پاکستان کی طرف سے جمعہ کے روز ایشین بنک کو اسلام آباد ایئرپورٹ کے آپریشنز کو آؤٹ سورس کرنے کے لیے ایڈوائزر مقرر کیا ہے۔ پاکستان کا نجکاری کمیشن مختلف سرکاری اداروں اور صنعتی یونٹس کو حکومت کے کامیابی سے چلا نہ سکنے کے باعث فروخت کرنے میں مصروف ہے۔ ان اداروں میں بھی زیادہ تر حکومتی گورننس کے ہی مسائل ہیں۔
جمعہ کے روز جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ نجکاری کمیشن نے اسلام آباد میں حالیہ برسوں میں قائم کیے گئے بین الاقوامی ایئر پورٹ کے آپریشنز بھی نجی شعبے کو دینے کے لیے ایشین بنک کو ایڈوائزر مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت نے اس اقدام کو قومی وسائل کی فروخت کے لیے ایک اہم پیش رفت اور کامیابی خیال کیا ہے۔
اس سلسلے میں آئی ایم ایف جو پاکستان کو سالہا سال سے اپنے قرضوں کے تناظر میں دیکھتا ہے اور پاکستان کو انہی قرضوں کی بنیاد پر پالیسیاں بنانے کا مشورہ دیتا ہے اس طرح گورننس بہتر ہاتھوں میں جائے گی تو ادارے منافع دینے لگیں گے اور ان میں لوٹ کھسوٹ رک سکے گی۔
نجکاری کمیشن نے ایشیائی ترقیاتی بنک پر پوری طرح اظہار اعتماد کیا ہے۔ کہ بنک کا تجربہ اور مہارت بہت وسیع ہے۔ اس لیے امید ہے کہ کامیابی سے اہم ٹرانزیکشن کو تیزی کے ساتھ مکمل کر لے گا۔ مسابقت وشفافیت کا بھی بہتر ماحول ہو گا۔ یہ بات نجکاری کمیشن کے بورڈ ایڈوائزر تعینات کرنے کے بعد جاری کردہ بیان میں کہی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ نجی شعبے کے کوالیفائیڈ آپریٹرز کو طویل مدتی بنیادوں پر دیا جائے گا۔ اس کے لیے بولی ہوگی، بہتر بولی دینے والے کو یہ ذمہ داری سونپی جائے گی۔
یاد رہے یہ ایئر پورٹ 2018 میں افتتاح ہونے کے بعد سے آپریشنل ہے۔ اس کی تعمیر کی لاگت ایک ارب ڈالر آئی تھی۔ تاہم اس کی تعمیر میں بھی التوا ہوتا رہا اور کافی تنقید بھی کی جاتی رہی۔ حکومت کو پورا یقین ہے کہ ایئرپورٹ اس کے ہاتھوں سے نکلنے کے بعد بہتر کارکردگی دکھا سکے گا اور حکومت کی بجائے نجی شعبہ بہتر گورننس دے سکے گا۔