بنوں میں پولیس چوکی پر شدت پسندوں کا حملہ، 15 اہلکار جان سے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ ہفتے کی رات دہشت گردوں نے پولیس چوکی فتح خیل پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی، حملے کے نتیجے میں اب تک 15 پولیس اہلکار جان سے گئے جبکہ تین زخمی ہیں۔

بنوں کے رینجل پولیس افسر سجاد خان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے کے نتیجے میں چوکی منہدم ہو گئی اور کئی پولیس اہلکار ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق تین اہلکاروں کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔ یہ چوکی بنوں کے منڈان تھانے کے حدود میں واقع ہے اور اس سے پہلے بھی اس تھانے اور اسی علاقے میں پولیس اہلکاروں اور پولیس وین پر حملے کیے گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق لاشوں اور زخمیوں کر فوری طور پر بنوں کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور ریسکیو و سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔

اس سے قبل خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک پولیس اہلکار کے حوالے سے بتایا تھا کہ شدت پسندوں کی جانب سے بارودی مواد سے لیس گاڑی پولیس کی چوکی سے ٹکرائی گئی تھی۔

رائٹرز نے ایک پولیس اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ شدت پسندوں کی جانب سے بارودی مواد سے لیس گاڑی پولیس کی چوکی سے ٹکرائی گئی اور انھوں نے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے پولیس پر فائرنگ کی۔

بنوں کے رینجل پولیس آفسر سجاد خان نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ حملے کے وقت چوکی میں 15 اہلکار ڈیوٹی پر موجود تھے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق کالعدم تنظیم اتحاد المجاہدین پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے مگر تاحال پولیس حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے فتح خیل چوکی پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضلع بنوں میں فتح خیل پولیس اسٹیشن پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف خیبر پختونخوا کی نہیں بلکہ پورے ملک کی جنگ ہے، بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں اور مسلط کردہ پالیسیوں نے ملک کو بدامنی کی دلدل میں دھکیلا، دہشت گردی سے متاثرہ ہر خاندان کے ساتھ خیبر پختونخوا حکومت کھڑی ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا پولیس نے دہشت گردی کے خلاف صف اول میں رہ کر عظیم قربانیاں دی ہیں، شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے، دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ کرکے دم لیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں