لبنانی آرمی چیف پاکستان کے دورے پر فیلڈ مارشل سے ملاقات کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

لبنانی فوج کے سربراہ ایک اہم دورے کے لیے ہفتے کے روز پاکستان روانہ ہوئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان کا یہ دورہ پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دعوت پر ترتیب دیا گیا ہے۔ لبنانی فوج کے سربراہ روڈلف ہائیکل فیلڈ مارشل سے ملاقات کریں گے۔

مغربی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق ان کا یہ دورہ امریکہ ایران جنگ بندی کرنے میں پاکستان کے ایک ثالثی کردار کی وجہ سے ان دنوں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ لبنان بھی اس جنگ کا ہدف ہے کہ 2 مارچ سے اسرائیل نے لبنان کے اندر بھی ایک مرتبہ پھر سے جنگی کارروائیوں کا تباہ کن سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ لبنان کے خلاف اسرائیلی جنگ کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اسرائیلی و امریکی بمباری کی وجہ سے اپنے گھر میں اہل خانہ سمیت جاں بحق ہو گئے تھے۔ تو لبنانی ملیشیا حزب اللہ نے اسرائیل سے بدلہ لینے کے لیے اسرائیل پر راکٹ داغے تھے۔

پاکستان آج ایران میں امریکی جنگ رکوانے کے لیے ایک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ لبنان میں اسرائیل کی 2 مارچ سے جاری جنگ کو ایران نے اپنے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ کا حصہ قرار دیتے ہوئے امریکہ کے ساتھ اپنے مذاکرات کو لبنان میں بھی جنگ بندی کے ساتھ مشروط کیا تھا۔ اگرچہ کہ اب امریکی حملوں کے رد عمل میں ایران نے از خود اس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی معطلی کا اعلان کر رکھا ہے۔

اس دوران لبنانی فوج کے سربراہ کا پاکستان آنا یقینا اہم ہے۔ لبنانی فوج کے ہفتے کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل کی دعوت پر پاکستان کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ وہ فیلڈ مارشل پاکستان سے ملاقات کریں گے۔

خیال رہے فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے کلیدی کردار کے حامل سمجھے جاتے ہیں وہ ایک سے زائد بار ان جنگی دنوں میں ایرانی قیادت سے ملاقات کے لیے جا چکے ہیں۔ جنگی فریق ان پر پورا بھروسہ کرتے ہیں۔

ادھر لبنان میں اسرائیل کی تازہ جنگ کے نتیجے میں اب تک تقریبا 3600 لبنانی ہلاک کیے گئے ہیں۔ جبکہ نقل مکانی پر مجبور کر دیے گئے لبنانیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ اسرائیل نے بار بار جنگ بندی کے باوجود لبنانی عوام کو مارنے کی مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔ یہ اس کے بھی باوجود ہے کہ بظاہر لبنان امریکہ و اسرائیل کی جنگ کا ہدف نہیں تھا، مگر ایران سے زیادہ اسرائیل اسی لبنان کے خلاف لڑنے مرنے پر تلا نظر آتا ہے۔

لبنان کے صدر جوزف عون نے 'سی این این' کے ساتھ اپنے ایک انترویو میں کہا ہے کہ ایران کو لبنان میں مداخلت لازما چھوڑنا ہو گی۔ کیونکہ لبنان اسرائیل کے ساتھ امریکی نگرانی میں مذاکرات کر رہا ہے۔ جوزف عون نے ایرانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا یہ تمہارا ملک نہیں یہ ہمارا ملک ہے۔ اس لیے اس کے لیے پریشان ہونا تمہارا کام نہیں یہ ہمارا فرض ہے۔

لبنانی صدر نے اس انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ ایران لبنان کو ایک 'بارگیننگ چپ' کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ یہ ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

ہفتے کے روز لبنانی فوج نے ایک بیان میں مزید تین فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ یہ تینوں لبنانی فوجی جنوبی لبنان میں اسرائیل کی بمباری سے مرے ہیں۔ اگرچہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان اسی ہفتے ایک نئی جنگی بندی مشروط طور پر طے کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں