پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے گرم ترین شہر جیکب آباد میں ہفتے کا دن انتہائی گرم رہا۔ گرمی کی لہر جس کا آغاز سات جون سے ہوا تھا۔ ابھی تک جاری ہے، پیش گوئی کے مطابق یہ لہر ابھی ایک آدھ دن تک جاری رہے گی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ہفتے کے روز درجہ حرات 48 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق گرمی کی لہر 7 جون سے 12 تک جاری رہنا تھی ، لیکن یہ لہر ابھی جاری ہے۔ جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق جمعہ کے روزصوبہ سندھ کے جس شہر میں سب سے زیادہ گرمی رہی وہ اندرون سندھ کا دادو شہر تھا۔ یہ درجہ حرات 51 ڈگری سینٹی گریڈ تک چلا گیا تھا۔
نواب شاہ جسے اب بے نظیر آباد کے نام سے یاد کیا جاتا ہے میں بھی درجہ حرارت 48 رہا۔ اس کے مقابلے میں کراچی شہر مقابلتاً کم گرم رہا اور کراچی میں درجہ حرارت 36 رہا۔
یاد رہے جیکب آباد دنیا کے گرم ترین شہروں میں شامل ہے۔ مگر اس گرمی کی شدت سے شہریوں بچانے کے لیے رواں سال بھی کوئی اہتمام نہ کیا گیا تھا، بالعموم عوام کو جیسے ان کے حالات پر چھوڑدیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ حکومت سندھ ان گرمی کی شدت کے دوران پانی کی فراہمی آسان بنانے یا حکومتی خرچے پر دینے کا بھی نہیں سوچا جاتا۔یہ بات راجہ خالد نے کہی، راجہ خالد جیکب آباد کے رہائشی ہیں۔
ایک اور رہائشی محمد خالد مگسی نے کہا گرمی کی اس شدید تر لہر کی وجہ سے دکانیں آدھا دن بند رہتی ہیں۔ کاروبار زندگی معطل ہے۔ سڑکیں اور بازار سنسان پڑے ہیں۔ مقامی لوگوں نے صوبائی حکومت اور سیاسی قیادت سے مطالبہ کیا ہے وہ عوام کے لیے پانی، خوراک اور ہیٹ سٹروک کا شکار مریضوں کے لیے، بچاؤ کے لیے خصوصی بندوبست کریں اور عوام کے ریلیف کے لیے کچھ کریں۔