.

خارجہ پالیسی کا حقیقی جائزہ

ڈاکٹر ملیحہ لودھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی زیادہ تر تاریخ اور موجودہ پریشان کن صورتحال اندرونی اور بیرونی عوامل کے اثرونفوذ کا شاخسانہ ہے۔ داخلی اور خارجی پالیسی کے اسی دوراہے کے حوالے سے ایک کتاب منتظرِ خامہ فرسائی ہے،جو کہ پاکستان کو درپیش موجودہ چیلنجوں کی سنگینی اور تنوع کی وضاحت میں مدد دے گی۔ بیرونی دنیا میں جنم لینے والے واقعات کا ملک کی قسمت و مقدر پر گہرا اثر پڑتا ہے لیکن اندرونی محرکات نے بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی میں الجھاؤ پیدا کیا اور اس کی صف بندی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

ملکی تاریخ میں دونوں ہی آپس میں اس طرح ضم نظر آتی ہیں کہ اکثر اس کی وجوہات کی سمت اور ذرائع کا تعین مشکل ہوجاتا ہے، یہ معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ کون سا محرک کیا متحرک کررہا ہے۔ اس دوراہے کے دونوں محرکات پر ایک ہمہ گیر تحقیق سودمند ہوگی۔ اس بابت موجود لٹریچر کا مکمل طور پر مرکز نگاہ یا تو داخلی نوعیت کا ہے یا تو اس کا تمام تر جھکاؤ خارجی امور پر ہے۔ عبدالستار کا پاکستان کی خارجہ پالیسی پر1947ء سے 2012ء تک کا جائزہ بھی خارجی امور پر قلمکاری ہے۔ ان کی اس کتاب کا چوتھا ایڈیشن سابقہ اشاعت کی طرح بین الاقوامی تعلقات کے طلبہ اور خطے کی سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کیلئے ایک سیر حاصل تعارفی تحریر ہے۔ خارجہ پالیسی پر ابتدائی مطالعے کیلئے ایس ایم برک اور لارنس زرنگ کے تاریخی تجزیئے اور شاہد امین کے حالیہ قلمی جائزے کی طرح یہ ایک اچھی ابتدا ہے۔
عبدالستار کی کتاب میں ان کے تجربئے کی بنیاد پر 40 برس کی اہم پیشرفتوں کا انعکاس نظر آتا ہے، ان کی کتاب کے نئے ایڈیشن میں کچھ نئے ابواب کا اضافہ کیا گیا ہے مثال کے طور پر جن میں 2011ء کے بعد پاک امریکہ تعلقات میں وارد ہونے والا بحران بھی شامل جس کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات خاتمے کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔ ان کی کتاب میں تجزیئے سے زیادہ تاریخ پر خامہ فرسائی کی گئی ہے، جس میں مصنف نے اپنے زاویئے سے ان مواقع کی تشریح کی جن میں وہ خود بھی شریک رہے۔

کتاب کے پیش لفظ کو آغا شاہی کے قلم کی سیاہی نصیب ہوئی جو کہ خارجہ پالیسی پر عملیت کے حوالے سے پاکستان کے معروف مفکر ہیں، انہوں نےنوٓزائیدہ ریاست کے مشکل حالات کو ایک کڑے زاویئے سے جانچا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’تصوراتی چاشنی سے تقویت پانے والی پاکستان کی خارجہ پالیسی کو جلد ہی اس کے پرامن وجود کو درپیش چیلنجوں کے نرغے میں آہی جانا تھا‘۔ تقسیم کے نتیجے میں ’خطے میں طاقت کی جابرانہ عدم مساوات کے مظہر سے پاکستان کی اپنی اور تنازعات کے حل کیلئے اقوام متحدہ کی کوششیں بھی ناکام ہوئیں‘۔ اس ظلم سے بہتر صورتحال کی جانب گامزن ہونے کیلئے پاکستان نے دوستوں اور اتحادیوں کی تلاش میں بیرونی دنیا کی جانب دیکھنا شروع کیا۔ 1971ء میں بھارتی مداخلت سے جنم لینے والی جنگ کے نتیجے میں پاکستان کے اتحادیوں کی جانب سے مدد کے نہ آنے، نے ملک کے قائدین کو جوہری قابلیت کے حصول کیلئے مجبور کیا۔

