وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اتوار کو امید ظاہر کی ہے کہ ان کا ملک جلد ہی ایران-امریکہ امن مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کر سکتا ہے۔
شہباز شریف نے ایکس پر پوسٹ کیا، "پاکستان اپنی امن کوششیں انتہائی خلوص سے جاری رکھے گا اور ہم بہت جلد مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کرنے کی امید رکھتے ہیں۔"
ایران پر تازہ ترین پیش رفت پر تبادلۂ خیال کے لیے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے علاقائی اور مسلم رہنماؤں سے مشترکہ ٹیلیفونک رابطہ کیا جس کے بعد شہباز شریف کا ایکس پر تبصرہ سامنے آیا ہے۔ اس فون کال کے دوران پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے اسلام آباد کی نمائندگی کی۔
ٹرمپ نے کال کے بعد ٹروتھ سوشل پر کہا، امریکہ اور ایران کے درمیان "ایک معاہدے پر بہت حد تک بات چیت ہوئی ہے۔" نیز کہا، "فی الحال ڈیل کے حتمی پہلوؤں اور تفصیلات پر بات چیت ہو رہی ہے اور جلد ہی اس کا اعلان ہو گا۔ معاہدے کے کئی دیگر پہلوؤں کے علاوہ آبنائے ہرمز بھی کھول دی جائے گی۔"
شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ کو قیامِ امن کی کوششوں اور مشترکہ فون کال کے انعقاد پر مبارکباد دی۔
انہوں نے کہا، "مذاکرات سے موجودہ علاقائی صورتِ حال اور خطے میں پائیدار امن کے لیے جاری کوششوں میں پیش رفت کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کرنے کا ایک مفید موقع ملا"۔
علاوہ ازیں پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کو کہا کہ امریکہ-ایران مذاکرات میں "بامعنی پیش رفت" ہوئی۔ اس بیان سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ ایک مثبت اور پائیدار نتیجہ دسترس میں ہے۔
ٹرمپ کی زیرِ قیادت فون کال "علاقائی امن، استحکام اور ابتدائی سفارتی نتائج کے مشترکہ مقصد کی جانب ایک اہم قدم کی نشاندہی کرتی ہے۔"
ڈار نے کہا، "پاکستان پائیدار امن، باہمی احترام اور علاقائی استحکام کے لیے تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت کے لیے پرعزم ہے۔ ان مذاکرات کی کامیابیاں اس امید کی بنیاد پیش کرتی ہیں کہ ایک مثبت اور پائیدار نتیجہ دسترس میں آ سکتا ہے۔"