.

پاک۔امریکہ تعلقات: توقعات و امکانات

ڈاکٹر منظور اعجاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم میاں نوازشریف کے دورہ امریکہ پر بہت سی باہمی مفادات کی یاد داشتوں پر دستخط ہوں گے، زیادہ تر پرانے دئیے گئے قرضوں اور امداد کے اعداد و شمار کو توڑ مروڑ کر اس طرح سے پیش کیا جائے گا جیسے امریکہ نے پاکستان کے لئے ایک بہت بڑے معاشی پیکج کا اعلان کیا ہے لیکن یہ سب دکھاوے کی باتیں ہوں گی۔

وزیر اعظم کے کامیاب (یا ناکام) دورے کے اشارئیے مختلف ہوں گے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کیا امریکہ پاکستان کی عالمی تنہائی کو ختم کرنے کے لئے تیار ہو گا یا نہیں ۔کیا اس دورے کے نتیجے میں بھارت اور امریکہ کے دوسرے اتحادی پاکستان سے سفارتی اور معاشی معاونت بڑھانے پر تیار ہوں گے یا نہیں۔

اہم ترین سوال تو افغانستان اور جہادی جنگجوئوں کے بارے میں ہی اٹھائے جائیں گے۔ امریکہ دو ہزار چودہ میں اپنی بہت سی فوجیں افغانستان سے نکال لے گا لیکن اس کے باوجود خاصی بڑی تعداد میں امریکی فوجی افغانستان میں موجود رہیں گے۔ امریکہ کا بنیادی مقصد یہی رہے گا کہ افغانستان میں دو ہزار ایک سے پہلے والے حالات پیدا نہ ہوں۔ القاعدہ اور دوسری امریکہ دشمن عالمی جہادی تنظیموں کو ایک پورا علاقہ نہ مل پائے جہاں وہ ٹریننگ کیمپ چلائیں اور امریکہ کے خلاف منصوبے بنائیں۔

ظاہر بات ہے کہ امریکہ کی موجودگی کابل سمیت بڑے شہروں کے علاوہ شمالی افغانستان میں ہو گی۔ افغانستان کے جنوب اور مشرق میں طالبان کا اثر و رسوخ پہلے سے زیادہ بڑھنے کے امکانات ہیں۔ پاکستان کے قبائلی علاقے بالخصوص وزیرستان اور کچھ ایجنسیوں میں طالبان کا اہم کردار ہو سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ان علاقوں میں طالبان کو ختم کرکے اپنی رٹ بحال کر سکتا ہے؟ اس کیلئے پاکستان نے آل پارٹیز کانفرنس بھی منعقد کی اور طالبان سے مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا لیکن اس پر عملی پیشرفت مفقود ہے۔ پاکستان کے مخصوص حلقوں کے علاوہ امریکہ سمیت ساری دنیاکو معلوم ہےکہ پاکستان کے طالبان سے مذاکرات کا عمل غیر حقیقی ہے۔

طالبان نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کی آئینی حدود کے اندر مذاکرات ناقابل قبول ہیں اور یہ مذاکرات تب تک نہیں ہو سکتے جب تک ڈرون حملے بند نہ ہوں۔ علاوہ ازیں پاکستانی فوج کا قبائلی علاقوں سے مکمل انخلاء کرنا ہوگا۔ طالبان کا لہجہ ایک ایسے فاتح کی مانند ہے جو کہ سمجھتا ہے کہ اس کا مدمقابل پہلے ہی شکست کھا چکا ہے لہٰذا اس سے اپنی شرائط منوانا فطری عمل ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مذاکرات پاکستانی آئین کی حدود میں نہیں ہوں گے تو ان کی نوعیت ایسے ہو گی جیسے دو آزاد ممالک کے درمیان جنگ کے خاتمے پر بات چیت ہو رہی ہو اور ہارنے والے کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ پورا علاقہ دوسرےکے حوالے کر دے۔ ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ اگر پاکستان ایسا کرے تو طالبان پاکستان کے ساتھ اپنے رویّے میں کیا تبدیلی پیدا کریں گے۔

