اسلام آباد: بحرین اور کویت پر حملوں کے بعد خلیج میں کشیدگی روکنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں
آبنائے ہرمز سے تمام بحری جہازوں کو منظور شدہ راستوں سے گذرنا چاہیے: ایران کا انتباہ
بحرین اور کویت پر حملوں کے بعد پاکستان نے جمعرات کو کہا ہے کہ شرقِ اوسط کا وسیع تر تنازعہ روکنے میں مدد کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں اور خبردار کیا ہے کہ مزید کشیدگی علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے ایلچی کا یہ بیان سلامتی کونسل کے اجلاس میں سامنے آیا ہے۔ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں میں کویت اور بحرین میں امریکی فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد بحرین کی درخواست پر یہ اجلاس طلب کیا گیا۔
ایران اور امریکہ نے ایک عبوری معاہدے کے تحت 60 دنوں تک بحری جہازوں کو ادائیگی کے بغیر گذرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا۔ لیکن تہران نے اصرار کیا ہے کہ وہ جہازوں کے راستوں کو کنٹرول کرے اور بعد میں گذرنے کے لیے فیس وصول کرے جو آبی گذرگاہ میں کئی عشروں سے رائج طریقے کے خلاف ہے۔
امریکہ اور کئی خلیجی عرب ریاستوں کا خیال ہے کہ وہ ایران کی فیس وصولی سے اتفاق نہیں کریں گے۔ عمان اور اقوامِ متحدہ کی ایجنسی نے عمان کے ساحل کے قریب ایک نیا راستہ شروع کرنے کی کوشش کی جو گذشتہ ہفتے کے آخر میں ایرانی حملوں کی وجہ بنی۔
پاکستان کے ایلچی عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کو بتایا، "پاکستان جی سی سی (خلیجی تعاون کونسل) ممالک کے خلاف حملوں کی سختی سے مذمت کرتا رہا ہے اور ایک بار پھر بحرین اور کویت میں اپنے بھائیوں اور بہنوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔"
انہوں نے خبردار کیا کہ "جنگ میں مزید کسی بھی قسم کی شدت اور تسلسل صرف انسانی مصائب میں اضافہ کرے گا اور علاقائی و بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین نتائج کا باعث بنے گا۔" اس سلسلے میں انہوں نے کہا، پاکستان "کسی بھی کشیدگی کو روکنے کے لیے مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔"
یہ بیان پاکستانی اور قطری ثالثین کی دوحہ میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں سے الگ الگ ملاقاتوں کے بعد سامنے آیا اور پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق امور پر "مثبت پیش رفت" ہوئی۔
امریکی صدر ٹرمپ نے دوحہ ملاقاتوں کو "مثبت پیش رفت" قرار دیا ہے۔ دوسری جانب دوحہ اجلاسوں میں تہران کے وفد کی قیادت کرنے والے اور ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے جمعرات کو کہا ہے کہ فریقین نے ابتدائی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزیوں کی اطلع دینے اور ریکارڈ کرنے کے لیے ایک مواصلاتی چینل قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کو بتایا، "مواصلات کے راستے کھلے ہیں اور ہم امن، سلامتی اور سکون قائم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے پورے خطے اور تمام ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔"