امریکہ و پاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے پر زور
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے درمیان عالمی سطح پر پائی جانے والی تازہ صورتحال اور نئی ڈویلپمنٹس پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ دونوں ملک قریبی تعلقات اور معاشی تعلقات میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
امریکہ و پاکستان کے درمیان حالیہ مہینوں میں تعلقات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر جب سے صدر ٹرمپ نے پاکستان و بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ کو رکوانے میں کردار ادا کیا ہے اور بار بار صدر ٹرمپ نے پاکستان کی تعریف کی ہے۔ جبکہ بھارت کا یہ مؤقف ہے کہ دہلی و اسلام آباد کو اپنے تعلقات دو طرفہ بنیادوں پر ہی طے کرنے چاہییں۔
اس پس منظر میں بھارت جنگ بندی کرانے پر صدر ٹرمپ کو زیادہ کریڈٹ دینے کو بھی تیار نہیں ہے۔
پاکستان و امریکہ کے درمیان معاشی تعاون بڑھانے کے سلسلے میں ماہ جولائی میں ایک تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی گئی۔ مگر امریکہ نے بھارت کے لیے ٹیرف کی شرح میں غیر معمولی اضافہ کر دیا۔
دوسری جانب پاکستان و امریکہ ڈیجیٹل کرنسی، کریٹیکل منرلز، ریئل سٹیٹ اور معیشت کے دیگر شعبوں میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار جو کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم بھی ہیں کو امریکی وزیر خارجہ نے اپنا اسرائیل کا دورہ شروع ہونے سے پہلے فون کیا اور ان سے تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس موقع پر باہمی تعلقات کو مثبت انداز میں دیکھا اور اطمینان کا اظہار کرنے کے علاوہ علاقائی و عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
دونوں ملکوں کی طرف سے دو طرفہ کمٹمنٹ اور باہمی تعلقات کو کثیر جہتی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے تناظر میں دیکھا گیا۔
اسلام آباد کی طرف سے امریکہ کے ساتھ حالیہ روابط میں تیزی کو تجزیہ کار پاکستان کی خارجہ پالیسی کو 'ری سیٹ' کرنے سے تعبیر کرتے ہیں۔ جو کہ پچھلے کئی برسوں کے بعد ایک بڑی ڈویلپمنٹ ہے۔
پاکستان امریکہ کو اپنا ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے اور اپنی تجارت و برآمدات کے حوالے سے بھی امریکہ کی خاص اہمیت کو محسوس کرتا ہے۔
پاکستان اس وقت تقریباً ساڑھے 5 ارب ڈالر کی امریکہ کے لیے برآمدات کا ریکارڈ رکھتا ہے جو سال 2023 اور 2024 میں سامنے آیا۔ جبکہ جولائی 2024 سے فروری 2025 کے دوران پاکستانی برآمدات میں 10 فیصد اضافہ سامنے آیا ہے۔
پاکستان کی خواہش ہے کہ وہ اس معاشی تعاون کو اور بڑھائے۔ تاکہ اپنی معاشی مشکلات کو بحرانی صورتحال کی طرف جانے سے روکنے میں کامیاب ہو جائے۔