.

پاک یو اے ای مشترکہ وزارتی کونسل کا اجلاس

ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ اور یورپ کے مالی و معاشی بحران کے باعث دنیا کی توجہ اب ایشیاء کی طرف مرکوز ہورہی ہے۔ عالمی میگزین ’’فوربس‘‘ نے اپنی رپورٹ میں قطر کو دنیا کا سب سے امیر ترین ملک قرار دیا ہے۔آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق 2010ء میں قطر کی فی کس آمدنی 76168 ڈالرہے ۔ متحدہ عرب امارات (UAE) دنیا کے پانچویں امیر ملک سے کم ہوکر چھٹے نمبر پر آگیا ہے اور اس کی فی کس آمدنی59,717 ڈالر ہے جبکہ سعودی عرب 39 ویں نمبر پر آتا ہے جس کی فی کس آمدنی 17,000 ڈالر ہے۔ ایک تخمینہ کے مطابق ابوظبی (ADIA)کے زرمبادلہ ذخائر 550 بلین ڈالر ہیں۔

سعودی عرب اور کویت کے بعد امارات میں دنیا کے چھٹے بڑے تیل کے ذخائر ہیں۔ دنیا میں تیل پیدا کرنے والے ممالک میں سعودی عرب 264 بلین بیرل کے ساتھ پہلے نمبر پر،136بلین بیرل کے ساتھ ایران دوسرے نمبر پر، 115 کے ساتھ عراق تیسرے نمبر پر، 101 بلین بیرل کے ساتھ کویت چوتھے نمبر پر ،99 بلین بیرل کے ساتھ وینزویلا پانچویں نمبر پر اور 98 بلین بیرل کے ساتھ متحدہ عرب امارات چھٹے نمبر پر ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے باہمی تعلقات نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ 2012-13ء میں پاکستان اور یو اے ای کی باہمی تجارت 10 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور اس طرح متحدہ عرب امارات پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر بن گیا ہے۔ پاکستان کی یو اے ای کو ایکسپورٹ میں چاول، ٹیکسٹائل مصنوعات، گوشت، لائیو اسٹاک، قالین اور چمڑے کی مصنوعات شامل ہیں جبکہ یو اے ای کی پاکستان کو ایکسپورٹ میں زیادہ تر پیٹرولیم مصنوعات، پیپر بورڈ، آئرن، پلاسٹک، مشینری وغیرہ شامل ہیں۔ یو اے ای دنیا میں ری ایکسپورٹ کا تیسرا بڑا مرکز ہے جہاں سے پوری دنیا کو اشیاء درآمد کرکے دوبارہ برآمد کی جاتی ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای (جی سی سی) میں فری ٹریڈ ایگریمنٹ کیلئے مذاکرات کے 2 رائونڈ ہو چکے ہیں۔ دونوں ممالک میں FTA سے باہمی تجارت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔

یو اے ای میں تقریباً 12 لاکھ پاکستانی، پروفیشنلز اور ورکرز مختلف شعبوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک(GCC) سے پاکستان 6.573 ارب ڈالر کی ترسیلات بھیجی جاتی ہیں جو ہماری مجموعی ترسیلات کے تقریباً 50% سے زائد ہیں اور ان میں سعودی عرب اور عرب امارات کا حصہ 5.267 ارب ڈالر ہے جس میں صرف عرب امارات سے ہر سال 2.5 ارب ڈالر کی ترسیلات بھیجی جاتی ہیں اور اس طرح سے یو اے ای پاکستان میں دنیا کا سب سے بڑا ترسیلات بھیجنے والا ملک ہے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای نے پاکستان میں مجموعی طور پر تقریباً 21 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ گزشتہ دہائی میں یو اے ای پاکستان میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا ملک تھا۔امارات کے صرف ایک ابوظبی گروپ نے پاکستان میں بینکنگ، ٹیلی کمیونی کیشن، انفارمیشن ٹیکنالوجی، الیکٹرونکس میڈیا، تعمیرات، رئیل اسٹیٹ، زراعت اور فارمنگ کے شعبوں میں تقریباً 10 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔

میرے گروپ کا عرب امارات میں گزشتہ 30 سالوں سے بزنس ہے اور میں گزشتہ 10 سالوں سے پاک یو اے ای بزنس کونسل کا چیئرمین ہونے کی حیثیت سے ایک عرصے سے پاک یو اے ای مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کررہا ہوں۔ اس اجلاس میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ، معاشی و اقتصادی امور کے وزراء اور دونوں ممالک کی فیڈریشنوں کے اعلیٰ عہدیدار شرکت کرتے ہیں۔ اجلاس میں دونوں ممالک میں تجارت، سرمایہ کاری کے فروغ اور اس کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے اعلیٰ سطح پر اتفاق کیا جاتا ہے۔ اس سال 6 اور 7 نومبر کو پاک یو اے ای مشترکہ وزارتی کمیشن کا گیارہوں اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں، میں نے پاک یو اے ای بزنس کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے شرکت کی۔

