پاکستان کا او آئی سی اجلاس میں غزہ جنگ بندی کا مطالبہ
مسلم دنیا کے مفادات کے لیے کام کرنے کا عزم
نیویارک میں اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کے سفراء کی سطح کے اجلاس کے دوران پاکستان نے منگل کو غزہ جنگ بندی پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ یہ بات اقوامِ متحدہ میں ملک کے مستقل مشن کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ سے معلوم ہوئی۔
جنگ بندی کی بین الاقوامی اپیلوں کے باوجود غزہ جنگ جاری ہے جس میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد مبینہ طور پر 50,000 سے تجاوز کر گئی ہے اور ان ہلاکتوں میں ایک بڑا حصہ خواتین اور بچوں کا ہے۔
پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت مختلف عالمی فورمز پر بارہا غزہ تنازعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسرائیل کے اقدامات کے لیے جنگ بندی اور جواب طلبی کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مشن نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا، "اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندہ اور سفیر عاصم افتخار احمد نے آج او آئی سی کے اجلاس میں شرکت کی۔ اپنے تبصرے میں سفیر عاصم نے فلسطینی مقصد کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا جس میں غزہ جنگ بندی کا فوری اور مکمل نفاذ، ناکہ بندی ختم کرنا، پورے غزہ میں بلا تعطل انسانی رسائی اور مغربی کنارے سمیت جبری نقلِ مکانی اور نوآبادیات کا خاتمہ شامل ہے"۔
او آئی سی کے اجلاس میں فلسطین اور شام کی صورتِ حال کا بھی جائزہ لیا گیا اور بحرین اور کرغزستان کے وزرائے خارجہ سے بالترتیب 2026-27 اور 2027-28 کی نمائندگی کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشستوں کے لیے ان کے متعلقہ امیدواروں کے حوالے سے بریفنگ لی گئی۔
پاکستانی مشن نے کہا کہ ملک مسلم امہ کے مشترکہ مقاصد اور اجتماعی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے او آئی سی کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