پاکستان نے انسانی سمگلنگ سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تیزی پیدا کی ہے تاکہ مشکوک سفری نمونوں کی نشاندہی، سمگلنگ کے ابھرتے ہوئے راستوں کا سراغ اور بارڈر سکریننگ کو مضبوط کیا جائے جبکہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کو نشانہ بنانے والی کرپٹو کرنسی کی تحقیقات کو وسیع کیا جا رہا ہے، امیگریشن کے ایک سینئر اہلکار نے کہا۔
جون 2023 میں یونانی قصبے پائلوس کے قریب مہاجرین کی ایک کشتی کے الٹ جانے سے 650 تارکینِ وطن میں سے 262 پاکستانی ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد ٹیکنالوجی پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کی گئی۔ یہ بحیرۂ روم میں تارکینِ وطن کو پیش آنے والے مہلک ترین حادثات میں سے ایک تھا۔ اس سانحے نے اسلام آباد کو انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے اور اپنے امیگریشن اور بارڈر مینجمنٹ سسٹم کو جدید بنانے پر آمادہ کیا۔
پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل برائے ترکِ وطن نعمان صدیقی نے عرب نیوز کو بتایا، "2023 میں کشتی حادثہ ہماری تاریخ کا ایک اہم موقع تھا۔ جہاں تک امیگریشن کا تعلق ہے تو اس حادثے کے بعد ہم نے کئی تکنیکی مداخلتیں کیں۔"
ایڈم سمتھ انٹرنیشنل میں امیگریشن پالیسی اور نفاذِ قانون کے مشیر عمر ریاض نے کہا، ایف آئی اے کا اے آئی اور ڈیٹا اینالیٹکس کو اپنانا بارڈر مینجمنٹ اور تمام دنیا میں سمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار کا مظہر ہے۔ ایف آئی اے کی ذمہ داری میں نئی ٹیکنالوجیز کے استعمال میں "چیلنجز اور مواقع" موجود ہیں۔
انہوں نے کہا، "ڈیٹا انٹیگریشن میں حالیہ اقدامات، اے آئی تجزیات اور کرپٹو تحقیقاتی سیل بہترین بین الاقوامی طریقوں اور تقاضوں کے مطابق انسانی سمگلنگ کو روکنے کے لیے کافی کارآمد ثابت ہوں گے۔"
ایف آئی اے کا ایک تازہ ترین اقدام ملک کے انتہائی مطلوب انسانی سمگلرز کا اے آئی ڈیٹا بیس ہے جس میں کاغذی ریکارڈ کی جگہ ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم نے لے لی ہے جو تفتیش کاروں اور عوام کے لیے قابلِ رسائی ہو۔
نعمان صدیقی نے کہا، "اب ہم ایک نئے مرحلے کا آغاز کر رہے ہیں اور یہ مطلوب ترین اور انسانی سمگلرز کا ویب پیج ہے جسے ہماری ٹیم نے ڈیزائن کیا ہے۔ یہ نہ صرف عام لوگوں بلکہ تمام تفتیشی افسران کے لیے بھی دستیاب ہو گا۔"
پلیٹ فارم میں مشتبہ سمگلرز کی تصاویر اور سوانحی تفصیلات شامل ہیں۔ اس سے شہریوں کا مشتبہ سمگلرز کے بارے میں معلومات ایف آئی اے کو جمع کروانا بھی ممکن ہو گیا ہے۔
صدیقی نے کہا، "ہم نے مسافروں کی پروفائلنگ شروع کر دی ہے۔ ہمارے پاس ایک رسک اینالیسس یونٹ ہے جو ہمیں مسلسل ڈیٹا فیڈ کرتا ہے اور اسے اے آئی کے ذریعے پروسیس کیا جاتا ہے جو یہ فیصلہ کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے کہ آیا مسافر کو سوار ہونے سے روکنا ہے یا نہیں۔"
نیز کہا، "ہم صوابدیدی فیصلے بالکل نہیں کرتے۔ اگر کوئی فریق یہ سمجھتا ہے کہ انہیں بلاجواز بنیادوں پر اتارا گیا ہے تو وہ اپیل کر سکتے ہیں۔"
نامعلوم راستے
اے آئی تجزیے نے حکام کو انسانی سمگلنگ کے نامعلوم راستوں کی نشاندہی کرنے میں بھی مدد کی ہے۔
ایف آئی اے کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2025 سے اپریل 2026 کے درمیان تقریباً 15,800 پاکستانیوں میں سے ہزاروں اپنے وزٹ ویزوں کی میعاد ختم ہونے کے بعد بھی بیرونِ ملک سے واپس نہیں آئے۔
پاکستان کی ٹیکنالوجی پر مبنی حکمتِ عملی کا ایک اہم حصہ اس کا انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم (آئی بی ایم ایس) ہے جو ائیرپورٹس، زمینی راستوں اور بندرگاہوں پر تعینات ہے۔ مسافروں کی سکریننگ کے لیے یہ نظام چہرے کی شناخت، دستاویز کی توثیق اور حقیقی وقت کی جانچ کو یکجا کرتا ہے۔
صدیقی نے کہا، "ہمارے پاس آئی بی ایم ایس میں چہرے کی شناخت ہے اور کوئی بھی کسی پاکستانی یا کسی غیر ملکی کی نقالی نہیں کر سکتا۔"
کرپٹو کرنسی کی تحقیقات
پاکستان انسانی سمگلنگ، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سمیت مالیاتی جرائم میں کرپٹو کرنسی کے استعمال کی تحقیقات کی صلاحیت کو بھی مضبوط کر رہا ہے۔
اس مقصد کے لیے ایف آئی اے نے تقریباً دو ماہ قبل ایک ورچوئل کرنسی انویسٹی گیشن سیل قائم کیا جو قانونی، تکنیکی اور تفتیشی صلاحیتوں سے آراستہ ہے۔
صدیقی نے کہا، "کرپٹو پر زیادہ تر منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت ہوتی ہے۔ یہ ایک نیا رجحان ہے۔"
منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے کنٹرول کو مضبوط بنانا کے لیے اصلاحات نافذ کی گئیں جس کے بعد پاکستان کو 2022 میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی "زیادہ نگرانی" کی فہرست سے ہٹا دیا گیا تھا۔
صدیقی نے کہا، انسانی سمگلنگ کے جرائم کو جلد ہی پاکستان کے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ (اے ایم ایل اے) میں ایک حکم نامے کے ذریعے شامل کر دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا، "اگر انہیں اے ایم ایل اے کے تحت کر دیا جائے تو انسانی سمگلرز کے خلاف نہ صرف انسانی سمگلنگ کے جرم میں بلکہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت بھی مقدمہ درج کیا جائے گا۔"