.

کیا عمران خان مشکل میں پھنس گئے؟

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی طالبان کی قیادت نے عمران خان کو مشکل میں نہیں ڈالا بلکہ اپنے آپ کو مشکل میں ڈالا ہے۔ طالبان کی طرف سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لئے کمیٹی میں عمران خان کا نام شامل کرنا واقعی ایک دھماکہ ہے۔ چند دن پہلے جب وزیر اعظم نواز شریف نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے چار رکنی کمیٹی کا اعلان کیا تو ایک بڑا اعتراض یہ سامنے آیا کہ اس کمیٹی میں علماء اور سیاستدانوں کو کیوں شامل نہیں کیا گیا؟ اب طالبان کی طرف سے پانچ رکنی کمیٹی کا اعلان سامنے آیا ہے تو کہا جارہا ہے کہ طالبان نے اپنی کمیٹی میں علماء اور سیاستدانوں کو کیوں شامل کردیا ہے؟ عام خیال یہ ہے کہ عمران خان بڑی مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ کچھ لوگ انہیں پہلے ہی طالبان خان کہتے تھے اب تو طالبان نے بھی انہیں اپنا مذاکرات کار بنالیا ہے اور تصدیق کردی ہے کہ عمران خان اندر سے طالبان ہیں۔ میری ناقص رائے بالکل مختلف ہے، طالبان کی طرف سے عمران خان کو اپنی مذاکراتی ٹیم میں شامل کیا جاتا یا نہ کیا جاتا لیکن عمران خان کے مخالفین اپنے الزامات سے کبھی باز نہ آئے۔ طالبان نے ایک کلین شیو سیاستدان کو اپنی مذاکراتی ٹیم میں شامل کیا ہے جس پر مولانا فضل الرحمن نے الزام لگایا تھا کہ وہ یہودیوں کا ایجنٹ ہے۔ عمران خان پر اعتماد کا اظہار کرکے طالبان نے یہ پیغام دیا ہے کہ جن پاکستانیوں نے داڑھیاں نہیں رکھیں ہم ان کے خلاف نہیں ہیں۔ میری اطلاع کے مطابق طالبان کے اندر کچھ لوگوں نے عمران خان کے نام پر اعتراض کیا اور کہا کہ اس کی شکل شرعی تقاضوں کے مطابق نہیں ہے لیکن اکثریت کی رائے یہ تھی کہ ہم نے عمران خان کے ذریعہ شریعت نافذ نہیں کرانی بلکہ امن مذاکرات کرنے ہیں۔ عمران خان نے ہمیشہ فوجی آپریشن کی بجائے مذاکرات کی حمایت کی ہے لہٰذا عمران خان کے ذریعے مذاکرات میں کوئی حرج نہیں۔ یہ پہلو بھی بہت اہم ہے کہ عمران خان آئین اور جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے ماضی میں کئی مرتبہ یہ کہا ہے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات آئین کے اندر رہ کر کئے جائیں۔ طالبان کی مذاکراتی ٹیم میں عمران خان کے علاوہ مولانا سمیع الحق، پروفیسر ابراہیم خان اور مفتی کفایت اللہ بھی آئین اور جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور انتخابات میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

