پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حکام نے دو ماہ قبل اغوا کردہ ایک ترک شہری کو تلاش اور بازیاب کر کے بحفاظت وطن واپس پہنچا دیا ہے، ایک اہلکار نے ہفتے کے روز بتایا۔
صالح گلجمالبلوچستان کے معدنیات سے مالا مال ضلع چاغی میں کام کرنے والی ایک کان کنی کمپنی نیشنل ریسورسز لمیٹڈ (این آر ایل ) کے ساتھ بطور ڈرلنگ آپریٹر کام کرتے تھے۔ انہیں درجنوں مسلح افراد نے 23 اپریل کو کان کنی کے مقام پر ایک مربوط دہشت گرد حملے کے بعد اغوا کر لیا تھا۔ حملے کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
مستونگ میں ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہفتے کے روز عرب نیوز کو بتایا، "مغوی ترک شہری کو چھے روز قبل مستونگ شہر سے تقریباً 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پہاڑی علاقے کِلن پسند خان سے بازیاب کرایا گیا تھا۔"
ترک شہری کو بعد ازاں کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔ وہ قانونی کارروائیوں کے بعد بحفاظت ترکی روانہ ہو گئے اور اب دوبارہ اپنے خاندان سے جا ملے ہیں۔
اہلکار نے یہ نہیں بتایا کہ گلجمال کو سکیورٹی آپریشن کے دوران بازیاب کیا گیا یا انہیں اغوا کاروں نے رہا کیا۔ چاغی میں کان کنی کے مقام پر حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔
ایک پولیس اہلکار نے جمعرات کو بتایا کہ پاکستان کی ائیرپورٹ سکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کا ایک افسر جسے ایک ماہ قبل اغوا کیا گیا تھا، بلوچستان کے ضلع قلات میں مردہ حالت میں پایا گیا جس کے چند دن بعد یہ پیشرفت سامنے آئی ہے۔
کراچی سے تعلق رکھنے والے اٹھاون سالہ محمد وسیم کو مسلح افراد نے کوئٹہ-کراچی ہائی وے سے 23 مئی کو اس وقت اغوا کر لیا تھا جب وہ اپنے آبائی شہر سے کوئٹہ جا رہے تھے۔
حکام کے مطابق گذشتہ ماہ گوادر یونیورسٹی کے چار ملازمین بشمول وائس چانسلر کو بلوچستان کے ضلع مستونگ سے نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا۔ اغوا کاروں نے بعد میں انہیں رہا کر دیا تھا۔