پونے دو سال گزرنے کے بعد پاکستانی صحافی کے قتل کی امریکی دفتر خارجہ میں بازگشت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نے پاکستان کے معروف صحافی ارشد شریف کے مقدمہ قتل کا کینیا میں فیصلہ ہونے پر کہا ہے کہ دنیا بھر میں صحافیوں کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔ میتھیو ملر منگل کے روز صحافیوں کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔ تاہم انہوں نے اس موقع پر ارشد شریف کے قتل سے متعلق معاملے سے خود کو لا علم ظاہر کیا ۔ اس لیے اس موضوع پر زیادہ بات نہیں کی ہے۔

امریکی ترجمان کا یہ بیان اگر دیکھا جائے تو پاکستانی صحافی ارشد شریف کے معاملے سے زیادہ دنیا بھر کے صحافیوں سے متعلق ہے۔ انہیں میں سب سے اہمیت کی حامل فلسطینی و دیگر صحافیوں کی وہ بہت بڑی تعداد ہے جسے اسرائیلی فوج نے غزہ جنگ کے دوران ہلاک کیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہ تعداد لگ بھگ ایک سو ہے۔ جبکہ 'کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس' کی تازہ رپورٹ کے مطابق غزہ جنگ کے دوران صرف غزہ سے اسرائیلی فوج نے 48 صحافیوں کو حراست میں لیا ہے۔ ان میں سے تیس سے زائد صحافی آج بھی اسرائیلی جیلوں میں ہیں۔ لیکن اتفاق ہے کہ کوئی ملک یا بین الاقوامی ادارہ اس بارے میں اسرائیل سے کچھ باز پرس کرنے کو تیار نہیں کہ جیسے اسرائیل کے پاس صحافیوں کے خلاف بھی ' لائسنس ٹو کل ' ہو۔

تاہم توقع کی جاسکتی ہے کہ امریکی ترجمان میتھیو ملر کے اس عمومی بیان کو غزہ کے شہداء صحافیوں کے حوالے سے اور اسرائیلی جیلوں میں قید صحافیوں کے لیے عالمی و سفارتی سطح پر ایک بنیاد کے طور پر لیا جائے گا۔

نیز میتھیو ملر امریکی ترجمان ہونے کے ناطے صحافیوں کے قتل کے واقعات سے خود کو لا علم رکھنے کی پریکٹس کو جاری نہیں رکھیں گے جیسا کہ انہوں نے ارشد شریف کے کیس کے بارے میں خود کو لاعلم ظاہر کر کے کر لیا ہے۔

ارشد شریف پاکستان کے چند معروف ترین صحافیوں میں سے ایک تھے اور عمران خان کی حکومت کے توڑے جانے کے مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ کرپشن کے بھی سخت مخالف صحافیوں میں سے ایک تھے۔ اس تناظر میں ان کے خلاف ملک میں مقدمات بنائے جانے لگے۔ حتی کہ ملک سے غداری کا مقدمہ بھی درج کرا دیا گیا اور انہیں ملک سے چھپ کر بھاگنا پڑا کہ اسٹیبلشمنٹ سے خوفزدہ ہو چکے تھے ۔ اس سے قبل وہ اسٹیبلشمنٹ کی آنکھ کا تارا سمجھے جاتے تھے۔

انہوں نے اگست 2022 کو ملک چھوڑا اور اکتوبر میں کینیا میں قتل کر دیے گئے۔ انہوں نے ملک سے فرار کی کوشش کے طور پر پہلے مرحلے پر متحدہ عرب امارات کا راستہ لیاتھا ۔ لیکن وہاں سے بھی انہیں جلد نکل بھاگنے پر مجبور کر دیا گیا۔ جہاں سے وہ کینیا چلے گئے۔

کینیا پولیس نے ایک رات انہیں مبینہ طور پر غلطی سے شناخت نہ ہونے کے باعث ہلاک کر دیا۔

اب اسی ہفتے کینیا کی ایک عدالت نے ان کی بیوہ جویریہ صدیق کے دائر کردہ مقدمے کا فیصلہ سنا دیا ہے ۔ لیکن ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ اپنے ملک میں ابھی تک آگے نہیں چلنے دیا گیا ہے۔

ارشد شریف کی والدہ بیوہ اور ضعیف خاتون ہیں۔ علاوہ ازیں پانچ بچے اور دو بیوگان پسماندگان میں شامل ہیں۔ ان کی مظلومانہ موت پاکستان کے صحافیوں کے لیے بہت بڑے صدمے کا باعث بنی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں