پاکستان کی پیرا ملٹری فورس 'رینجرز' کے چار اہلکار دہشت گرودں کے ایک حملے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ پاکستان کے سب سے بڑے اور ساحلی شہر کراچی میں ہفتے کے روز کیا گیا۔ ایک سینیئر ذمہ دار کے مطابق رینجرز پر حملہ کرنے والے 6 دہشت گردوں کو بھی ہلاک کر دیا گیا ہے۔ جبکہ ایک دہشت گرد کو زخمی حالت میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔
دہشت گردوں نے رینجرز کی ایک گاڑی کو گلستان جوہر میں ایک بیریئر حملے کا نشانہ بنایا۔ گلستان جوہر میں سکیورٹی کی ذمہ داریوں میں رینجرز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ حملے کی ذمہ داری دہشت گرد گروہ جماعت الاحرار نے قبول کر لی ہے۔
جماعت الاحرار بڑی دہشت گرد تنظیم 'ٹی ٹی پی' کا ایک حصہ ہے، پاکستان پر 'ٹی ٹی پی' کے حملے افغانستان میں طالبان حکومت بحال ہونے کے بعد سے بڑھ گئے ہیں۔ 'ٹی ٹی پی' کی زیادہ کارروائیوں کا مرکز صوبہ خیبر پختونخوا رہا ہے۔ یہ گروہ سویلین آبادی اور سرکاری اہداف دونوں کویکساں طور پر نشانہ بناتا رہتا ہے۔
ہفتے کے روز کراچی میں کیے گئے اس حملے میں رینجرز کے کم از کم چار اہلکاروں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ جبکہ ایک خود کش حملہ آور کے ساتھ دیگر پانچ دہشت گردوں کو بھی ہلاک کر دیا گیا ہے۔ پولیس کی ان فراہم کردہ معلومات کے علاوہ ایک اور ذریعے نے ایک دہشت گرد کے زندہ گرفتار کیے جانے کی بھی اطلاع دی ہے۔ ایک کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا ہے۔
ادھر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وطن کے ان بہادر سپاہیوں کی عظیم قربانیاں ملک کے دفاع، سلامتی اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں، اور پاکستان کی مسلح افواج ہر قیمت پر وطن کے تحفظ کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم پر قائم رہیں گی۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ "آئی ایس پی آر" نے کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ’’عزمِ استحکام‘‘ کے وژن کے تحت غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی انتھک انسداد دہشت گردی مہم پوری قوت کے ساتھ جاری رکھیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان اپنے شہید جوانوں کی قربانی کا بدلہ لینے کے لیے اس حملے کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بھرپور جوابی کارروائیاں کرے گا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی کراچی حملے کی مذمت کی ہے۔صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے اس واقعے کے بارے میں آئی جی پولیس کو تفصیلی رپورٹ فوری پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی مرکز کراچی میں گذشتہ برسوں کے دوران عسکریت پسندوں کے متعدد حملے دیکھے گئے ہیں، جن میں سکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اور چینی مفادات کو نشانہ بنانے والے حملے شامل ہیں۔
اکتوبر 2024 میں شہر کے ایئرپورٹ کے قریب ہونے والے ایک خودکش دھماکے دو چینی شہری ہلاک اور دیگر 11 افراد زخمی ہوئے تھے۔
اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔ حملے کے اگلے مہینے نومبر میں سندھ کے وزیرِ داخلہ ضیا الحسن النجار نے اس حملے میں ملوث دو افراد کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔
اس سے قبل فروری 2023 میں شاہراہ فیصل پر واقع کراچی پولیس آفس پر مسلح شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پولیس اور رینجرز نے اس حملے کے دوران تین عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کی تصدیق کی تھی، جس کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تھا۔