عبدالستار ابتدائی دنوں میں پاکستان کی تذویراتی سوچ کو کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ دہلی کا رویہ دیکھتے ہوئے پاکستان کی خارجہ پالیسی بھارت سے تعلقات کے کڑے امتحان کے تحت وضع کی گئی جو کہ بانی پاکستان محمد علی جناح کے تصور سے بھی آراستہ تھی جس میں ہمسائے سے اچھے تعلقات قائم کرنا اور اختلافات کو منطق اور قانونی طریقے سے حل کرنے کی تعلیمات پنہاں تھیں۔ بھارت کی نیت یکطرفہ طور پر طاقت کی عدم مساوات کا فائدہ اٹھانے کی تھی اسی حوالے سے ابتدائی سالوں میں ہتھیاروں کے حصول کی شدید ضرورت نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے خدوخال وضع کئے جس کا مقصد نئی ریاست کو بچانا اور اس کی معاشی ترقی کو رقم کی فراہمی تھی۔ یہ صورتحال پاکستان کو بیرونی توازن کی دیرینہ تذویر کی جانب لے گئی اگرچہ عبدالستار نے پاکستان کی جانب سے اتحادیوں کی تلاش کے حوالے سے یہ تشریح پیش نہیں کی، انہوں نے ان ادوار کے واقعات نقل کئے ہیں جب پاکستان امریکہ کا قریب ترین اتحادی بنا اور انہوں نے پاکستان اور واشنگٹن کے مابین ان ابتدائی تعلقات کا حوالہ دیا جو کہ غلط شروعات کا موجب بنے۔

بعد ازاں دونوں ممالک نے اپنی سفارتی معانقوں پر نظرثانی کی، پاکستان کو اتحادی بننے کی پالیسی کیلئے جو قیمت چکانی تھی اس کا اسے بخوبی اندازہ تھا لیکن بھارتی عزائم سے نبرد آزما ہونے کیلئے اس کے پاس یہی ایک راستہ تھا۔ ان کی کتاب میں 1962ء اور 1963ء کو تذویراتی ماحول اور پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اہم موڑ کے طور پر دکھایا گیاہے۔ پاکستان کے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات اور امریکہ کے بھارت کی جانب بڑھتے ہوئے جھکائو نے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی صف بندی کو جنم دیا۔ پاکستان نے امریکہ کے اس انتباہ کو نظرانداز کردیا کہ اگر پاکستان نے چین سے تعلقات استوار کئے تو امریکہ پاکستان سے اپنے تعلقات پر نظرثانی کرے گا۔1965ء کے بعد ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی سفارتی حکمت عملی میں تبدیلی لے کر آئے جو کہ مغرب سے دوری اور مشرق سے قربت پر مبنی تھی لیکن چند وجوہ کی بنا پر 1971ء کے بعد کے جغرافیائی سیاسی منظرنامے میں مشرق وسطیٰ اور مغربی ایشائی ممالک کی جانب پاکستان کی خارجہ پالیسی کے دوبارہ جھکاؤ میں بھٹو کےکردار کا تذکرہ نہیں کیا گیا حالانکہ خارجہ پالیسی کے اعتبار سے یہ خارجہ پالیسی کے ارتقاء کا منبع تھا۔

تاہم مذکورہ کتاب پاکستان کی خارجہ پالیسی میں متعدد اہم موڑوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ درج بالا تین واقعات کے علاوہ چوتھی پیشرفت 1971ء کی جنگ تھی جس نے پاکستان کو جوہری پالیسی کی واپسی سے احتراز کرنے مجبور کیا۔ پانچویں پیشرفت افغانستان پر سوویت یونین کا قابض ہونا تھا اور چھٹی 9/11 کے بعد جنم لینے والے حالات اور پاکستان کے امریکہ سے تعلقات میں وقوع پذیر ہونے والی تبدیلی تھی۔ گیارہ ستمبر کے واقعات درج کرتے ہوئے جبکہ وہ کچھ وقت کیلئے وزیرخارجہ بھی تھے، عبدالستار نے اس تاثر کی نفی کی کہ پاکستان کلی طور پر امریکہ کے مطالبات کے سامنے سرنگوں ہو گیا تھا بلکہ 9/11 کو بعد میں مذاکرات اور مثبت طور پر معاملات کا تصفیہ کرنے اور تفصیلات طے کرنے کیلئے اچھا دکھایا گیا تھا لیکن یہ ’ہاں مگر‘ کا نقطہ نظر تذویراتی لچک کا باعث بنا اور بعدازاں اس کی وجہ سے امریکہ کی اسلام آباد سے توقعات میں تبدیلی رونما ہوئی اور انہوں نے پُرزور طور پر یہ کہا کہ پاکستان امریکہ کے افغانستان پر فوجی حملے میں شامل نہیں ہوا۔

