سعودی عرب ِ: گداگروں کو ڈی پورٹ کیے جانے کی رفتار میں کمی ، شہباز حکومت کی سفارتی کامیابی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

رواں سال عرصے سے پاکستان سے تعلق رکھنے والے ان گداگروں کی پاکستان ڈی پورٹ کیے جانے کی تعداد میں سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کی طرف سے نمایاں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ پاکستان کے ایک عہدے دار نے بتایا ہے کہ پاکستاانی گداگروں کے خلاف ان ملکوں میں کریک ڈاؤنز میں بھی کمی آئی ہے۔ اس سے قبل یہ کریک ڈاؤنز گداگری کی حوصلہ شکنی کے لیے کیے جاتے تھے۔

نتیجتاً کئی پاکستانیوں کو سعودی عرب اور دیگر خلیجی ملکوں سے پچھلے برسوں میں ڈی پورٹ کیا گیا۔ اس صورت حال میں ان پاکستانوں کے ویزوں میں بھی مشکلات آنے لگی تھیں جو حقیقی معمنوں میں کام کر کے پاکستان کو زر مبادلہ بھیجنے والے ہوتے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے یہ معاملہ پاکستان کی حکومت کے سامنے بھی اٹھایا کہ نجی طور پر گداگری کرنے کے لیے سعودی عرب جانے والے ان افراد کو روکا جائے۔

'ایف آئی اے' میں امیگریشن سے متعلق ایڈیشنل ڈائریکٹر نعمان صدیقی نے اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے کہا بعض افراد کی طرف سے ویزے کے غلط استعمال کو روکنے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ 2024 میں اس طرح کے 4800 افراد کو سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ملکوں سے پاکستان ڈی پورٹ کیا گیا۔ یہ سب گداگری کے دھندے میں ملوث تھے۔ البتہ 2025 میں یہ تعداد 1100 ہو گئی۔

نعمان صدیقی کے مطابق اب یہ رجحان اور کم ہوا ہے کہ ویزے کا فرد غلط استعمال کرے۔ کیونکہ 2026 میں اب تک صرف ایسے 802 کیسز سامنے آئے ہیں جنہیں گداگری میں ملوث ہونے کی وجہ سے ڈی پورٹ کیے گیا ہے۔

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق 2024 کے دوران اس کھاتے میں 507 پاکستانیوں کو جہازوں سے اتار کر بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا۔ 2025 میں یہ تعداد 597 ہو گئی۔ جبکہ 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران یہ تعداد 27 تک نیچے آگئی ہے۔

نعمان صدیقی نے ایک سوال کے جواب میں کہا حکومت نے مشکوک افراد کے خلاف تحقیقات شروع کی ہیں۔ کئی کے خلاف تو باقاعدہ ایف آئی آرز بھی درج کی گئی ہیں۔ 2024 میں 34 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں اور 2025 میں ان ایف آئی آرز کی یہ تعداد 38 ہوگئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں