جدہ میں میڈ ان پاکستان نمائش: وزیرِ تجارت کی سعودی اداروں کو سرمایہ کاری کی دعوت

سعودی اداروں کے لیے آئی ٹی، توانائی اور صحت کے شعبوں میں مواقع موجود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پاکستان کے وزیرِ تجارت جام کمال خان جدہ میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے سلسلے میں مصروف ہیں اور انہوں نے سعودی عرب کے سرکردہ تاجروں کو پاکستان میں توانائی، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی)، صحت، انفراسٹرکچر اور اشیائے صرف کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی ہے، یہ بات پاکستانی حکومت نے ہفتے کے روز کہی۔

یہ گفتگو جدہ میں پانچ سے سات فروری تک منعقدہ اولین "میڈ اِن پاکستان" نمائش کے دوران ہوئی جس میں کاروباری تعاون، سرمایہ کاری کے مواقع اور پاکستانی مارکیٹ میں سعودی برانڈز کے داخلے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

ممتاز سعودی تاجروں کے ساتھ ایک اہم ملاقات میں خان نے روشنی ڈالی کہ گذشتہ سال سعودی عرب کو پاکستان کی برآمدات میں 22 فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے سعودی سرمایہ کاروں کو ٹیکس میں رعایت، سرمایہ کاروں کے تحفظ کے قوانین اور 240 ملین کی مضبوط صارف مارکیٹ تک رسائی کے ساتھ کاروبار کے لیے سازگار ماحول کی یقین دہانی کروائی۔

پاکستانی حکومت کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) نے ایک بیان میں کہا، "سعودی کاروباری رہنماؤں نے پاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ تعاون خاص طور پر تعمیراتی مواد، ٹیکسٹائل اور خوراک کی صنعتوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔"

"تجارتی شراکت داری اور صنعتی سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے متعدد تجاویز پر تبادلۂ خیال کیا گیا اور وزیر نے انہیں پاکستان کا دورہ کرنے اور یہاں کی تجارتی نمائشوں میں شرکت کی دعوت دی۔"

پاکستان کے کاروبار آسان کرنے کے حالیہ اقدامات بشمول پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) اور نیشنل کمپلائنس سینٹر پر بات کی گئی جن کا مقصد تجارتی ضوابط کو ہموار اور برآمدی معیارات میں اضافہ کرنا ہے۔

صارفین کی طلب، بڑی تعداد میں غیر ملکی افرادی قوت اور وژن 2030 کی پرعزم اقتصادی اصلاحات کی بنا پر سعودی عرب پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے برآمدات کا ایک اہم موقع پیش کرتا ہے۔

پاکستان نے مملکت کے ساتھ بزنس ٹو بزنس تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے جس کے لیے فریقین نے گذشتہ اکتوبر میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کے دورۂ ریاض کے دوران اعلان کیا تھا کہ انہوں نے نجی شعبے کے تعاون اور تجارتی شراکت داری کے فروغ کے لیے 2.8 بلین ڈالر کے 34 مفاہمت ناموں اور معاہدات پر دستخط کیے۔

ریاض میں پاکستانی مشن کے مطابق مالی سال 2023-24 میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا تجارتی حجم 5203.19 ملین ڈالر تک پہنچ گیا جو گذشتہ سال 5010.47 ملین ڈالر تھا۔ خان نے کہا کہ مملکت میں مقیم پاکستانیوں نے گذشتہ مالی سال میں مجموعی طور پر 7.4 بلین ڈالر کی ترسیلات بھیجیں۔

خان کے دورے کی ایک اہم بات ان کی سعودی فوڈ چین البیک کے مالک رامی ابو غزالہ سے ملاقات تھی جو گذشتہ سال اکتوبر میں مفاہمت نامے پر دستخط کرنے کے بعد پاکستان میں آغاز کرنے والی ہے۔ وزیر کو البیک کے آپریشنز کا دورہ کروایا گیا جہاں انہوں نے فاسٹ فوڈ کمپنی میں کام کرنے والے پاکستانی ملازمین سے ملاقات کی۔

پی آئی ڈی نے کہا، "بات چیت کے دوران البیک نے پاکستان میں اپنی توسیع کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ عمل ایک مفاہمت نامے پر دستخط کرنے کے بعد آخری مراحل میں ہے۔ پاکستان میں پہلی البیک برانچوں کے جلد کھلنے کی توقع ہے جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات مضبوط ہوں گے۔"

خان نے جدہ میں مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں اور کاروباری رہنماؤں سے ایک اہم ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ پانچ سالوں میں 1.7 ملین پاکستانیوں نے سعودی عرب کا سفر کیا جس سے یہ پاکستانی تارکینِ وطن کی اولین منزل بن گیا ہے۔

خان نے نوٹ کیا کہ حال ہی میں جدہ میں قائم کردہ پاکستان انوسٹر فورم مارکیٹ میں نئے آنے والوں کی رہنمائی اور پاک-سعودی تجارتی تعاون کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں