.

موبائل ایس ایم ایس سے جنت کمانے کے خواہاں

انصار عباسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک بات جو میں اکثر سوچتا تھا اور جس پر مجھے الجھن بھی محسوس ہوتی تھی اُس کے اظہار کا موقع آج مجھے ملنے والے ایک موبائل پیغام نے دے دیا۔ چونکہ اس صورت حال کا تقریباً یہاں ہر موبائل استعمال کرنیوالے پاکستانی کو سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے اس معاملہ کو اپنے قارئین کے ساتھ شئیر کر رہا ہوں۔ موبائل پیغام بھیجنے والے کو میں نہیں جانتا مگر اُس نے میرے دل کی بات کی۔ پیغام بھیجنے والا لکھتا ہے: ” عجیب رواج چل نکلا ہے۔ آئے روز ملنے والے موبائل پیغامات مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ ایس ایم ایس (موبائل پیغام) نو لوگوں کو sendکرو تومراد پوری ہو گی، یہ ایس ایم ایس دس لوگوں کو send کرو ورنہ دس سال کے لیے بدقسمت ہو جاؤ گے، نقصان ہو جائے گا،یہ ایس ایم ایس دس لوگوں کو کرو تو خوش خبر ی ملے گی، جنت ملے گی ....... اور نجانے کیا کچھ۔کیا جنت و دوزخ کا فیصلہ اب موبائل کریں گے؟؟ کیا ہم اپنے دین کو اتنا ہی جانتے ہیں کہ موبائل کے ایک بٹن کو پریس کرنے سے جنت مل جائے گی اور اگر ایسا نہ کیا تو بدقسمت ہو جائیں گے؟؟ اگر ایسا ہے تو پھر نماز، روزہ، حج، زکوة، جہاد اور دیگر عمل کس کام کے!! کیا ایس ایم ایس کئی لوگوں کو بھیجنے سے مُراد پوری ہو گی تو پھراللہ تعالیٰ کے سامنے رونا، ہاتھ پھیلانا کس کام کا!! غورو فکر کریں۔“

کتنے ہی ایسے ایس ایم ایس ہمیں موصول ہوتے ہیں ہم لوگ ہیں کہ جنت کمانے ، اپنی قسمت کو بد لنے اور کسی آفت اور مصیبت سے بچنے کے لیے بغیر سوچے سمجھے نو نو، دس دس ایس ایم ایس آگے sendکرتے رہتے ہیں۔ ایسے ایس ایم ایس بھیجنے والوں کو میں اکثر نہیں جانتا مگر بعض اوقات یہ نو نو اور دس دس ایس ایم ایس کی تسبیح کرنیوالے میرے ایسے جاننے والے بھی شامل ہوتے ہیں جنہیں عمومی طور پر باشعور سمجھا جاتا ہے۔ مگر میں حیران ہوتا ہوں کہ سب کچھ جانتے ہوے اور بلا کسی خوف کے ہم سود جیسے گناہ کبیرہ کو چھوڑنے کے لیے نہ تیار ہیں اور نہ ہی اس پر غور کرتے ہیں مگر یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کسی موبائل پیغام کا نو نو، دس دس افراد کو بھیجنا یا نہ بھیجنا ہماری جنت یا دوزخ کا فیصلہ کرے گا۔ہم زکوة ادا نہیں کرتے اور حق دار کو اُس کے حق سے محروم کرتے ہیں، بہنوں اور بیٹیوں کو جائیداد میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کی گئی حدوں کے مطابق حصہ نہیں دیتے مگر سمجھتے ہیں کہ ہمارے ایسے گناہ نو نو، دس دس ایس ایم ایس دوسروں کو send کرنے سے ہم اللہ کی پکڑ سے بچ جائیں گے۔ہم اپنے کاروبار میں دھوکہ دہی کرتے ہیں، کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کرنے میں زرہ برابر شرم محسوس نہیں کرتے، ہم تو پیسہ کمانے کے چکر میں بیمار کی تکلیف کو دور کرنے کے لیے دی جانے والی دواتک جعلی بناتے ہیں، کم تولتے ہیں، بجلی اور گیس چوری کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں مگر اس سب کے باوجود اللہ کی پکڑ سے تو نہیں ڈرتے مگر اس بات سے ڈر جاتے ہیں کہ کوئی ایس ایم ایس نو نو، دس دس افراد کو نہ بھیجا تو مصیبت میں آ جائیں گے۔

ہم بڑے بڑے گھروں میں رہتے ہیں مگر ہمارے گلیوں ومحلوں میں ہماری ہی حفاظت کے لیے معمورغریب سیکیورٹی گارڈ کو دو وقت کا کھانا کھلانا ہم اپنے لیے مصیبت اور بوجھ سمجھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اور پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ تو ہمیں اپنے ہمسائے میں بھوکے اور غریب کا خیال رکھنے کاحکم دیتے ہیں مگر اُن کی اس حکم ادولی کے باوجود ہم ایس ایم ایس کے ذریعے اپنے گناہوں کے دھونا چاہتے ہیں۔ ہم پر نماز فرض کی گئی ہے جس کی کوئی معافی نہیں مگر ہم اس کو اپنے اور اللہ کے درمیان کا معاملہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔ جہاد اسلام کا ایک اہم رکن ہے مگر ہم امریکا کی خشنودی کے لیے اس کو رد کرتے ہیں۔ہم ہر وہ کام کرتے ہیں جو اسلام کے واضح احکامات اور تعلیمات کے خلاف ہوتا ہے اور اس پر ہم شرمندہ ہوتے ہیں اور نہ ہی خوفزدہ۔ ہم رنگ، نسل، فرقہ اور سیاسی سوچ کے اختلاف کی بنیاد پر ایک دوسرے کا بے دردی سے خون بہاتے ہیں اور پھر اس پر فخر کرتے ہیں۔ ہم اپنی ذاتی زندگیوں میں اور اجتماعی طور پر اپنے فیصلوں سے، اپنے حرکتوں سے اللہ کو اور اللہ کے بندوں ناراض کرتے ہیں۔ ہم حقوق اللہ ادا کر رہے ہیں اور نہ ہی حقوق العباد ۔ مگر اس سب کے باوجود یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ موبائل ایس ایم ایس ہماری زندگیوں کے ساتھ ساتھ آخرت کو بھی سنوار دے گا۔ کاش ہم سوچیں، فکر کریں ۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.