سعودی عرب، امارات، کویت، قطر اور ترکیہ کی پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے نتیجے میں 19 سپاہیوں کی شہادت کے واقعے پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور ترکیہ نے پاکستان کے ساتھ اظہار تعزیت و یکجہتی کیا ہے اور پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں کی گئی ان دہشت گردانہ کارروائیوں کی سخت مذمت کی ہے۔

ہفتہ کے روز پاکستان کی مسلح افواج نے اعلان کیا تھا کہ افغانستان کی سرحد کے ساتھ جڑے صوبہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کے ساتھ مختلف جگہوں پر جھڑپیں ہوئی ہیں۔ جن میں 45 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ جبکہ 19 سپاہی شہید ہوئے۔

ان جھڑپوں کے صرف ایک واقعے میں پاکستانی طالبان سے منسلک 13 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ یہ واقعہ جنوبی وزیرستان میں پیش آیا۔ 'آئی ایس پی آر' کے مطابق اس واقعے میں 12 سپاہی بھی شہید ہوئے۔

جبکہ ایک اور جاری کردہ بیان جو بعدازاں سامنے آیا میں کہا گیا ہے کہ 11 ستمبر کو ضلع لوئر دیر میں 'انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن' کیا گیا۔ اس آپریشن کے دوران 10 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ تاہم مزید 7 سپاہی بھی شہید ہوگئے۔

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے پاکستان میں دہشت گردی کے ان واقعات پر اظہار مذمت کیا ہے اورشہید ہونے والے سپاہیوں کے اہلخانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے بھی اپنے جاری کردہ ایک بیان میں پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ امارات دہشت گردی کے ہر قسم کے واقعات کو مسترد کرتی ہے۔ جو پاکستان کی سلامتی و استحکام کو کمزور کرنے والی ہو۔

کویت کی وزارت خارجہ نے بھی اسی طرح کا ایک بیان جاری کیا ہے جس میں پاکستان کے ساتھ اظہار تعزیت و یکجہتی کیا ہے اور ان واقعات میں زخمی ہونے والے سپاہیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی ہے۔

دریں اثناء وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے ان دہشت گردانہ حملوں میں زخمی ہونے والے سپاہیوں کو دیکھنے کے لیے 'سی ایم ایچ' بنوں کا ہفتہ کے روز دورہ کیا اور سپاہیوں کے حوصلے و ہمت کو سراہا۔

اس موقع پر انہوں نے افغانستان سے بھی کہا کہ اسے پاکستان یا دہشت گردوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

خیال رہے پاکستان کے اعلیٰ حکام مختلف مواقع پر طالبان کی حکومت کو سرحد پر دہشت گردی کے واقعات کے لیے سہولت کاری کا الزام دیتے ہیں۔ تاہم طالبان حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں