پاکستان کی معروف دانشگاہ 'نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز' نے پیر کے روز سیکرٹری جنرل عالمی رابطہ اسلامی ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی ہے۔ انہیں یہ اعزازی ڈگری بین المذاہب ہم آہنگی کی کوششوں اور امن و بقائے باہمی کے لیے کی گئی کوششوں اور خدمات کے باعث دی گئی ہے۔
عالمی رابطہ اسلامی مکہ میں قائم ایک غیر سرکاری ادارہ ہے جو دنیا بھر میں سرگرم اور فعال ہے۔ اس میں تمام مسلم ممالک سے نمائندے شامل کیے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر عیسیٰ اس کے سیکرٹری جنرل بننے سے پہلے 2009 سے 2015 تک سعودی عرب میں وزیر انصاف رہ چکے ہیں۔
وہ اس منصب کے علاوہ مسلم علماء کے فورم کے بھی چیئرمین ہیں۔ یہ فورم دنیا بھر میں مسلم علماء کی معتدل اور بے ضرر آواز ہے۔ ڈاکٹر عیسیٰ کے لیے صدرمملکت آصف علی زرداری نے ابھی پچھلے ہی ہفتے پاکستان کی طرف سے نشان خدمت کے اعزاز کا اعلان کیا ہے۔
ادھر 'نمل' کی طرف سے 'پی ایچ ڈی' کی اعزازی ڈگری کے لیے منعقد کی گئی تقریب میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی ، وزیر مملکت برائے تعلیم ڈاکٹر وجیہہ قمر کے ساتھ ساتھ حکومت کے اعلیٰ حکام اور عمائدین شریک ہوئے۔ علاوہ ازیں اکیڈیمیہ کی نمایاں شخصیات بھی اس موقع پر موجود تھیں۔
تقریب کے دوران ڈاکٹر عیسیٰ نے اپنے کلیدی خطاب میں اعزازی ڈگری کے لیے اظہار تشکر کیا اور کہا اس اعزاز نے میری ذمہ داری میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ میں اس عظیم درسگاہ کی تعلیمی عظمت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے اپنے لیے اس امر کو اعزاز قراردیا کہ یونیورسٹی نے انہیں یہ ڈگری عطا کی۔
انہوں اس موقع پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر رسوخ کا بھی ذکر کیا اور ملکی قیادت کی تحسین کی۔ بشمول صدر آصف علی زرداری پوری قیادت ، وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سب امن کی کوششوں کے لیے قابل تعریف ہیں۔ عالمی برادری بھی پاکستان کی قیادت کی اس خدمت اور کوشش کو جانتی ہے کہ پاکستان نے اس عالمی امن کے لیے بہترین ثالث کا کام کیا ہے۔ ہمیں پاکستان پر فخر ہے اور پاکستان کے لوگوں پر فخر ہے اور پاکستانی قیادت پر فخر ہے۔
ڈاکٹر عیسیٰ ایک اہم عالمی شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان کے زیر قیادت عالمی رابطہ اسلامی نے دنیا کے دیگر مذاہب میں بھی اثرات چھوڑے ہیں۔ اور میثاق مکہ جو کہ دنیا کے تمام مذاہب کے لیے بردباری و تحمل کا پیغام رکھتا ہے اور انتہا پسندی کو مسترد کرتا ہے۔ ڈاکٹر عیسیٰ کی قیادت میں اسے پذیرائی ملی ہے۔ وزیر مملکت ڈاکٹر وجیہہ قمر نے ڈاکٹر عیسیٰ کے لیے کلمات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا میں اعتدال اور مکالمے کے ایک بڑے وکیل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ اور انہوں نے تعلیم، انصاف، بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔
بعدازاں ڈاکٹر عیسیٰ نے پاکستان کے وزیرا عظم میاں شہباز شریف سے بھی ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ میرے لیے خوشی کی بات ہے کہ وہ شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ کا خیر مقدم کر رہا ہوں۔ میں انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری ملنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ان کی مسلم امہ کے لیے خدمات اور کوششیں غیر معمولی ہیں۔