پاکستان میں شدید بارشوں کے گیارہویں سپل کی وارننگ، سیلاب کا خدشہ

رواں مون سون سیزن میں بارشوں اور سیلاب سے اب تک 972 افراد جاں بحق، لاکھوں بے گھر ہوچکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پنجاب کے مشرقی علاقے میں ریجنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے مون سون کی گیارہویں لہر سے قبل انتباہ جاری کیا ہے اور دریاؤں، ندی نالوں اور نشیبی علاقوں میں ممکنہ سیلاب کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

پاکستانی اخبار "دی نیشن" کے مطابق اتھارٹی کے ترجمان نے بتایا کہ منگل سے جمعہ تک بالائی علاقوں میں شدید بارشیں متوقع ہیں۔

اتھارٹی نے کہا کہ ان بارشوں کے نتیجے میں پانی کی سطح بلند ہوسکتی ہے جو سیلاب سے دوچار علاقوں کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ شہریوں کو احتیاط برتنے اور ہیلپ لائن 1129 پر ہنگامی صورت حال کی اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق اب تک سیلاب کے باعث 972 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

گذشتہ بدھ کو فوج کی مدد سے ریسکیو ٹیموں نے پاکستان کے شہر جلال پور پیروالا کے قریب ڈوبی ہوئی بستیوں سے ہزاروں افراد کو نکالا جبکہ حکام بلند ہوتے پانی کے دباؤ کے سامنے بند مضبوط کرنے میں مصروف رہے۔

ریلیف کمشنر نبیل جاوید کے مطابق سیلاب سے علاقے کے تقریباً ایک لاکھ 42 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔ بے گھر ہونے والے کئی لوگ رشتہ داروں کے گھروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں جبکہ دیگر نے پانی کے پشتوں یا ریلیف کیمپوں میں راتیں جاگ کر گزاریں۔

ریسکیو ٹیموں کی کشتیاں درختوں اور گھروں کی چھتوں پر پھنسے لوگوں کو نکال رہی ہیں۔ تاہم دیہات کے کئی متاثرین نے شکایت کی کہ امیر لوگ اپنی جیب سے کشتیاں کرائے پر لے کر فوراً نکل گئے جبکہ غریبوں کو سرکاری امداد کا انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور نے کہا ہے کہ ساڑھے سولہ لاکھ سے زائد افراد شدید خطرے میں ہیں جنہیں فوری انخلا یا امداد کی ضرورت پڑ سکتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب سیلابی ریلے سندھ تک پہنچ چکے ہیں۔

خیال رہے کہ23 اگست سے اب تک پنجاب کے تقریباً 4 ہزار دیہات زیر آب آچکے ہیں، جس سے 42 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور 21 لاکھ بے گھر ہوئے جبکہ کم از کم 68 اموات ہوئیں۔ یہ صورت حال معمول سے زیادہ بارشوں اور بھارت کی طرف سے بار بار ڈیموں کا پانی چھوڑنے کے باعث پیدا ہوئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں