پاکستان نے اپنے حج انتظامی تجربے میں بنگلہ دیش کو شریک کرنے کی پیشکش کی ہے تاکہ قریبی تعاون کے ذریعے عازمین کے تجربے کو بہتر بنایا جا سکے، پاکستانی سرکاری نشریاتی ادارے نے جمعرات کو رپورٹ کیا۔
دونوں ممالک 2024 میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد سے قریب آگئے ہیں۔
نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کے مطابق پاکستان میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر اقبال حسین خان سے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران ملک کے وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا، عازمین کے لیے حج اور عمرہ کے انتظامات کو بہتر بنانا ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
یوسف کے حوالے سے بتایا گیا، "عازمینِ حج کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے اور وہ حج کے انتظام میں بنگلہ دیش کو اپنے تجربے میں شریک کرنے کے لیے تیار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون سے زائرین کو مزید سہولت مل سکتی ہے۔"
وزارت مذہبی امور کے مطابق اس سال پاکستان سے تقریباً 179,210 عازمین حج ادا کریں گے۔ ان میں سے تقریباً 120,000 عازمین سرکاری سکیم کے تحت جبکہ باقی نجی ٹور آپریٹرز کے ذریعے جائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق یوسف اور خان نے ملاقات کے دوران حج انتظامات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور مذہبی تعاون کی راہیں تلاش کرنے پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتے ہوئے ادارہ جاتی روابط کے درمیان گذشتہ ماہ قومی مسافر بردار بیمان بنگلہ دیش ایئرلائنز 2012 کے بعد پہلی باقاعدہ پرواز کے لیے پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں اتری۔ دونوں ممالک نے 2024 کے آخر میں بحری تجارت کا آغاز کیا جس کے بعد حکومتوں کے درمیان تجارت بڑھانے کی کوششیں کی گئیں۔