قرائن یہ بتا رہے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکی فوجوں کے انخلاء کے بعد وہ آسانی سے افغانستان اور اس سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اسلامی امارت قائم کر لیں گے۔ تحریک طالبان یہ بھی واضح کر چکی ہے کہ پاکستانی اور افغان طالبان کا ایجنڈا مشترک ہے۔وہ القاعدہ اور پاکستان کی لشکر جھنگوی جیسی تنظیم کو بھی اپنا اٹوٹ انگ کہہ چکے ہیں لہٰذا طالبان اپنے آپ کو تمام جہادی تنظیموں کے اشتراک سے بننے والی ممکنہ اسلامی امارت کا نمائندہ سمجھ کر پاکستانی ریاست کے ساتھ مذاکرات کا عندیہ دے رہے ہیں۔ پاکستان کے کچھ رہنما سادہ دلی یا سیاسی عیاری سے ’’نیک نیتی‘‘ سے مذاکرات کی رٹ لگائے ہوئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں طالبان اپنے مقصد میں بالکل واضح ہیں، ان کو علم ہے کہ وہ ایک ایسی امارت قائم کرنے کیلئے پُرعزم ہیں جس میں پاکستان کے جمہوری آئین کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس سیاق و سباق میں ’’نیک نیتی‘‘ کا یہی مطلب ہے کہ طالبان اور ان کی اتحادی جہادی تنظیموں کو اسلامی امارت قائم کرنے کا موقع دیا جائے۔ یہ بات امریکیوں کو ہرگز قابل قبول نہیں ہو گی اور شاید پاکستان کی فوج بھی اسے تسلیم نہ کرے کیونکہ جنرل کیانی واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات پاکستان کے آئین کی حدود میں ہونا چاہئیں۔

امریکیوں کیلئے پاکستان کا جہادی تنظیموں کے بارے میں رویہ تشویش کا باعث رہا ہے اور مستقبل کے تعلقات میں کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے واشنگٹن میں پاکستان کیلئے دوستانہ اور سازگار ماحول نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ اوباما من موہن مشترکہ اعلامیہ پاکستان پرکڑی تنقید تھا۔ اب پاکستان کا جنگجوئوں کے بارے میں تذبذب یا ابہام دنیا کیلئے قابل قبول نہیں ہے۔غالباً پاکستان ڈرون حملوں کو عارضی طور پر بھی رکوا نہیں سکتا کیونکہ بہت سی فوج نکالنے کے بعد امریکہ کا انحصار اپنی فضائی طاقت کے استعمال پر ہو گا جس میں ڈرون حملے کلیدی کردار ادا کریں گے۔ یہی امر قبائلی علاقوں میں امارت کا خواب دیکھنے والے لیڈروں کے لئے شدید خوف کا باعث ہے اور وہ ڈرون حملے بند کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ڈرون حملوں کے معاملے سے قطع نظر پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کے عنوان نظر آ رہے ہیں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار ورلڈ بینک کے ششماہی اجلاس کے لئے واشنگٹن تشریف لائے تھے۔ ان کی امریکی انتظامیہ سے بھی ملاقاتیں ہوئیں اور لگتا ہے کہ جو پیغام ڈار صاحب کے حوالے سے امریکیوں کو دیا گیا ہے اس سے ان کے رویّے میں مثبت تبدیلی کے آثار نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اسی لئے امریکہ نے کولیشن فنڈ کے کھاتے میں تین سو بائیس ملین ڈالر پاکستان کے اسٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دئیے ہیں۔ اسی طرح امریکہ نے فوجی اور معاشی امداد کے لئے 1.6 بلین ڈالر ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ وہ رقم ہے جو اسامہ بن لادن کے باعث پیدا ہونے والے تنازع کی وجہ سے روک لی گئی تھی۔ قرائن بتا رہے ہیں کہ امریکہ کو کافی حد تک یقین ہے کہ شریف انتظامیہ اور فوج دہشت گردی کے سنگین مسائل سے ’’نیک نیتی‘‘ سے نپٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایک سوال بہت سے حلقوں میں اٹھایا جاتا ہے کہ کیا امریکی افغانستان سے فوجیں نکالنے کے بعد پاکستان پر نوّے کی دہائی کی طرح پریسلر ترمیم جیسی پابندیاں عائد کردیں گے۔ اس بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایک تو امریکہ افغانستان سے مکمل انخلاء نہیں کر رہا اور اسے پاکستان کی معاونت درکار ہوگی۔ دوسرے امریکی حلقوں میں یہ شدید احساس ہے کہ امریکہ نے پاکستان سے تعلقات کو بہت زیادہ بگاڑ کر نقصان اٹھایا کیونکہ اسی عرصے میں دہشت گردی اور انتہا پسندی عروج پر پہنچیں اور امریکہ یہ غلطی پھر سے نہیں دہرائے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.