پاکستان : افغانستان کو آلوؤں کی برآمد رکنے سے آلوؤں کی قیمت انتہائی گر گئی
ایران کو برآمد کرنے کی کوششیں ، وفاقی وزیر
پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنی راہداری کو اضافی مقدار میں موجود آلوؤں کی برآمد کا ذریعہ بنائے جو اس نے وسط ایشیائی ریاستوں کے لیے پیدا کر رکھے ہیں۔ یہ بات پاکستان کے فوڈ سیکیورٹی کے وزیر رانا تنویر حسین نے پیر کے روز کہی ہے۔
ان کا کہنا تھا افغانستان کے ساتھ تجارتی بندش کی وجہ سے آلوؤں کی برآمد متاثر ہوئی ہے اور آلوؤں کی مقامی منڈی میں قیمتیں گر گئی ہیں۔
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں بھی آلوؤں کی قیمت بھی غیر معمولی طور پر کم ہوگئی ہے اور وجہ یہ ہے کہ چمن اور طور خم کے بارڈرز پر موجود راہداریاں اکتوبر 2025 سے بند ہڑی ہیں۔ یہ بندش پاک افغان تعلقات میں حالیہ کشیدگی کی وجہ سے جاری ہے۔
افغانستان پاکستانی آلوؤں کی ایک بڑی منڈی ہے۔ لیکن افغانستان کے ساتھ کشیدگی کے باعث پاکستانی برآمدات رکی ہوئی ہیں۔ جس سے پاکستانی منڈیوں میں آلوؤں اور دیگر سبزیوں کی قیمتیں نیچے گر گئی ہیں۔
اس صورتحال پر پاکستان کے کسانوں نے سخت تشویش ظاہر کی ہے کہ انہیں رواں سال بھاری نقصان کا اندیشہ ہے۔
فوڈ سیکیورٹی کے وزیر نے قومی اسمبلی کی مجلس قائمہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا بلاشبہ افغانستان کے ساتھ سرحدوں کی بندش سے کچھ تجارتی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ تاہم حکومت برآمدات کے لیے متبادل راستوں اور ملکوں کے ساتھ رابطہ کر رہی ہے۔ حکام چاہتے ہیں زاہدان اور تافتان کے راستے آلوؤں کی یہ برآمد ایران کو کی جائے۔
وفاقی وزیر نے مجلس قائمہ کو بتایا کہ پاکستان سالانہ بنیادوں پر عام طور پر 7 سے 8 ملین میٹرک ٹن آلو ذخیرہ کرتا ہے۔ اس سے زیادہ آلو ذخیرہ کرنے کی ملک میں جگہ نہیں ہے۔ جبکہ آلو کی سالانہ پیداوار 13 ملین میٹرک ٹن اندازہ لگائی گئی ہے۔ اس وجہ سے آلوؤں کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی ہوگئی ہے۔
پاکستان سبزیاں برآمد کرنے والے ملکوں میں ہے۔ خاص طور پر پاکستانی آلو تاجکستان ، قازقستان ، کرغیزستان ، ترکمانستان ، ازبکستان اور افغانستان کو بھیجے جاتے ہیں۔
فوڈ سیکیورٹی کے وزیر نے ایران کو آلو بھجوانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ چین کو بھی ایک متبادل روٹ کے طور پر ڈسکس کیا۔
انہوں نے کہا اگرچہ چین کے لیے برآمدات کا روٹ مختصر ہے لیکن اس کے لیے باقی ضروریات پیچیدہ ہیں۔ کیونکہ پہاڑی سفر کی وجہ سے ٹرانسپورٹیشن کی لاگت دوسرے ملکوں کے مقابلے میں بڑھ جاتی ہے۔
کامرس ڈویژن کے حکام نے اسی اجلاس میں یہ بھی کہا کہ افغانستان کے مقابلے میں ایران تک اشیاء کی رسائی کو بھی ایک لمبا راستہ طے کرنا پڑتا ہے۔
تاہم وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے یقین دہانی کرائی کہ وزیر اعظم شہباز شریف ذاتی طور پر ان چیزوں کو دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ روس پاکستانی آلو خریدنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ بلکہ اس نے معیار کے بارے میں کچھ شکایات کی بنیاد پر پچھلے برسوں سے پاکستان سے آلو برآمد کرنے پر پابندیاں لگا رکھی ہیں۔