طالبان کی پانچ رکنی مذاکراتی ٹیم میں سے چار ارکان جمہوریت کے ذریعہ تبدیلی لانے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کو اپنی مذاکراتی ٹیم میں شامل کرکے مجھے تو یہی پیغام ملا ہے کہ طالبان جمہوریت کے خلاف نہیں ہیں۔ نیتوں کا حال تو صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے لیکن میری رائے میں طالبان نے اپنی مذاکراتی ٹیم کے ذریعہ پاکستان کے آئین کو تسلیم کرلیا ہے۔ میرے لئے یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ طالبان کی مذاکراتی ٹیم میں شامل پانچوں ارکان نے ہمیشہ خود کش حملوں میں بے گناہ انسانوں کی اموات پر افسوس کا اظہار کیا اور خود کش حملوں کی مذمت کی۔ ان پانچ افراد کو اپنی مذاکراتی ٹیم میں شامل کرکے طالبان کی طرف سے یہ پیغام بھی آیا ہے کہ خود کش حملوں کی مذمت کرنے والے ان کے لئے واجب القتل نہیں۔ طالبان کی مذاکراتی ٹیم میں لال مسجد اسلام آباد کے خطیب مولانا عبدالعزیز بھی شامل ہیں۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ جب تک حکومت ملک میں نفاذ شریعت کا وعدہ نہیں کرتی وہ مذاکراتی ٹیم میں شا مل نہیں ہونگے۔ مولانا صاحب سے گزارش ہے کہ پہلے مذاکراتی ٹیم میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کردیں اور پھر اپنے ساتھی مذاکرات کاروں کے ساتھ بیٹھ کر ایک ایجنڈا طے کریں اور اس میں جو بھی مناسب مطالبہ شامل کرنا ہے شامل کرلیں۔ یاد رکھیئے پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور قائد اعظمؒ محمد علی جناح پاکستان کے مسلمانوں کو واقعی ایک ایسا نظام دینا چاہتے تھے جو اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہو۔ قائد اعظمؒ نے اسٹیٹ بینک کو یہ ہدایات بھی جاری کردی تھیں کہ پاکستان میں اسلامی بینکاری شروع کی جائے لیکن قائد اعظمؒ کے انتقال کے بعد ہم نے ان کو بھلا دیا۔ قائد اعظمؒ جو بھی تھے اور جیسے بھی تھے لیکن ایک کلین شیو مسلمان تھے جس پر مولانا حسرت موہانیؒ سے لے کر مولانا شبیر احمد عثمانیؒ تک سینکڑوں ہزاروں علماء نے اپنے ا عتماد کا اظہار کیا۔ قائد اعظمؒ نے پاکستان بندوق کے زور پر نہیں بنایا بلکہ سیاسی و جمہوری جدوجہد کے ذریعہ پاکستان بنایا۔ قائد ا عظم کے پاکستان میں بندوق کے زور پر شریعت نافذ نہیں ہوسکتی اس لئے نفاذ شریعت کے مطالبے کے ذریعے امن کی کوششوں کو مشکلات میں نہ ڈالا جائے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ تحریک طالبان پاکستان نے اپنی مذاکراتی ٹیم میں چار سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کو شامل کرکے دراصل سیاست کی ہے۔ ان چاروں میں سے کسی ایک نے بھی مذاکراتی ٹیم میں شامل ہونے سے انکار کردیا تو طالبان کہیں گے ہم تو مذاکرات کے لئے سنجیدہ تھے لیکن سیاستدانوں نے ہمارا ساتھ نہیں دیا۔ میری رائے میں حکومت کی مذاکراتی ٹیم بھی ٹھیک ہے اور طالبان کی بھی ٹھیک ہے۔ حکومت کی ٹیم میں رستم شاہ مہمند تحریک انصاف کے نمائندے ہیں۔ طالبان کی ٹیم میں عمران خان تحریک انصاف کے نمائندے ہیں۔ حکومت کی ٹیم میں میجر ریٹائرڈ عامر یہ کہتے ہیں کہ میرا تعلق ایک دینی گھرانے سے ہے میں مولوی بھی ہوں اور فوجی بھی ہوں۔ پاکستان میں پرویز مشرف نے جو آگ لگائی اس میں مولوی بھی مررہا ہے اور فوجی بھی مررہا ہے، اس لئے میں یہ جنگ ختم کرانا چاہتا ہوں۔ میجر ریٹائرڈعامر نے2007ء میں بھی سوات کے علاقے کوزہ بانڈے جاکر مسلم خان کے گھر میں مولانا فضل اللہ سے مذاکرات کئے اور انہیں اپنے ایف ایم ریڈیو پر تشدد کی مذمت کے لئے کہا۔ مولانا فضل اللہ نے اپنے ا یف ایم ریڈیو پر تشدد کی مذمت کردی لیکن مشرف حکومت نے مذاکرات ختم کردئیے اور یوں سوات کو آگ اور خون کے کھیل جھونک میں دیاگیا۔

مجھے کئی صحافی دوستوں نے کہا کہ حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے ارکان طالبان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ میرا جواب یہ تھا کہ اگر یہ چاروں پاکستان کے آئین اور جمہوریت کے ساتھ ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ اب طالبان کی ٹیم سامنے آئی ہے تو اس کے اکثر ارکان بھی آئین اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں۔ دونوں اطراف کبھی بھی کہیں بھی مل بیٹھ کر مذاکرات شروع کرسکتی ہیں۔ یہ ایک سنہری موقع ہے، عمران خان، مولانا سمیع الحق، پروفیسر ابراہیم، مفتی کفایت اللہ اور مولانا عبدالعزیز آگے بڑھیں۔ حکومتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات شروع کردیں، کوئی عالمی طاقت اور کوئی خفیہ ادارہ ان مذاکرات میں اپنا ایجنڈہ مسلط نہیں کرسکتا۔ یہ دونوں ٹیمیں جو بھی طے کریں گی حکومت کو اس پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔ مشکل میں عمران خان نہیں پھنسے، مشکل میں طالبان اور حکومت پھنس گئی اگر مذاکرات شروع ہوگئے تو دونوں اطراف کی ٹیمیں سیز فائر کے مطالبے سے ابتداء کریں گی۔ پھر طالبان کو بھی اپنی کارروائیاں بند کرنی پڑیں گی اور حکومت کو اپنی کارروائیاں بند کرنی ہونگی۔ ہوسکتا ہے کہ کسی مرحلےپر طالبان اور حکومت مل کر امریکہ سے مطالبہ کریں کہ ڈرون حملے بند کرو۔ مشکل میں تو امریکہ پھنس جائے گا۔ اس وقت تو پورا پاکستان مشکل میں پھنسا ہوا ہے لیکن مشکل سے نکلنے کا موقع پیدا ہوچکا ہے۔ عمران خان آگے بڑھیں اور مذاکراتی عمل شروع کرکے ایک نئی تاریخ بنادیں۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.