پانچ سالہ پابندی کے بعد سرکاری ایئرلائنز پی آئی اے کی برطانیہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پائلٹوں کے جعلی لائسنس سکینڈل کی بنا پر عائد پابندی ختم ہونے کے بعد سرکاری ملکیتی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے پانچ سالوں میں پہلی بار ہفتے کے روز برطانیہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کر دیں۔

جون 2020 میں کراچی میں ایک مہلک حادثے کے بعد ایئرلائن کو برطانیہ اور یورپی یونین دونوں کی جانب سے پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس حادثے میں تقریباً 100 افراد ہلاک ہوئے اور اس کے بعد پائلٹس کے لائسنس جعلی ہونے کے انکشافات سامنے آئے۔

یورپی پابندی نومبر 2024 میں وسیع حفاظتی آڈٹ کے بعد ہٹا دی گئی جس سے پی آئی اے کے لیے اس سال جنوری میں معطل شدہ روٹس کی بحالی کی راہ ہموار ہو گئی تھی۔

کئی مہینوں کے معائنے اور اصلاحات کے بعد پاکستان کے ہوابازی نظام پر برطانیہ کا اعتماد بحال ہوا جس سے ہفتے کے روز اسلام آباد سے مانچسٹر کے لیے اولین بوئنگ 777 پرواز سے پی آئی اے کی واپسی کا آغاز ہوا۔

وزیرِ دفاع پاکستان خواجہ محمد آصف نے اسلام آباد کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "مانچسٹر کے لیے پرواز ایک شاندار آغاز ہے لیکن ہم آئندہ لندن اور برمنگھم کے لیے پروازیں شروع کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔"

آصف نے ایک ٹیلیویژن خطاب میں کہا، یہ پروازیں برطانیہ اور یورپ میں مقیم 1.4 ملین سے زائد پاکستانیوں کے لیے ضروری ہیں اور مشاہدہ کیا کہ ان کی ارسال کردہ ترسیلاتِ زر پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

"اُنہیں براہِ راست پروازیں فراہم کرنا ایک اخلاقی اور قومی فریضہ ہے۔ یہ خدمات ان کا وقت بچائیں گی اور مناسب کرایوں کی پیشکش کے ساتھ اپنے وطن سے براہِ راست ہوائی رابطہ فراہم کریں گی،" انہوں نے کہا۔

برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر محمد فیصل نے پروازوں کی دوبارہ بحالی کو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

انہوں نے لندن میں ایک حالیہ تقریب میں کہا، "یہ سنگِ میل بڑے معاشی فوائد لائے گا؛ خاطر خواہ آمدنی پیدا ہونا، تجارت اور سیاحت کا فروغ اور لوگوں اور سامان کی نقل و حرکت میں وسعت۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں