.

ایران کا ’’ایٹمی سرنڈر‘‘ اور پاکستان؟

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آخرکار ایران نے بھی عالمی صورتحال کے تلخ زمینی حقائق اور مغربی ممالک کی عائد شدہ پابندیوں کے تسلسل سے مجبور ہو کر امریکہ اور اس پانچ ساتھی ممالک کے ساتھ ایک عارضی سمجھوتے کے تحت اپنا ایٹمی پروگرام نہ صرف عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے بلکہ چار صفحات پر مشتمل سمجھوتے کا جاری کردہ متن پڑھنے سے تو یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ ایران نے کھلے الفاظ میں یہ بھی یقین دلایا ہے کہ ایران نہ تو ایٹمی ہتھیار بنانے کی خواہش رکھتا ہے اور نہ ہی ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوئی کوشش کرے گا بلکہ اب تک یورینیم کی جو مقدار وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کے لئے 20% انرچمنٹ کرچکا ہے اس کا بھی بڑا حصہ تحلیل کر کے بے کار کردے گا جبکہ بجلی اور توانائی یعنی پرامن مقاصد کے لئے مقررہ 5% انرچمنٹ جاری رکھے گا۔

ایران نے لیبیا کے معمر قذافی کی طرح اپنی یورینیم اور ایٹمی تنصیبات کو امریکیوں کے حوالے تو نہیں کیا کہ وہ اسے اپنے کسی میوزیم میں سجا سکیں لیکن میرے خیال میں ایران نے بھی سالہا سال سے خود کو ایٹمی ملک بنانے اور منوانے کی جنگ کو ڈپلومیسی اور مذاکرات کی میز پر ہار دیا ہے۔ ایران کا یہ ’’سرنڈر‘‘ مسلم دنیا کے واحد ایٹمی ملک پاکستان کے لئے زبردست لمحہ فکریہ ہے۔ خدا نہ کرے کہ پاکستان کو اپنے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں کسی ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے لیکن یہ واضح ہے کہ ایٹمی پاکستان کو ان اثاثوں کے حوالے سے ایسے ہی دبائو اور مطالبات کا سامنا ہونے کا امکان ہے۔

ہمارے حکمرانوں، سیاستدانوں اور انتظامی مشینری چلانے والوں کا مزاج کچھ ایسا ہے کہ نقصانات کو قوم سے چھپاتے رہے ہیں۔ ڈرون حملوں کے بارے میں بہت سے چشم کشا حقائق تو ابھی امریکی خفیہ ریکارڈ کا حصہ ہیں جو سامنے آنا باقی ہیں لیکن یہ بات تو اب سامنے آچکی کہ پرویز مشرف کے دور میں ڈرون حملوں کا آغاز پاکستانی حکمراں کی منظوری اور علم سے ہوا اور پاکستانی سرزمین بھی ان حملوں کے لئے نہ صرف استعمال ہوئی بلکہ ان حملوں کے نتائج اور اثرات کی خفیہ معلومات بھی امریکیوں نے ان پاکستانی حکمرانوں اور اداروں سے شیئر کیں۔ صدر بننے کے بعد صدر زرداری کے پہلے دورہ نیویارک کے دوران بھی جب سی آئی اے کے سربراہ مائیکل ہیڈن اور آصف زرداری کی خاموش ملاقات ہوئی تو اس وقت بھی پاکستانی حکمراں کا کہنا تھا کہ ’’کولیٹرل‘‘ نقصان کی کوئی پروا نہیں دہشت گردوں پر حملے ہونا ضروری ہیں۔ ہمارے حکمراں امریکی سرپرستوں کے سامنے ہر فرمائش کی تعمیل کے لئے ماضی میں بھی تیار پائے گئے اور اب بھی صورتحال یہی چل رہی ہے۔ میرے لئے کوئی تعجب نہ ہو گا کہ اگر یہ انکشاف ہوکہ ماضی کا کوئی پاکستانی حکمراں ہمارے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں بہت سی خفیہ معلومات بھی اپنے غیر ملکی سرپرستوں کی خوشنودی کے لئے انہیں فراہم کرچکا ہے جس طرح ڈرون حملوں اور پاکستان میں لائے جانے والے امریکی آلات و ہتھیار اور ان کے استعمال کے سلسلے میں خاموش عمل ہوا۔

فی الوقت تو پاکستان کے ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ امریکہ سے طویل المیعاد معاہدہ کو افغان لوئی جرگہ نے بھی منظور کرلیا ہے افغانی صدر حامد کرزئی اپنی سیاسی اور ذاتی وجوہ کے باعث اس معاہدہ کو فی الحال انتخابی نتائج تک ملتوی کرنا چاہتے ہیں۔ یوں بھی حامد کرزئی اپنی مدت صدارت پوری ہونے پر سبکدوش ہو جائیں گے اور ان کی اہمیت آج جیسی نہیں رہے گی۔ بہرحال امریکی افواج کے افغانستان سے جزوی انخلاء کے بعد کئی ہزار مسلح امریکی فوجی اور ان کے مددگار عملہ بشمول سی آئی اے اور محکمہ خارجہ سمیت مددگار عملہ افغانستان میں ہی چھوڑ کر جارہا ہے اور معاہدہ کی رو سے یہ تمام امریکی افغان شہریوں کے مقابلے میں کسی بھی جوابدہی، گرفتاری اور ایکشن سے بالاتر ہوں گے اور انہیں افغان قانون سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔ امریکہ اپنے کئی ہزار فوجی اگر افغانستان میں متعین رکھے گا تو ان کے قیام کا مشن اور مقصد ہو گا۔

اس کے لئے آپ دنیا کے مختلف ممالک میں قائم امریکی چھائونیوں کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں۔ افغانستان میں امریکہ بھارت کے لئے اپنے اتحادی کے طور پر اس کا رول متعین کر چکا ہے۔ افغانستان میں بھارت کی واضح موجودگی اور وہاں امریکی فوج کی چھائونی کی موجودگی پاکستان کے لئے کسی خوشی یا تشویش کا باعث ہوگی؟ اس صورتحال کے کیا ممکنہ اثرات ہوں گے؟ کیا پاکستانی مفادکے ذمہ داروں اس حقیقت کے بارے میں کوئی فکر بھی ہے؟ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل رکن ممالک امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور اضافی شامل ملک جرمنی جسے "P5+1" کا نام دیا گیا ہے۔ ان 6ممالک سے جنیوا میں مذاکرات کے بعد ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ایک سمجھوتہ طے کیا ہے جو عوام کے لئے تو اچانک اور غیرمتوقع تھا مگر پس پردہ ڈپلومیٹک سرگرمیوں، امریکی وزیر خارجہ کے دورہ اسرائیل، جان کیری کی نظر نہ آنے والی ملاقاتوں سے واقف ’’ایرانی خطرہ‘‘ کے ’’غیر جنگی حل‘‘ نکلنے کی توقع کا اظہار کر رہے تھے۔ امریکی یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم یافتہ، سنجیدہ سفارتکاری کا تجربہ، امریکی طرز زندگی سوچ اور مزاج سے بخوبی واقف اور اقوام متحدہ میں پانچ سال تک ایرانی سفیر کے طور پر متعین رہنے والے جواد ظریف ایران کے نئے وزیر خارجہ اور عالمی برادری بلکہ بعض امریکی اہم سیاستدانوں سے بھی تعلقات رکھتے ہیں۔

انہوں نے بہت سی خاموش ملاقاتوں اور پس پردہ رابطوں کے ذریعے ایران کو سلامتی کونسل اور دیگر ممالک کی پابندیوں سے نکالنے کی کوششیں کی ہیں۔ عالمی صورتحال کے زمینی حقائق اور ان حقائق کے تناظر میں ایران کو دوبارہ عالمی برادری میں واپس لانے کے لئے کام کیا لیکن آخرکار ایران کو اپنے ایٹمی پروگرام کے محاذ پر عالمی دبائو، اقتصادی پابندیوں، مغربی ممالک کے اتحاد اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے تلخ حقائق کے سامنے ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام ’’سرنڈر‘‘ کا آغاز کردیا ہے۔ جن قارئین کو میری اس رائے سے اختلاف ہو وہ امریکی وزیر خارجہ کے بیانات، امریکی میڈیا کی رائے اور تمام اطلاعات کو جانبدارانہ سمجھ کر نظرانداز کردیں اور چار صفحات پر مشتمل اس سمجھوتہ کے متن کو خود پڑھیں اور تجزیہ کرلیں۔ ابتدائی سطور میں ہی ایران نے کہہ دیا ہے کہ اس کا پروگرام پُرامن ہے اور وہ کبھی بھی ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا۔ اسی طرح تفصیل میں تو انرچمنٹ صرف توانائی کے لئے اور غیرایٹمی مقاصد کے لئے ہوگی۔ چھ ماہ کے اس معاہدے کے دوران ایران کو جو کچھ کرنا ہے امریکہ، اسرائیل اور ان کے ساتھیوں کے لئے عملاً اطمینان کے لئے کافی ہو گا۔

ایران اگر اس عالمی معاہدے کی معمولی بھی خلاف ورزی کرے گا تو پابندیاں دوبارہ لاگو ہوں گی اور مکمل اطلاق تک معاہدہ پر عمل نہیں مانا جائے گا۔ ایران کو ڈپلومیسی کے ذریعے ایک انتہائی مشکل صورتحال میں ڈال دیا گیا ہے۔ یہ عارضی سمجھوتہ ایک نئے ماڈل کے طور پر امریکی ایجاد ہے جسے بوقت ضرورت دیگر ایٹمی ممالک یا حاصل کرنے کی دوڑ میں شریک ممالک پر بھی لاگو کیا جاسکتا ہے۔ کیا ایران کو مصروف کر دینے کے بعد اب امریکہ کا اگلا ٹارگٹ کون ہو گا؟ مسلم دنیا کے واحد ایٹمی ملک پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر ایران کی نئی صورتحال کے کیا اثرات ہوں گے؟ کیا ان ممکنہ اثرات کے بارے میں پاکستانی قیادت کو کوئی فکر ہے؟ کوئی تدارک یا حل سوچا؟ کہیں ڈرون حملوں کی طرح سابق حکمرانوں نے ایٹمی امور پر بھی تو کچھ منظوریاں نہیں دے ڈالیں؟

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.