.

اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے؟

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حکومت پاکستان اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں بہت سی مشکلات ہیں لیکن ان مشکلات کے باوجود اتوار کی صبح اس خاکسار کو ایک اچھی خبر ملی۔ خبر یہ تھی کہ آٹھ فروری کو ہیلی کاپٹر کے ذریعہ پشاور سے میران شاہ پہنچنے والی طالبان کمیٹی کے ارکان کو طالبان کے سینئر رہنمائوں نے یقین دلایا کہ شریعت کے نام پر مذاکرات کو ناکام نہیں ہونے دیا جائے گا۔ طالبان کی کمیٹی کے ارکان پروفیسر ابراہیم خان اور مولانا یوسف شاہ کے ساتھ ملاقات کرنے والے طالبان رہنمائوں میں وہ بھی شامل تھے جن کے بارے میں یہ کہا جارہا تھا کہ وہ پچھلے دنوں میر علی میں ہونے والی بمباری میں مارے گئے تھے۔

طالبان کے سینئر رہنمائوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کے ارکان پر واضح کیا کہ یقیناً نفاذ شریعت ان کا اہم ترین مقصد ہے لیکن مقصد کے حصول کے لئے سازگار ماحول کی ضرورت ہے اور سازگار ماحول امن کے بغیر قائم نہیں ہوگا اس لئے پہلے مرحلے میں ان کی ترجیح قیام امن ہے۔ شمالی وزیرستان میں موجود طالبان کے سینئر رہنما آئین پاکستان کا تفصیلی جائزہ لے چکے ہیں۔ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس آئین میں اسلامی دفعات موجود ہیں اور اسی لئے مولانا سمیع الحق کے والد مولانا عبدالحق سے لے کر پروفیسر غفور احمد تک اور مولانا غلام غوث ہزاروی سے لے کر مولانا شاہ احمد نورانی تک کئی جید علماء نے1973ء کے آئین پر دستخط کئے تھے لیکن اس آئین پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوا اور آئین میں مزید بہتری کی گنجائش بھی موجود ہے، تاہم طالبان اس پیچیدہ معاملے میں فی الحال نہیں الجھنا چاہتے۔ فی الحال ان کی ترجیح جنگ بندی ہے۔ جنگ بندی کے ساتھ ساتھ وہ اپنے کچھ قیدیوں کی رہائی بھی چاہتے ہیں اور قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں وہ سیکورٹی فورسز کے قیدیوں کو رہا کردیں گے۔ سلمان تاثیر اور یوسف رضا گیلانی کے بیٹوں کے علاوہ پروفیسر اجمل کی بازیابی بھی اہم ہے لیکن ان معاملات پر آگے چل کر بات ہوگی۔

طالبان کا ایک اہم مطالبہ قبائلی علاقوں سے فوج کی واپسی ہوگی لیکن انہیں ایف سی کی موجودگی قبول کرنا ہوگی کیونکہ جنگ بندی کے باوجود جرائم پیشہ اور سازشی عناصر کا راستہ روکنے کے لئے قبائلی علاقوں میں ریاست کی طاقت کو موجود رہنا چاہئے۔ طالبان کا تیسرا اہم مطالبہ یہ ہوگا کہ پچھلے بارہ سال میں جو فوجی آپریشن ہوئے ان میں قبائلی عوام کا جو جانی و مالی نقصان ہوا وہ پورا کیا جائے۔ اس نقصان کا تخمینہ لگانا اور پھر تخمینے کی رقوم کی ادائیگی کا طریقہ کار طے کرنا ایک لمبا عمل ہوگا۔ دوسری طرف حکومتی کمیٹی کی ایک ترجیح یہ ہوگی کہ مذاکرات آئین کے اندر رہ کر کئے جائیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سنگین نوعیت کے مقدمات میں ملوث ملزمان کی رہائی آئین کے مطابق ہوگی یا نہیں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے حکومت کو آئینی ماہرین کے مشورے کی ضرورت ہوگی لیکن کچھ زمینی حقائق یہ ہیں کہ طالبان اپنے جن قیدیوں کی رہائی چاہتے ہیں ان میں سے اکثر کو عدالتوں میں پیش ہی نہیں کیا گیا اور جن کو پیش کیا گیا ان میں سے کئی ایسے ہیں جن کے خلاف ٹھوس ثبوت پیش نہیں کئے جاسکے۔ یہ پہلو نظر انداز نہ کیا جائے کہ قبائلی علاقوں میں پہلا فوجی آپریشن2002ء میں درہ اکا خیل میں ہوا تھا۔ پچھلے 12سال میں 15 سے زائد بڑے فوجی آپریشن کئے جاچکے ہیں۔ کسی آپریشن کو’’راہ نجات‘‘ اور کسی آپریشن کو’’راہ راست‘‘ قرار دیا گیا۔ قبائلی علاقوں میں ٹینکوں اور ائیر فورس کے ذریعہ بمباری کا سلسلہ2004 ء سے جاری ہے لیکن امن قائم نہ ہوا۔

یہ بھی درست ہے کہ امن قائم کرنے کے لئے فوج نے2004ء سے 2009ء کے درمیان 19 مرتبہ طالبان سے مذاکرات کئے اور 13 مرتبہ امن معاہدے کئے لیکن کئی مرتبہ یہ امن معاہدے طالبان نے توڑ دئیے اور کچھ مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ فوج نے طالبان کے رہنمائوں کو گرفتار کرنے یا مارنے کے لئے مذاکرات کا ڈھونگ رچایا. 12سال سے جاری بدامنی کو 12 دنوں یا 12 ہفتوں کے مذاکرات میں ختم کرنا بہت مشکل ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے وزیر اعظم نواز شریف واقعی مذاکرات کے ذریعے امن چاہتے ہیں لیکن ماضی میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کا کھیل کھیلنے والے اس مرتبہ ایک بڑا آپریشن کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف طالبان یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ماضی میں فوج کے ساتھ ان کے مذاکرات ناکام ہوئے لیکن سیاسی حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوسکتے ہیں۔ مذاکرات کامیاب بنانے کے لئے طالبان کو اپنی کارروائیاں بند کرنا ہونگی تاکہ رائے عامہ مذاکرات کی حمایت کرے۔ طالبان کو یہ ماننا ہوگا کہ مذاکرات کے اعلان کے بعد پشاور کے قصہ خوانی بازار میں خود کش حملے نے مذاکرات کو نقصان پہنچایا۔

دوسری طرف جس دن طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کو ہیلی کاپٹر میں میران شاہ روانہ ہونا تھا اسی دن متنی اور یونیورسٹی ٹائون کے علاقوں میں طالبان کے دو قیدیوں محمد زیب اور اسد کی لاشیں پھینکی گئیں۔ ان دونوں کو پچھلے ماہ پشاور کے علاقے حیات آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ طالبان کی مرکزی قیادت کو بھی اپنے اندر سے کچھ مزاحمت کا سامنا ہے اور حکومت کے اندر بھی کچھ ادارے وزیر اعظم نواز شریف کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ حکومت تو یہی دعویٰ کریگی کہ سیاسی قیادت اور فوجی قیادت کا نکتہ نظر ایک ہے لیکن کیا کریں کہ لاپتہ افراد کے معاملے پر حکومتی کوشش کے باوجود عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں ہوتا اور پرویز مشرف کئی ہفتوں سے عدالت میں پیش ہونے کی بجائے ایک فوجی ہسپتال میں پناہ گزین ہیں۔

یہ صورتحال بہت سے سوالات پیدا کررہی ہے اور اہم ترین سوال یہ ہے کہ جو لوگ اور ادارے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات آئین کے اندر رہ کر کئے جائیں وہ خود آئین کا اور عدالتوں کا احترام کب شروع کریں گے؟ ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ خدا نخواستہ مذاکرات کامیاب نہ ہوئے اور شمالی وزیرستان میں ایک بڑا فوجی آپریشن کیا گیا تو سب جانتے ہیں کہ طالبان کا جواب شمالی وزیرستان میں نہیں آئے گا بلکہ اس مرتبہ وہ اپنا جواب لاہور سے شروع کرکے کراچی تک لے جائیں گے۔ تو کیا پنجاب اور سندھ کو فوج کے حوالے کیا جائے گا؟ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں فوجی آپریشن ہوا تو ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ شمالی وزیرستان سے ہجرت پر مجبور ہوجائیں گے۔ کچھ تو خیبر پختونخوا، پنجاب اور کراچی کی طرف جائیں گے لیکن بہت سے افغانستان بھی چلے جائیں جہاں تحریک طالبان پاکستان کے کئی رہنما پہلے سے موجود ہیں۔

2014ء میں امریکی فوج کا افغانستان میں اثر بہت کم رہ جائے گا اور افغان حکومت پاکستان طالبان کے ساتھ مل کر کچھ بھی کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہوگی۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ افغان طالبان کے ذریعہ پاکستانی طالبان کو کنٹرول کرلیں گے وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ ہمارا اہم ترین مقصد پاکستان میں قیام امن ہونا چاہئے اور امن کے لئے پرامن مذاکرات کا راستہ بہترین ہے، مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو پھر جنگ ہوگی لیکن جنگ ہو یا امن حکومت کے سب اداروں میں ہم آہنگی ضروری ہے مجھے یہ ہم آہنگی نظر نہیں آرہی۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.