پاکستان نے امریکی کانگریس کا مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ مسترد کرد

پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے 25 جون کو امریکی ایوان نمائندگان کی طرف سے ایوان کی قرارداد 901 کی منظوری کا نوٹس لیا ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

پاکستان نے ملک میں حالیہ عام انتخابات میں مبینہ مداخلت کی تحقیقات کے مطالبے سے متعلق امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ وقت اور سیاق وسباق دوطرفہ تعلقات کے مثبت پہلوؤں کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکی ایوان نمائندگان کی جانب سے منظور کی جانے والی قرارداد پر میڈیا کے سوالات کے جواب میں ایک بیان جاری کیا ہے۔

دفتر خارجہ نے انتخابات کے حوالے سے منظور کی گئی امریکی قرارداد پر کہا ہے کہ ایوان نمائندگان کی قرارداد پاکستان کی سیاسی صورتحال کی ادھوری سمجھ کا نتیجہ ہے۔

ایک روز قبل امریکی ایوان نمائندگان کی طرف سے ایوان کی قرارداد 901 کی منظوری کے حوالے سے میڈیا کے سوالات کے جواب میں ترجمان وزارت خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ پاکستان نے 25 جون کو امریکی ایوان نمائندگان کی طرف سے ایوان کی قرارداد 901 کی منظوری کا نوٹس لیا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ اس مخصوص قرارداد کا وقت اور سیاق و سباق ہمارے دوطرفہ تعلقات کے مثبت عمل کے ساتھ موافق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی صورتحال اور انتخابی عمل کی نامکمل تشریح کی گئی، پاکستان، دنیا کی دوسری سب سے بڑی پارلیمانی جمہوریت اور مجموعی طور پر پانچویں سب سے بڑی جمہوریت ہے، ہمارے اپنے قومی مفاد کے مطابق آئین، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کی اقدار کا پابند ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم باہمی احترام اور افہام وتفہیم پر مبنی تعمیری بات چیت اور پر یقین رکھتے ہیں، ایسی قراردادیں نہ تو تعمیری ہیں اور نہ ہی بامقصد ہیں، ہمیں امید ہے کہ امریکی کانگریس پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں معاون کردار ادا کرے گی، باہمی تعاون کی راہوں پر توجہ مرکوز کرے گی جس سے ہمارے عوام اور ممالک دونوں کو فائدہ پہنچے گا۔

واضح رہے کہ دفتر خارجہ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ امریکا کے ایوان نمائندگان نے آٹھ فروری 2024 کو پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات میں ووٹنگ کے بعد ہیر پھیر کے دعووں کی غیر جانبدار تحقیقات کے حق میں قرارداد کو بھاری اکثریت سے منظور کرتے ہوئے جنوبی ایشیا کے ملک کے جمہوری عمل میں عوام کی شمولیت پر زور دیا تھا۔

پاکستان کے گذشتہ عام انتخابات پولنگ کے دن ملک بھر میں موبائل انٹرنیٹ کی بندش، مہم کے دوران گرفتاریوں، تشدد اور نتائج سامنے آنے میں غیر معمولی تاخیر سے متاثر ہوئے، یہ عوامل ان الزامات کا باعث بنے کہ انتخابات غیر شفاف تھے۔

انتخابات میں دھاندلی کا معاملہ سب سے زیادہ قوت کے ساتھ سابق وزیر اعظم عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اٹھایا گیا جس کے رہنماؤں کو اپنا انتخابی نشان ’بلا‘ چھن جانے کے باعث عام انتخابات میں آزاد حیثیت سے شرکت کرنی پڑی جبکہ قانونی جنگ کے بعد الیکشن اتھارٹی کی جانب سے پارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو غلط قرار دیا گیا۔

پولنگ کے دوران عمران خان سمیت پی ٹی آئی کی قیادت پابند سلاسل تھی لیکن اس کے حمایت یافتہ امیدوار سب سے زیادہ تعداد میں کامیاب ہوکر قومی اسمبلی میں پہنچے۔

امریکی ایوان میں سات کے مقابلے میں 368 امیدواروں نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جس میں مداخلت اور بے ضابطگیوں کے دعووں کی مکمل اور آزادنہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔

قرار داد میں پاکستان کے لوگوں کو ملک کے جمہوری عمل میں حصہ لینے کی کوشش کو دبانے کی کوششوں کی مذمت کی گئی، ان کوششوں میں ہراساں کرنا، دھمکانا، تشدد، بلا جواز حراست، انٹرنیٹ اور مواصلاتی ذرائع تک رسائی میں پابندیوں یا ان کے انسانی، شہری اور سیاسی حقوق کی خلاف ورزی شامل ہے۔

ہاؤس ریزولوشن 901 میں کہا گیا کہ یہ قرارداد جمہوریت اور انسانی حقوق کے حوالے سے حمایت کے اظہار کے لیے ہے۔

قرار داد میں پاکستانی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ جمہوری اور انتخابی اداروں، انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی برقرار رکھے، اس میں کہا گیا کہ حکومت قانونی طریقہ فراہم کرنے کی بنیادی یقین دہانی، صحافت کی آزادی، جلسہ کرنے کی آزادی اور پاکستان کے عوام کی آزادی اظہار رائے کا احترام کرے۔

قرار داد میں پاکستان کے سیاسی، انتخابی یا عدالتی عمل پر اثر انداز ہونے کی ہر کوشش کی مذمت کی گئی۔

اس پیش رفت پر رد عمل دیتے ہوئے واشنگٹن میں موجود ولسن سینٹر میں ساؤتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر مائیکل کگلمین نے کہا کہ قرارداد کے حق میں دیے جانے والوں ووٹوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

سماجی رابطے کی ویب پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایوان کے ’85 فیصد اراکین نے اس پر ووٹنگ میں حصہ لیا، ووٹنگ کرنے والوں میں سے 98 فیصد نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، یہ بہت اہم بات ہے‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں