وزیر خزانہ نے 17 ہزار 600 ارب روپے حجم کا ٹیکسوں سے بھرا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 17 ہزار 600 ارب روپے حجم کا ٹیکسوں سے بھرا بجٹ 26-2025 قومی اسمبلی میں پیش کر دیا۔

قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس پانچ بجے طلب کیا گیا تھا تاہم اجلاس تقریباً آدھے گھنٹے تاخیر سے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اس موقع پر قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے شور شرابہ کیا گیا۔

شور کے باوجود وفاقی وزیر خزانہ نے بجٹ پیش کرنے کے لیے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نئے مالی سال کا بجٹ پیش کرنا میرے لئے اعزاز ہے مخلوط حکومت کا یہ دوسرا بجٹ ہے، اتحادی جماعتوں کے سربراہان نواز شریف، چودہری شجاعت،مقبول صدیقی بلاول کا شکر گزار ہوں، جنہوں نے مجھے یہ موقع پیش کیا، بھارتی جارحیت کا مقابلہ ہماری افواج نے عوام کے تعاون سے بھر پور جواب دیا۔

وفاقی وزیر کا بجٹ تقریر میں کہنا تھا کہ یہ بجٹ انتہائی اہم اور تاریخی موقع پر پیش کیا جا رہا ہے، حالیہ پاک بھارت جنگ میں قوم نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا، حالیہ جنگ میں کامیابی پر عسکری اور سیاسی قیادت کو مبارک باد دیتا ہوں، عالمی برداری میں پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے۔

امن و امان کے لیے پانچ ارب 62 کروڑ مختص کیا گیا ہے، کمیونٹی سروسز کے لیے ایک ارب 90 کروڑ روپے کی تجویز دی گئی ہے، سماجی خدمات کے لیے ایک ارب 58 کروڑ روپے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ وزارت خارجہ کے لیے چار ارب 60 کروڑ روپے بجٹ رکھنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی عزم اور یکجہتی کو بروئے کار لاتے ہوئے ہماری توجہ اب معاشی ترقی پر ہے، معاشی اصلاحات کے ذریعے معاشی استحکام لایا گیا، معیشت کی بہتری کے لیے کئی اقدامات کیے، افراط زر میں نمایاں کمی ہوئی اور ترسیلات زر 10 ماہ میں 36 ارب ڈالر رہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ نئی انرجی وہیکل پالیسی منظورکی گئی ہے، رواں سال الیکٹراک گاڑیوں کو ترجیح دی جائیگی، گذشتہ بجٹ میں منی بجٹ کا ڈھنڈورہ پیٹا جارہا تھا مگر کوئی منی بجٹ نہیں آیا نا کوئی نیا ٹیکس لگا۔

وفاقی وزیر خزانہ کاکہنا تھا کہ جائیداد کی خریداری پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح چار فیصد سے کم کر کے 2.5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، کمرشل جائیدادوں، پلاٹس اور گھروں کی منتقلی پر گذشتہ سال عائد کی جانے والی سات فیصد تک کی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کی جا رہی ہے، اسلام آباد کی حدود میں جائیداد کی خریداری پر سٹامپ پیپر ڈیوٹی چار فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کرنےکی تجویز دی گئی ہے۔

محمد اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ نے الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری اور فروخت کو فروغ دینے کیلئے ایل لیوی عائد کرنے کی تجویز دی ہے جو لیوی معدنی تیل استعمال کرنے والی گاڑیوں کی فروخت اور درآمد پر انجن کی طاقت کے مطابق عائد ہوگی۔

انہوں نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے ریلیف کا فیصلہ کیا ہے، تنخواہ دار طبقے کیلئے تمام ٹیکس سلیبز میں کمی کر دی گئی ہے، چھ سے 12 لاکھ تنخواہ ٹیکس کی شرح ایک فیصد ہو گی، بارہ لاکھ آمدن پر ٹیکس کی رقم 30 ہزار روپے سے کم کر کے چھ ہزار کی تجویز دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بائیس لاکھ تک تنخواہ پر ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد مقرر کی گئی ہے، 22 سے 32 لاکھ تنخواہ پر ٹیکس شرح فیصد سے کم کر کے 23 فیصد کر دی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ کارپوریٹ سیکٹر کیلئے نئے بجٹ میں ریلیف دینے کا اور سالانہ بیس کروڑ سے پچاس کروڑ آمدنی پر سپر ٹیکس میں 0.5 فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے، جائیداد کی خریداری پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں کمی کی گئی ہے، ودہولڈنگ ٹیکس چار فیصد سے کم کر کے اڑھائی فیصد کر دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ کاکہنا تھا کہ کمرشل جائیدادوں، پلاٹوں اور گھروں ٹرانسفر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے، گذشتہ بجٹ میں سات فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی گئی تھی، پٹرول،ہائی سپیڈ ڈیزل اور فرنس آئل پر 2.5 روپے فی لیٹر کی شرح سے کاربن لیوی عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ بجٹ میں ہم نے تجویز دی ہےکہ کاربن لیوی مالی سال 2025-26 میں بڑھا کر پانچ فیصد کر دی جائے، فرنس آئل پر پٹرولیم لیوی بھی وفاقی حکومت کی مقررہ شرح سے لاگو کی جائے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے مزید کہاکہ معذور ملازمین کیلئے خصوصی کنوینس الاؤنس کو ماہانہ چار ہزار روپے سے بڑھا کر چھ ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اہل ملازمین کو 30 فیصد کی شرح سے ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس دینے کی تجویز پیش کی ہے جبکہ مسلح افواج کے افسران اور سولجرز کیلئے سپیشل ریلیف الاؤنس دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

محمد اورنگزیب نے بجٹ پیش کرتے ہوئے مزید کہاکہ سولر پینلز کی در آمدات پر 18فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے تحت انفورسمنٹ کے شعبے میں نئے اقدامات کرنے کی بھی تجویز پیش کی ہے، اوریجنل ٹیکس سٹمپ اور بار کوڈز کے بغیر موجود تمام اشیاء کو بحق سرکار ضبط کر لیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں صوبائی افسروں کو ایف ای ڈی انفورسمنٹ اختیارات تفویض کرنے کی تجویز دی ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ سکولوں کی تعمیر کیلیے تین ارب مختص کیے گئے ہیں، جبکہ وزیر اعظم یوتھ سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 4.3 ارب مختص، ایک لاکھ 61 ہزار 500 نوجوانوں کو تعلیم دی جائے گی۔

حکومت نے مالی سال 2025-2026 میں کراچی میں پانی کے منصوبے کے فور کیلیے 3.2 ارب روپے مختص کیے ہیں اور دیا مر اور بھاشا ڈیم کے لیے 32.7 ارب روپے، مہمند کیلیے 35.7 ارب، آوران پنجگور سمیت بلوچستان کے دیگر تین ڈیمز کے لیے پانچ ارب مختص کیے گئے ہیں۔

بعد ازاں قومی اسمبلی کا آج ہونے والا بجٹ اجلاس جمعے کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ بجٹ پر 13 جون کو قومی اسمبلی میں بحث کا آغاز ہو گا۔ اس دوران قومی اسمبلی میں موجود پارلیمانی جماعتوں کو قواعد و ضوابط کے مطابق بحث کے لیے وقت دیا جائے گا۔

شیڈول کے مطابق بجٹ پر بحث 21 جون کو سمیٹی جائے گی۔ 22 جون کو قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہو گا جبکہ 23 جون کو بجٹ میں مجوزہ ضروری اخراجات پر بحث کی جائے گی۔ ڈیمانڈز، گرانٹس اور کٹوتی کی تحاریک پر 24 اور 25 جون کو بحث اور ووٹنگ ہو گی۔

قبل ازیں، وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری دے دی تھی جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں