاقی حکومت نے بانی پاکستان تحریک انصاف ’’پی ٹی آئی‘‘ عمران خان تک ان کے وکلا اور اہلخانہ کو رسائی نہ دینے کی تردید کرتے ہوئے اڈیالہ جیل میں ان کے سیل اور سہولیات کی تصاویر بھی جاری کردیں۔

حکومت نے بانی پی ٹی آئی کے مؤقف کی تردید میں سپریم کورٹ میں اضافی دستاویزات جمع کروا دیں جن کے ساتھ بانی پی ٹی آئی کی جیل میں وکلا سے ملاقات کی تصاویر بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق عمران خان کو جیل میں ٹی وی، روم کولر، سٹڈی ٹیبل، کرسی، ورزشی بائیک، سٹریچنگ بیلٹ، بک شیلف، کتابیں اور دن میں دو مرتبہ چہل قدمی کے لیے الگ جگہ فراہم کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق عمران خان کو الگ کچن کی سہولت بھی موجود ہے۔ وفاقی حکومت نے گذارش کی کہ عدالت مناسب سمجھے تو ان کے بیان کی حقیقت کو جانچنے کے لیے کمیشن بھی مقرر کر سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق عمران خان کے لیے کھانا ان کی پسند کے مطابق بنایا جاتا ہے۔ رپورٹ میں عمران خان سے ستمبر 2023 سے 26 مئی 2024 تک ملاقاتیں کرنے والوں کے نام شامل ہیں۔

حکومت نے تصاویر کے ہمراہ سابق وزیر اعظم کے ساتھ اہل خانہ اور قانونی ٹیم کی ملاقاتوں کی فہرست بھی جمع کروائی گئی۔

وفاقی حکومت نے جواب میں لکھا ہے کہ ’عمران خان کا قید تنہائی میں ہونے کا موقف بھی غلط ہے، انہوں نے سپریم کورٹ میں وکلا تک رسائی نہ دینے کا موقف اپنایا، عدالت مناسب سمجھے تو ان کے بیان اور حقیقت کو جانچنے کے لیے کمیشن بھی مقرر کر سکتی ہے۔

واضح رہے کہ عمران خان نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ انہیں وکلا تک رسائی حاصل نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں