بھارت اور پاکستان کے درمیان جھڑپوں کے بعد سیز فائر کے اعلان کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھارت کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کیا جبکہ کچھ پاکستانی شہریوں نے جنگ بندی پر عملدرآمد کے سلسلے میں نئی دہلی کی رضامندی پر شکوک کا اظہار کیا۔
کراچی کے ایک تاجر عباس رضا نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا، "دیکھیں، جنگ بندی کا اعلان دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند رہا ہے۔ نقصان میں کون جیتتا ہے؟ کوئی نہیں۔ لوگوں کو صرف تکلیف ہوتی ہے۔"
شہر کے ایک مقامی تاجر محمد شہباز نے کہا کہ پاکستان نے کئی دنوں تک "بھارتی اشتعال انگیزی" کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا، "بھارت کشیدگی میں اضافہ اور پاکستان کو اکسانے کی کوشش کرتا رہا۔ وہ مسلسل ایسا کرتے رہے لیکن پاکستان نے بار بار تحمل کا مظاہرہ کیا۔" انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: "پھر کل جب پاکستان نے جوابی حملہ کیا تو وہ تین گھنٹے کے اندر ہی ہل گئے۔ ہم انہیں ان کے گھٹنوں پر لے آئے۔ اور آج انہوں نے ٹرمپ کو فون کیا اور جنگ بندی پر اتفاق کیا۔"
کراچی کا دورہ کرنے والی ایک خاتون زوبیہ محفوظ نے کہا کہ تنازعہ کی بنا پر فضائی حدود بند ہونے کی وجہ سے وہ امریکہ واپس نہیں جا سکیں جہاں ان کا خاندان آباد ہے۔ انہوں نے کہا، "میں یہاں کسی کام سے آئی تھی اور پھنس گئی۔ میری پیر کی صبح ایک فلائٹ ہے۔ ہماری [پاکستان کی] طرف سے کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ مسئلہ کہاں سے آیا ہے۔ اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے۔"
لیکن اسلام آباد میں بعض لوگوں نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے احتیاط کی تاکید کی۔ ڈاکٹر محمد فرحان حمید نے کہا، "ہمیں بھارت کے بیانات پر مکمل اعتماد نہیں ہے۔ ماضی میں ہم نے یہی دیکھا ہے۔ اس سے پہلے بہت سے معاہدوں پر دستخط کیے گئے لیکن بعض اوقات وہ غیر متوقع رویہ اختیار کرتے ہیں اور متفقہ باتوں سے منحرف ہو جاتے ہیں۔"
بھارت نے پہلگام واقعے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے پانچ شہروں پر میزائل حملے کئے۔ اسلام آباد نے بھارتی فوجی مقامات کو نشانہ بنا کر جوابی کارروائی کی۔ اس کارروائی میں دشمن کے پانچ سے چھے جنگی طیارے بشمول تین رافیل پاک فضائیہ کے ہاتھوں تباہ ہو گئے۔ جنگ میں دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار سے بھاری میزائل اور ڈرون حملے ہوئے۔
ادھر علاقائی فورم خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان فوری جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ایک بیان میں انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ معاہدہ جنوبی ایشیا میں سلامتی اور استحکام بڑھانے میں معاون ثابت ہو گا۔
انہوں نے تنازعات کے حل کےلیے مذاکرات اور سفارتکاری کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کے لیے جی سی سی کی سپورٹ کا اعادہ کیا۔
جاسم محمد البدیوی نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کے جامع حل کی طرف ایک قدم ثابت ہوگا جس سے ان کے عوام کے لیے دیرپا امن اور سلامتی کو یقینی بنائے گا۔
یاد رہے کہ سعودی عرب نے بھی پاکستان اور انڈیا کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ’ اس سے خطے میں سلامتی اور استحکام کی بحالی کی راہ ہموار ہوگی۔‘
وزارت خارجہ نے ایک بیان میں مملکت کی جانب سے دانشمندی اور تحمل کا مظاہرہ کرنے پر دونوں ملکوں کی تعریف کی۔ تنازعات کو مذاکرات اور پرامن ذرائع سے حل کرنے کے لیے اپنی سپورٹ کا اعادہ کیا۔