اجلاس میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے وزیر خارجہ عزت مآب شیخ عبداللہ بن زید النہیان کی معاونت نائب وزیر معاشی امور غنیم الغیت جبکہ پاکستان کی جانب سے وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی معاونت وفاقی سیکریٹری اقتصادی امور نرگس سیٹھی نے کی۔ اس بار متحدہ عرب امارات سے 40 افراد پر مشتمل سب سے بڑا وفد اجلاس میں شرکت کیلئے آیا تھا۔ اجلاس میں، میں نے تجارت اور سرمایہ کاری سیشن کی صدارت کی جس میں دونوں ممالک میں باہمی تجارت کے فروغ، پاک یو اے ای مشترکہ بزنس کونسل کی میٹنگ کے انعقاد، پاکستان اور جی سی سی ممالک کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA)، انرجی، ایگریکلچر، بینکنگ، آئل اینڈ گیس، پورٹ اینڈ شپنگ، سول ایوی ایشن، ٹیلی کام،سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعلیم و صحت کےشعبوں میں سرمایہ کاری کے لئے مختلف منصوبوں پر سفارشات پیش کی گئیں۔ اجلاس میں پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے 800 ملین ڈالر کے بقایا جات کی ادائیگی کیلئے بزنس کونسل، وزیر خارجہ اور وزیراعظم کی سطح پر بات چیت کی گئی۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ کیلئے 200 ملین ڈالر قرضے کے حصول اور پاکستان کے لئے ٹوکیو ڈونرز کانفرنس میں یو اے ای کے اعلان کردہ 300 ملین ڈالر کی امداد کی ادائیگی اور پاکستانی بزنس مینوں کیلئے یو اے ای ویزے کے جلد حصول کیلئے اہم مذاکرات ہوئے۔

اجلاس میں دبئی میں ایکسپو 2020ء کے انعقاد کیلئے پاکستان کی حمایت کی درخواست بھی کی گئی۔ شرکاء کا خیال تھا کہ اگر دبئی کو ایکسپو 2020ء کے انعقاد کا اعزاز مل جاتا ہے تو اس سے دبئی کی رئیل اسٹیٹ کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور بے شمار نئے پروجیکٹس متعارف کرائے جائیں گے جس سے یو اے ای کی معاشی گروتھ میں مزید تیزی آئے گی۔ گزشتہ مشترکہ اجلاسوں میں یو اے ای کی وزیر معاشی امور نے جی سی سی ممالک کو فوڈ سیکورٹی فراہم کرنے کیلئے پاکستان سے درخواست کی تھی کہ پاکستان میں زرعی اجناس کی کاشت اور اسے یو اے ای ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔ میں نے شرکاء کو بتایا کہ کئی اماراتی کمپنیاں پہلے ہی پاکستان میں جانوروں کا ہائی پروٹین چارہ الفا الفا کاشت کرکے یو اے ای ایکسپورٹ کررہی ہیں۔ اجلاس میں پاکستانی پولٹری پر برڈ فلو کی وجہ سے عائد کی جانے والی پابندی اٹھانے کی درخواست بھی کی گئی اور یو اے ای حکام کو بتایا گیا کہ گزشتہ 5 سالوں میں پاکستان میں برڈ فلو کی کوئی شکایت نہیں۔

رات کو پاکستان میں امارات کے سفیر عیسیٰ عبداللہ النویمی نے دونوں ممالک کے وفود کے اعزاز میں ایک پرتکلف عشایئے کا اہتمام کیا جس میں تمام عربی اور خلیجی ممالک کے کھانے رکھے گئے تھے۔ ٹیبل پر میرے ساتھ بیٹھے ہوئے یو اے ای کے نائب وزیر معاشی امور غنیم الغیت نے مجھے اور وزارت معاشی امور کی ایڈیشنل سیکریٹری یاسمین صاحبہ کو عربی ثقافت کے مطابق تھال میں رکھے روسٹ بکرے کے سر سے آنکھیں نکال کر ہمیں کھانے کے لئے پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری ثقافت میں یہ خصوصی مہمانوں کو عزت کے طور پر پیش کی جاتی ہیں لیکن ہم نے شکریہ ادا کرتے ہوئے ان سے معذرت کی۔ دوسرے دن عرب امارات کے وزیر خارجہ عزت مآب شیخ عبداللہ بن زید النہیان اپنے خصوصی طیارے میں ابوظبی سے اسلام آباد آئے اور انہوں نے اپنے وفد کے ساتھ دفتر خارجہ میں اختتامی اجلاس کی صدارت کی جبکہ پاکستان کی طرف سے میرے علاوہ وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ سرتاج عزیز، معاشی امور کی سیکریٹری نرگس سیٹھی اور دیگر وفاقی سیکریٹریوں نے شرکت کی اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی معاہدوں پر دستخط کئے گئے۔ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے پاک یو اے ای مشترکہ بزنس کونسل کو دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے اور جلد اجلاس منعقد کرنے کی ضرور ت پر زور دیا۔ میں نے انہیں یقین دلایا کہ پاک یو اے ای مشترکہ بزنس کونسل پاکستان میں سب سے زیادہ ترسیلات زر بھیجنے، سرمایہ کاری اور تجارت کرنے والے ملک یو اے ای سے تعلقات کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.