ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ اور اسامہ بن لادن

ارشاد احمد عارف
ارشاد احمد عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ ، میں جستہ جستہ پڑھ چکا ہوں، حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کی طرح یہ بھی کسی دوسرے ملک میں افشا ہوئی۔ قومی شرمندگی کو چھپانے کا یہ طریقہ ہم عرصہ دراز سے اپنا چکے ہیں کہ عوام کے جذبات ٹھنڈا کرنے کے لئے کمیشن یا کمیٹی بناؤ، رپورٹ سرد خانے میں ڈال دو اور عوام کی یادداشت سے اصل واقعہ اور رپورٹ دونوں کھرچ دو۔ مشرقی پاکستان کی یادیں ہم نے اسی طرح بھلائی تھیں۔

کمیشن کا قیام تو ایبٹ آباد آپریشن کے وقت ہمارے دفاع ، قومی خود مختاری اور سلامتی کے ذمہ دار افراد اور اداروں کی غفلت، کوتاہی، نااہلی اور حملہ آوروں کو بروقت جواب دینے میں ناکامی کا کھوج لگانے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی تدبیریں سوچنے کے لئے عمل میں آیا تھا مگر رپورٹ پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ زیادہ تر وقت اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی، آمد ورفت، رہن سہن اور کھانے پینے کے معمولات کا پتہ چلانے پر صرف ہواا ور آئی ایس آئی کو اس کی موجودگی کا ذمہ دارٹھہرا کر کمیشن بری الذمہ ہوگیا۔ گویا پاکستانی ایجنسیوں نے امریکا سے اسامہ بن لادن کی ”سپاری“ پکڑ رکھی تھی۔اور ایک مقصدا ور نظریے کی خاطر اپنی شاہانہ زندگی ترک کرکے گوشہ گمنامی میں شب و روز بسر کرنے والے اس عرب مجاہد کی زندہ یا مردہ گرفتاری آئی ایس آئی کا قومی فرض تھا جس میں سخت کوتاہی برتی گئی۔

یہ بحث 2014 ء میں امریکی فوجی انخلا کے بعد نئے سرے سے زور پکڑے گی کہ ہم نے پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ بن کر کیا کھویا کیا پایا؟ جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کو جس جہنم میں دھکیلا اور چند ڈالروں کے علاوہ اپنی حکمرانی کے جواز کی خاطر جوا کھیلا وہ ملک و قوم اور اس کے مستقبل کے لئے کس قدر مہنگا اور خطرناک ثابت ہوا؟ مگر یہ حقیقت سبھی تسلیم کرتے ہیں کہ ایبٹ آباد آپریشن ہمارے لئے قومی شرمندگی کا باعث تھا، 1971ء میں سقوط ڈھاکہ کی طرح کا صدمہ۔ اسامہ بن لادن کی شہادت پر داد و تحسین سمیٹنے والے بے حس حکمرانوں کے سوا ہر محب وطن کو اس واقعہ نے تذلیل اور عدم تحفظ کے اذیت رساں احساس میں مبتلا کیا ہر سطح پر یہ سوال اٹھا کہ کیا ہمارے نیوکلیئر اثاثے محفوظ ہیں؟ یہ اسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی تھی یا ہماری نیوکلیئر تنصیبات پر مستقبل میں ممکنہ آپریشن کی ریہرسل؟ اور کیا ہم کسی طاقتور جارح کو جواب دینے کی پوزیشن میں ہیں؟

اسامہ بن لادن ان حالات کی پیداوار تھا جو شکست و ریخت کے بعد سوویت یونین کے بطور سپر پاور عالمی منظر سے ہٹنے ، امریکا کے واحد سپر پاور کے طور پر ظہور پذیر ہونے کی وجہ سے افغانستان، عراق، الجزائر، فلسطین،کشمیر اور چیچنیا میں تسلسل سے پیش آئے اور کمیونزم سے فارغ ہونے کے بعد امریکا کے حکمرانوں اور دانشوروں نے مسلمانوں پر انتہا پسند، بنیاد پرست ، عسکریت پسند اور دہشت گرد کی اصطلاحیں چسپاں کرکے تہذیبوں کے تصادم کی نوید سنائی اس دور میں نکسن، ہنٹنگٹن، یوکوفاما اور الگور نے اپنی کتابوں، مضامین اور خطابات کے ذریعے سیاسی اسلام اور مسلمانوں کی بیداری کو مغربی تہذیب کے لئے خطرہ قرار دیا اور اس کا سرکچلنے کے لئے نیٹو برقرار رکھنے پر اصرار کیا۔

واشنگٹن میں بائبل پر حلف اٹھانے اور لندن میں کیتھولک عقیدے سے وفاداری جتلانے والے حکمرانوں کو اسلام کسی آئین میں پسند ہے، پارلیمینٹ میں نہ فوج اور خفیہ ایجنسیوں میں، اسی بناء پر امریکا کے پٹھو جنرل پرویز مشرف کے دور میں فوج اور ایجنسیوں سے سینکڑوں کی تعداد میں نماز روزے کے پابندافسروں اور اہلکاروں کو جبری ریٹائر کیا گیا۔ یہی مصر کا المیہ ہے اور یہی اسامہ بن لادن کا جرم تھا کہ وہ ہر جگہ امریکا اور مغرب کے دوہرے معیار پر سوال اٹھاتے اور ماضی کے مجاہدین کو دہشت گرد قرار دے کر صفحہ ہستی سے بذریعہ بندوق مٹانے کی پالیسی کی مزاحمت کرتے تھے۔

یہی کشمکش سی آئی اے اور اس کے تیار کردہ مجاہدین کے مابین تصادم کا باعث بنی اور سوویت یونین کے انہدام کے بعد دنیا بھر میں منصفانہ سیاسی، سماجی،اقتصادی و معاشی نظام کی بجائے جبر و استحصال پر مبنی غیر منصفانہ نیوورلڈ آرڈر پر اصرار نے گوریلا وار کی راہ ہموار کی جس میں احمقانہ شرکت نے پاکستان کو تورا بورا بنادیا۔ پچاس ہزار جانوں کی قربانی دے کر ہم امریکا کا اعتماد حاصل کرسکے نہ معاشی ترقی اور خوشحالی کی منزل سے ہمکنار ، جس کا وعدہ پرویز مشرف نے کیا تھا۔

امریکا آج بھی ان بندوق برداروں کے ساتھ ہے جو اس کے عالمی و علاقائی مفادات کے محافظ اور اپنی قوم کے علاوہ حقیقی جمہوریت اور اس کے نتیجے میں اقتدار سنبھالنے والے سول حکمرانوں کو عالمی سامراج کے ایجنڈے پر گامزن رکھ سکیں۔ یہ بندوق بردار کرگل میں کوئی حماقت کریں یا ایبٹ آباد میں غفلت کا مظاہرہ اور قاہرہ میں پرامن نمازیوں پر وحشیانہ فائرنگ ہر جگہ ناقابل دست اندازی آئین و قانون ہیں۔ کسی کو اعترا ض کا حق نہیں۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا قومی سلامتی کونسل کی تشکیل، خفیہ اداروں پر پارلیمانی نگرانی اور افغان سرحد پر باڑ لگانے سے ابیٹ آباد آپریشن ٹائپ کارروائیوں کاراستہ رک جائے گا؟ پاکستان کے قومی مفادات اور اثاثے محفوظ ہوں گے؟ سی آئی اے کے ایجنٹوں کو ویزوں کا اجرا نہیں ہوگا اور قومی دفاع و سلامتی کی ضمانت مل پائے گی؟ ایبٹ آباد کمیشن اس سوال کا جواب دینے کا مکلف نہ تھا مگر موجودہ حکمرانوں، سیاستدانوں، دانشوروں کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ ایک سوال اور بھی زیادہ سنجیدہ اور قابل توجہ؟

جب تک امریکا عالمی تھانیدار کے طور پر خود اور اپنے گماشتوں کے ذریعے ہر جگہ دخل انداز اور فیصلہ ساز ہے۔ عالمی سامراج سیاسی، اقتصادی، معاشی اور تہذیبی وثقافتی غلبے کے جنون میں مبتلا ہے۔ اسلامی عقیدے و نظریے اور الوہی، تعلیمات و تصورات کو بنیاد پرستی قرار دے کر سودی معیشت، عریاں ثقافت اور مذہب بیزار انداز فکر کو جمہوریت کی اساس اور تہذیب و ترقی کی علامت قرار دینے کی روشنی برقرار ہے اور اسلام کے نام لیواؤں کے لئے اپنے ممالک میں حکمرانی ممنوع اس وقت تک اسامہ بن لادن ، ڈاکٹر ایمن الظواہری کی فکر اور عالمی استعمار سے برگشتہ نوجوانوں کے جذبات کے سامنے بند باندھنا کس طرح ممکن ہے؟ کیونکہ امریکا کو تو صرف البرادعی، حسین حقانی، شکیل آفریدی پسند ہیں۔ ڈالروں، ویزوں، شہریت، ملازمتوں اور مراعات کے طلب گار مسلمان ہی اعتدال پسند ہوگئے ہیں اور قابل قبول۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size