کئی مقامات پر عبدالستار نے پاکستانی تاریخ میں پالیسی کے ضمن میں کی جانے والی فاش غلطیوں کو تسلیم کیا ہے، مثال کے طور پر جس میں 1965ء اور 1999ء میں کارگل کے محاذ کے حوالے سے غلط اندازے شامل ہیں اور جنہیں وہ ناقص پالیسیوں کا نتیجہ گردانتے ہیں۔ اس کے باعث ملک نہ صرف بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا شکار ہوگیا بلکہ اس سے کشمیر کے مسئلے کو بھی نقصان پہنچا۔ انہوں نے1997ء میں پاکستان کی جانب سے طالبان کو تسلیم کئے جانے کے فیصلے کو دوراندیشی پر مبنی فیصلہ نہ کرنے کی ایک اور مثال قرار دیا اور یہ بھی سمجھایا کہ کس طرح اس کی وجہ سے ملک عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کا شکار ہوا اور اسے طالبان کو اعتدال پسند بنانے میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

عبدالستار کی جانب سے خارجہ پالیسی کا جو پس منظر پیش کیا گیا اس سے سرکاری سوچ میں ایک تسلسل نظر آتا ہے حالانکہ دنیا بڑی حد تک تبدیل ہو چکی ہے۔ اس تاریخ سے مجھے دومتضاد زاویئے نظر آئے جنہوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے رویّے کے رموز واوقاف متعین کئے ہیں۔

اول، سیاسی پیچیدگیوں سے قطع نظر، اندرونی کمزوری جس نے ملک میں پے درپے آنے والی حکومتوں کو اپنی کمزوری کا مداوا کرنے کیلئے بیرونی مدد تلاش کرنے پر مجبور کیا، حیرت کی بات نہیں یہ مقصد مبہم ثابت ہونا تھا اور دوم، کبھی کبھار خارجہ پالیسی داخلی سطح پر اثرات کی پروا ٔکئے بغیر بھی وضع کی گئی اور سرخ فوج کو افغانستان سے نکالنے کیلئے سرد جنگ میں پاکستان کا طویل مدت تک ملوث رہنا اس کی بڑی مثالیں ہیں۔ بیرونی ممالک پر پہلی مرتبہ انحصار کی علامت جس سے بچنا ملک کے حکمرانوں کو مشکل نظر آیا اس نے عوام کو ناراض کیا اور قومی جذبے کو تہس نہس کر دیا۔ اندرونی مسائل کے حل کیلئے بیرونی وسائل کی مستقل تلاش کا مطلب یہ بھی ہے کہ داخلی مسائل کی بنیادی اہمیت کو ہی نہ سمجھا گیا، نہ ہی اپنی مدد ؎آپ کے کلچر کی جڑیں حکمران طبقے میں مضبوط ہو سکیں اور نہ مسائل کے مقامی طور پر حل کی کوئی صورت دیکھنے میں آئی۔

ملک کی بیشتر تاریخ میں تواتر کے ساتھ آنے والی حکومتوں نے اسی طرز کی معاشی انتظام کاری کا مظاہرہ کیا۔ اس سے بیرونی ممالک سے اتحاد کی بنا پر بیرونی مالی امداد تو دیکھنے میں آئی جو کہ مقامی سطح پر وسائل بروئے کار لانے کے متبادل کے طور پر کی گئی یا اس کے لئے مقامی طور پر ضروری اصلاحات نہیں کی گئیں۔ اس طریقہ کار میں نہ صرف تسلسل ممکن نہیں تھا بلکہ اس سے پاکستان کے مسائل میں بھی اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ملک کی معاشی ترقی کا پہیہ جام ہوا۔ ملک کی اندرونی کمزرویوں پر قابو پانے کیلئے جو کچھ کئے جانے کی توقع تھی بالکل اس کے مخالف کیاگیا۔ دوسرے زاویئے کیلئے کم تشریح درکار ہے ایسی خارجہ پالیسی پر کار بند ہونا جس میں داخلی سطح پر نتائج کو خاطر میں نہ لایا جائے۔ اس کی سب سے نمایاں مثال ہمارے ملک کا 1980ء کی افغان جنگ میں بلکہ اس کے معاملات طویل الجھاؤ ہےجس کے تباہ کن اثرات کو حکمراں طبقے کی جانب سے قلیل مدتی مقاصد اور ذاتی مفاد کے باعث کور چشمی کی وجہ سے خاطر میں نہیں لایا گیا۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.