تحریک انصاف کی تاریخ ہی لاقانونیت کی ہے : نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پاکستان میں نائب وزیر اعظم کے عہدے پر فائز اسحاق ڈار نے ملک کی اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کو سخت تنقید کا ہدف بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس جماعت کی لاقانونیت کے حوالے سے ایک لمبی تاریخ ہے۔

وہ بدھ کے روز ملک کی سفارتی کور کو پی ٹی آئی کے اسلام آباد میں حالیہ احتجاج کے بارے میں بریف کر رہے تھے اور اس کے مظاہرہ کرنے والے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے حکومتی ایکشن کے بارے میں بتا رہے تھے۔

اسحاق ڈار ملک کے نائب وزیر اعظم ہونے کے ساتھ ساتھ وزیر خارجہ بھی ہیں۔ علاوہ ازیں وہ وزیر اعظم شہباز شریف کے بعد حکومت کے موثر ترین فرد ہیں کہ وہ نہ صرف کئی بار ملک کے وزیر خزانہ رہ چکے ہیں بلکہ ملک کے موجودہ اور سابق وزیر اعظم کے قریبی رشتہ دار ہونے کی وجہ سے بھی پالیسی سازی اور فیصلہ سازی میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔اس لیے ان کے کہے ہوئے کو وزیر اعظم کا ہی کہا ہوا سمجھا جاتا ہے۔

وہ بدھ کے روز 26 نومبر کے ان واقعات کے بارے میں پی ٹی آئی کو ہدف تنقید بنا رہے تھے جن میں پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اس کے 20 کارکنوں کو براہ راست گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، جبکہ حکومت اس دعوے کو مسترد کرتی ہے اور اس کا موقف ہے کہ پی ٹی آئی کارکنوں نے 4 سرکاری اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے۔ پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا کے ذریعے حکومتی طاقت کے استعمال کو نہ صرف بے نقاب کیا ہے بلکہ اس کے ذریعے موثر آواز بھی بلند کی ہے۔

واضح رہے پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے جیل سے اپیل کی تھی کہ 25 نومبر کو ان کی رہائی اور 26 ویں آئینی ترمیم کی واپسی کے لیے اسلام آباد میں احتجاج کیا جائے۔ اس دوران پی ٹی آئی کارکنوں کو زبردستی روکنے کے بارے میں ملک کے اندر اور باہر کافی شور ہے۔ اسی لیے اسحاق ڈار نے ملک کی سفارتی ٹیم کو حقائق اور ان سے متعلق حکومتی موقف سے آگاہ کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر سامنے والی تصاویر اور وڈیوز فیک ہیں اور محض پراپیگنڈہ ہیں۔

نائب وزیر اعظم نے سفارتی کور کے اہم ارکان بتایا کہ سیکورٹی اہلکاروں نے پی ٹی آئی کارکنوں پر گولی ہر گز نہیں چلائی گئی ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں کو گاڑی کے نیچےگولی مار کر سیاسی کارکنوں کو ہلاک کرنے کا سامان ہی نہیں فراہم کیا تھا۔ البتہ سیکورٹی اہلکاروں نے واٹر کینن کے ذریعے پی ٹی آئی کارکنوں پر 26 نومبر کی رات پانی پھینک کر انہیں منتشر کیا تھا۔ یا پھر آنسو گیس استعمال کی گئی تھی۔

ہماری ترجیح یہ تھی کہ اسلام آباد کے ریڈ زون کی حفاظت تھی تاکہ اس کی سیکیورٹی ممکن بنائی جائے اور پی ٹی آئی ورکرزکو جمع نہ ہونے دیا جائے ۔ کیونکہ اسی ریڈ زون میں سفراء ، ہائی کمشنروں اور ہمارے رفقائے کار کو محفوط بنایا جائے۔ اس علاقے کو احتجاج سے پاک رکھنے کے لیے ہی اسے ریڈ زون قرار دیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں احتجاج کے لیے اسی سال پرپارلیمنٹ نے قانون سازی کی ہے کہ کوئی بلا اجازت احتجاج نہ کر سکے۔

انہوں نے کہا اس بار تو اعلی عدلیہ نے بھی اسلام آباد میں حکومت مخالف احتجاج کی اجازت نہیں دی تھی۔لیکن پی ٹی آئی نے تین دن تک احتجاج کیا اس کے باوجود کچھ نہ نکلا ۔ البتہ پی ٹی آئی کی تاریخ کی لاقانونیت کی ہے۔ مزید یہ کہ اس نے ہمیشہ اس وقت اسلام آباد میں احتجاج کیا ہے جب غیر ملکی اہم شخصیات دورے پر اسلام آباد آرہی ہوتی ہیں ۔

واضح رہے پاکستان تحریک انصاف نے سات دسمبر کو ایک بارپھر اسلام آباد میں ہی احتجاج کی کال دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں