سعودی عرب میں پیدا ہونے والے پاکستانی کے دلیرانہ اقدام کی وجہ سے اٹلی میں پذیرائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

اطالوی حکام نے سعودی عرب میں پیدا ہونے والی پاکستانی نوجوان کی بہادری کا اعتراف کیا ہے۔ اس بہادر پاکستانی نوجوان نے دو بچوں کی جان بچانے کے لیے اپنی جان کی بھی پروا نہ کی تھی۔ دونوں بچوں کو ایک حملے کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

اس پاکستانی شہری نے اس کے باوجود خطرہ مول لے کر دو اطالوی بچوں کی جان بچالی کہ اس کا اپنے دل کا آپریشن محض تین ماہ قبل ہوا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی والدہ کی دی ہوئی تعلیم اور تربیت کی بنیاد پر یہ خطرہ مول لیا، کہ والدہ نے دوسروں کی مدد کے لیے ہمیشہ حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔

39 سالہ پاکستانی نوید اسلم شمالی اٹلی کے علاقے بریشیا میں مقیم ہے اور ایک کوریئر کے طور کام کرتا ہے۔ وہ 19 جون کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ ایک پارک میں بیٹھا تھا کہ ایک شخص نے پارک میں موجود بچوں پر حملہ کر دیا۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ حملہ آور شخص منشیات کے استعمال اور گھر ممیں نظر بندی کی وجہ سے نفسیاتی عوارض میں مبتلا ہو چکا ہے۔ حملہ آور کا تعلق نائیجیریا سے بتایا گیا ہے اوراس کی عمر 29 سال ہے۔

اس شخص نے پہلے ایک چار سالہ مصری بچے کی گردن کو دبوچا اور اسے اس کی سائیکل سمیت اوپر اٹھا کر ہوا میں لہرا دیا۔ نوید اسلم نے یہ دیکھتے ہی حملہ آور کی طرف لپک کر اسے دھکا دیا اور بچے کو اس کی گرفت سے چھڑا لیا۔ حملہ آور نے پلٹ کر کنکریٹ سے بنے فرش پر زور سے مکے مارنے شروع کر دیے۔ یہاں تک کہ اس کا ہاتھ زخمی ہو گیا اور اس سے خون بہنے لگا۔

اگلے ہی لمحے اس شخص نے ایک سات سالہ بچے پر حملہ کردیا۔ اسے زمین پر گرایا اور اس کا بازو مروڑنا شروع کر دیا۔ نوید نے پھر اس شخص کا لپک کر تعاقب کیا۔ اگرچہ نوید اسلم کی اہلیہ نے اسے روکا کہ یہ پاگل شخص ہے اس سے نہ الجھو۔ کیونکہ تین ماہ پہلے ہی دل کے آپریشن سے گزرنے کے بعد پیس میکر لگوانا پڑا تھا۔ اس سے قبل اس کا بلڈ پریشر اچانک نیچے چلا گیا تھا اور وہ دو گھنٹے تک بے ہوش پڑا رہا تھا۔

لیکن نوید اسلم کے بقول اس نے اپنی اہلیہ کو بتایا زندگی اور موت کا اختیار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ آج اگر میں کسی اور کے بچوں کو بچانے کی کوشش کر رہا ہوں تو کل کوئی اس کے بچوں کو بچانے کے لیے آگے بڑھے گا۔ اس لیے اہلیہ کے روکنے کے باوجود وہ بچوں کو بچانے کے لیے خطرہ مول لیتا رہا۔

اس دوران حملہ آور شخص نے نوید اسلم کو بھی دھمکیاں دیں اور اس کی گردن سے اسے پکڑنے کی کوشش کی۔ لیکن اس نے حملہ آور پر قابو پا کر اسے نیچے گرا دیا اور اس کے اوپر چڑھ بیٹھا۔ یہاں تک کہ 20 منٹ تک پولیس بھی پہنچ گئی۔ ان 20 منٹوں کی کشتی نما لڑائی میں حملہ آور خود کو چھڑانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارتا رہا۔ لیکن نوید اسلم کے گھونسوں کے سامنے بے بس ہو گیا۔

نوید نے کہا اس ساری دھینگا مشتی کے دوران کوئی بھی تیسرا شخص اس کی مدد کو نہیں آیا۔ حتیٰ کہ پولیس کو حملہ آور کو ہتھکڑی لگانے اور پولیس کی گاڑی میں ڈالنے میں بھی نوید نے ہی پولیس کی مدد کی۔ اس نے اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا اگر آپ کے سامنے کوئی مشکل میں ہو، یا کوئی غریب مسئلے میں گرفتار ہو جائے تو اس کی ضرور مدد کرنی چاہیے۔ یہ میری والدہ نے مجھے سکھایا تھا۔

اس لیے میں نے اگر اچھا کام کیا ہے تو اس اچھائی کا کریڈٹ میری والدہ کو جاتا ہے۔ بچوں کو حملہ آور سے بچانے کی کوشش میں نوید اسلم کو بھی سینے اور کندھے کے بائیں جانب چوٹیں آئیں مگر ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نوید اسلم کی جان کو کوئی خطرہ نہیں بلکہ یہ معمولی زخم ہیں اور 'پیس میکر' بھی درست کام کر رہا ہے۔ تاہم نوید اسلم کے ٹیسٹ ہونے اور ابتدائی طبی امداد کے لیے انہیں چار گھنٹے ہسپتال میں رہنا پڑا۔ صبح کے چار بجے وہ ہسپتال سے نکلا اور اپنی ڈیوٹی پر پہنچ گیا۔

بریشیا کے میئر لورا کیسٹیلٹی نے نوید اسلم کی بہادری کی تعریف کی اور انہیں ایک شہری کے طور پر شیلڈ پیش کی گئی۔ میئر نے ان کی بہادری اور دلیرانہ انداز کی تعریف کی اور کہا نوید اسلم جن کی اطالوی شہریت کی درخواست التوا میں ہے اب جلد اس پر پراسس مکمل کر لیا جائے گا۔

نوید اسلم جنہوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی 26 سال ریاض میں گزارے ہیں ۔ بعد ازاں پاکستان منتقل ہو گئے تھے مگر پچھلے سات سال سے اٹلی چلے آئے تھے اور یہیں مستقل شہری کے طور پر رہنے کے لیے شہریت کی درخواست بھی دے چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اٹلی کی شہریت کا ان کا کیس بتایا گیا ہے کہ تیزی سے آگے بڑھے گا اور انہیں اس سلسلے میں جمعہ کے روز بلایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا میری والدہ جنہوں نے غریبوں کی مدد کی نصیحت کی ہے مجھے اٹلی میں ملنے والی عزت کو گجرات میں بیٹھی دیکھ رہی تھیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ میں نے اپنے والدین کا نام روشن کیا ہے۔ یاد رہے نوید اسلم پاکستان کے تاریخٰی شہر گجرات کا رہائشی ہے۔

اطالوی اخبار کے مطابق میئر نے اپنے خطاب میں کہا ہم نوید اسلم کے ممنون ہیں کہ انہوں نے دلیرانہ اقدام کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں