عالمی سکیورٹی چیلنجز: پاکستان، یورپی یونین کے حکام کا شرقِ اوسط، افغانستان پر تبادلۂ خیال

مذاکرات 2019 کے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان کا حصہ تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان اور یورپی یونین (ای یو) کے حکام نے برسلز میں انسدادِ دہشت گردی کے نویں مذاکرات منعقد کیے اور شرقِ اوسط اور افغانستان کی صورتِ حال سمیت علاقائی اور عالمی چیلنجز پر تبادلۂ خیال کیا، یہ بات پاکستان کے دفترِ خارجہ نے جمعرات کو کہی۔

اس مکالمے کا مقصد سکیورٹی کے معاملات اور علاقائی تعاون پر باہمی روابط کو بڑھانا ہے۔ یہ عسکریت پسندی کے باعث ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ پیشرفت شرقِ اوسط میں ہنگامہ آرائی کے دوران سامنے آئی ہے جو غزہ جنگ سمیت متعدد علاقائی ممالک کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کے دوبارہ سر اٹھانے کے باعث پاکستان سمیت بعض ممالک کے خدشات بھی اس مکالمے کا حصہ تھے۔

پاکستان نے متعدد بار اسرائیل اور عالمی طاقتوں سے غزہ میں مستقل جنگ بندی اور لبنان اور شام سے اسرائیلی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کے مغربی علاقوں میں دہشت گردی میں حالیہ اضافے کے درمیان اسلام آباد نے افغانستان پر دہشت گرد گروہوں کی حمایت کا الزام بھی لگایا ہے جس کی کابل نے تردید کی ہے۔

پاکستانی دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا، "یورپی یونین اور پاکستان نے ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت اور اس سے لڑنے کے لیے اپنے پختہ عزم کی تصدیق کی۔ مذاکرات سے علاقائی اور عالمی چیلنجز بشمول افغانستان اور شرقِ اوسط کی طرح دیگر علاقوں میں سیکورٹی کے اثرات پر تبادلۂ خیال ممکن ہوا۔"

مزید کہا گیا، "فریقین نے کثیرالجہتی فورمز پر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مضبوط تعاون کی اہمیت کی تصدیق کی۔ اس میں اقوامِ متحدہ کے فریم ورک اور عالمی انسدادِ دہشت گردی فورم میں کام شامل ہے جس کی یورپی یونین 2022 سے مشترکہ سربراہی کر رہی ہے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ میں انسدادِ دہشت گردی کے ڈائریکٹر جنرل عبدالحمید نے پاکستانی فریق کی قیادت کی جبکہ یورپی یونین کے وفد کی سربراہی یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس میں سکیورٹی اور دفاعی پالیسی کے ڈائریکٹر میکیج سٹیڈیک کر رہے تھے۔

بیان میں مزید کہا گیا، "یورپی یونین اور پاکستان نے بہترین طریقوں کے تبادلے اور ٹھوس تعاون کے شعبوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا جس میں پرتشدد انتہا پسندی کے انسداد، غیر ملکی دہشت گردوں کی بھرتی اور نقل و حرکت، آف لائن اور آن لائن بنیاد پرستی، دہشت گردی کی مالی معاونت کا مقابلہ کرنے اور مزید موضوعات پر توجہ مرکوز کی گئی جو دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے سے متعلق تھے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں