.

تین ممالک، تین کہانیاں

یاسر پیرزادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پہلی کہانی۔ بھارت میں مائو نواز باغی تحریک کا آغاز ساٹھ کی دہائی میں مغربی بنگال کے دور دراز جنگلات سے ہوا۔ مغربی بنگال کے جس گائوں میں یہ پر تشدد تحریک پروان چڑھی اس کا نام نکسل باڑی تھا جس وجہ سے ان باغیوں کو ’’نکسلائیٹس ‘‘بھی کہا جاتا ہے ،ان مزاحمت کاروں نے وسطی اور مشرقی بھارت کے وسیع علاقوں میں اپنی عملداری قائم کر رکھی ہے جنہیں ’’سرخ راہداری‘‘ کہا جاتا ہے،جن بھارتی ریاستوں کے علاقوں میں ان کا اثر و رسوخ ہے ان میں جھاڑکنڈ، مغربی بنگال، اڑیسہ، بہار، چھتیس گڑھ اور آندھرا پردیش کے علاوہ اتر پردیش اور کرناکٹکا کا علاقہ بھی شامل ہے۔

بھارتی حکام کے مطابق مائو باغیوں اور ان کے حمایت یافتہ گروہ بھارت کے چھ سو کے قریب اضلاع میں سے ایک تہائی میں اور بھارت کی اٹھائیس میں سے بیس ریاستوں میں سرگرم ہیں،یہی وجہ ہے کہ بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اس مسئلے کو بھارت کی داخلی سلامتی کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔اس تنازع میں اب تک چھ ہزار سے زائد لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ مائو باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ ان ریاستوں میں ایک کمیونسٹ انقلاب کے لئے جدو جہد کر رہے ہیں، ان کی جنگ مقامی غریب لوگوں کے حقوق کے لئے ہے اور وہ غریب کسانوں کے لئے زمین اور علاقے کے وسائل پر اپنا حق چاہتے ہیں ۔2009ء میں مائو باغیوں نے مغربی بنگال کے لال گڑھ ضلع کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا جو کلکتہ سے صرف 250کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔2010میں ان کے خلاف بھارت کی مختلف ریاستوں میں ایک آپریشن شروع کیا گیا جس میں 50,000کے قریب سیکورٹی اہلکاروں نے حصہ لیا اور مائو باغیوں کو ان کے جنگلات میں پرے دھکیل دیا۔ماضی میں بھارتی حکومت نے مائو باغیوں کو مذاکرات کی دعوت دی تھی جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا الٹا مائو باغیوں نے حکومت سے ان کے علاقوں سے سیکورٹی فورسز واپس بلانے کا مطالبہ کر ڈالا۔ گزشتہ برس بھارتی حکومت نے ان باغیوں سے مذاکرات کی پیشکش واپس لے لی ۔

دوسری کہانی۔ لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلم (LTTE) ایک مسلح تنظیم تھی جو سری لنکا کے شمالی اور مشرقی جزیرے میں’’تامل ایلم‘‘ کے نام سے ایک آزاد ریاست قائم کرنا چاہتی تھی ۔اسّی کے اوائل میں شروع ہونے والی یہ خانہ جنگی شروع میں صرف شمال تک محدود تھی مگر دھیرے دھیرے یہ ملک کے دیگر شہری علاقوں کے اندر گھستی چلی گئی اور نوّے کی دہائی میں کولمبو میں کئے جانے والے خود کش دھماکوں نے تو سری لنکا کو ہلا کر رکھ دیا ۔اس خوں ریزی میں 70,000 افراد مارے گئے ،سری لنکا کی معیشت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا اور سیاحت بری طرح متاثر ہوئی۔تین دہائیوں پر محیط اس خونی تنازعے کو چار مرتبہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی مگر چاروں دفعہ یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔2002ء میں ٹائیگر باغیوں اور سری لنکن حکومت کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا جس پر سری لنکن وزیراعظم وکرما سنگھے اور LTTEکے سربراہ ولوپلائی پربھاکرن نے دستخط کئے۔ امن کے اس معاہدے کو سرے چڑھانے میں ناروے کی حکومت نے اہم کردار ادا کیا،تاہم صرف تین سال بعد ہی تنازعے میں دوبارہ سر اٹھانا شروع کر دیا اور بالآخر حکومت نے جولائی 2006ء میں ایک فوجی کارروائی شروع کی اور تامل باغیوں کو مشرقی صوبے سے باہر دھکیل کر 3,720مربع میل کے علاقے پر حکومتی عملداری بحال کی جہاں اس سے پہلے تامل باغیو ں کا قبضہ تھا۔2007ء میں حکومت نے کارروائی کا رُخ شمالی علاقوں کی طرف موڑدیا دیا جبکہ 2008ء میں امن معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تامل باغیوں نے ہزاروں مرتبہ اس کی خلاف ورزی کی ہے۔2009ء میں سری لنکا نے بالآخر ان تمام علاقوں پر اپنی رٹ بحال کر دی جن پر تامل باغیوں کا قبضہ تھا جس کے بعد LTTEنے باقاعدہ شکست تسلیم کر لی، اس تاریخی فتح کے بعد سری لنکا کی حکومت نے کہا کہ جدید دنیا میں سری لنکا پہلا ملک ہے جس نے اپنے ملک سے دہشت گردی ختم کی ہے ۔18مئی 2009ء کو LTTE کا سربراہ ولوپلائی پربھاکرن بھی سری لنکا کی فوج کے ہاتھوں مارا گیا۔

تیسری کہانی۔آئر لینڈ کا تنازع 1968میں شروع ہوا، اس خونی تنازع میں 3600افراد مارے گئے ،اس دور کو Troublesکے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔اصل جھگڑا شمالی آئر لینڈ کی آئینی حیثیت سے متعلق تھا،یونینسٹ جو کہ اکثریت میں تھے اور پروٹسٹنٹ فرقے سے تعلق رکھتے تھے ، تاج برطانیہ کے زیر سایہ رہنا چاہتے تھےجبکہ دوسری طرف نیشنلسٹ اور ی پبلکن جو کیتھولک اقلیت تھے، جوری پبلک آف آئرلینڈ کا حصہ بننا چاہتے تھے۔ یہ مذہبی نہیں بلکہ خالصتاً علاقائی تنازعہ تھا۔آئرش ری پبلکن آرمی (IRA) اسی دور میں وجود میں آئی جس کی مسلح جدوجہد کا مقصد گوروں کو اپنے علاقے سے باہر نکلنے پر مجبور کرنا اور شمالی آئرلینڈ کا ری پبلک آف آئرلینڈ سے الحاق تھا۔آئی آر اے کا سیاسی ونگ Sinn Feinکہلاتا تھا ‘وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تنازع میں مسلح جدوجہد کی بجائے سیاسی رنگ غالب آتا گیااور بالآخرتمام پارٹیوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ 1996میں شروع ہوا جو 1998 میں ایک معاہدے کی صورت میں کامیاب ہوا۔اس معاہدے میں ’’رضامندی کا اصول‘‘ طے ہوا جس کے مطابق شمالی آئر لینڈ کی آئینی حیثیت اور آئر لینڈ سے اس کے الحاق کا فیصلہ صرف اسی صورت میں ممکن ہوگا اگر سرحدوں کے دونوں اطراف میں علیحدہ علیحدہ ریفرنڈم میں اکثریتی ووٹ اس کے حق میں ہوں گے۔ واضح رہے کہ اس معاہدے سے پہلے آئی آر اے 1994میں جنگ بندی کا اعلان کر چکا تھا اور مذاکرات سے پہلے تمام جنگجوئوں کے ہتھیار باقاعدہ تباہ کئے گئے تھے۔

ان تینوں کہانیوں میں ایک بات مشترک ہے ، ان تمام تنازعات میں مسلح گروہوں کا مطالبہ ان کے علاقے میں حق حکمرانی سے متعلق تھا ‘مائو باغی اپنے پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے پسے ہوئے غریب عوام کے لئے وسائل میں حصہ مانگتے ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے کمیونسٹ انقلاب کو حل سمجھتے ہیں تاہم ان کی جدو جہد کا محور یہ نہیں ہے کہ دہلی ‘کولکتہ ‘بنگلور یا چنائی میں کون سی عور ت کس قسم کی ساڑھی باندھے گی ‘مندر میں کس طرح عبادت کی جائے گی یا غیر ہندوئوں کی عبادت گاہیں کیسے تباہ کی جائیں گی ۔اسی طرح تامل باغیوں کی مسلح جدو جہد تامل اکثریتی علاقوں میں آزاد تامل ریاست بنانے کی حد تک تھی نا کہ اس بات کے لئے کہ سنہالیوں کو کیسے عبادت کرنی چاہئے یاان کی عورتوں کو کس قسم کا لباس پہننا چاہئے یا کولمبو میں چرچ کو تباہ کرکے مندر بنا دئیے جائیں۔

شمالی آئر لینڈ کا مطالبہ بھی آئرلینڈ سے الحاق اور اپنے علاقے میں حکمرانی سے متعلق تھا نا کہ آئرش یہ طے کرنا چاہتے تھے کہ لندن میں کون سا انگریز کس چرچ میں جائے گا یا کون سی پروٹسٹنٹ عورت کتنا لمبا سکرٹ پہنے گی یا پھر برطانیہ کے ٹی وی چینلز پر کس قسم کے پروگرام دکھائے جائیں گے۔ اپنے ہاں جو لوگ دہشت گردوں کی حمایت میں تاویلیں تلاش کرتے ہوئے آئر لینڈ جا پہنچتے ہیں ‘انہیں پہلے یہ جان لینا چاہئے کہ وہاں مذاکرا ت کن شرط و شرائط پر ہوئے ‘ وزیرستان سے آئر لینڈ چھلانگ لگانے کی جلدی میں وہ یہ بھول جاتے ہیںکہ سیاسی مطالبات کی نوعیت ان مطالبات سے بالکل مختلف ہوتی ہے جس کے تحت کوئی مسلح گروہ آپ پر اپنی مرضی کا لائف سٹائل بزور بندوق مسلط کرنا چاہتا ہے، جن احباب کو وہ لائف سٹائل پسند ہے ،انہیں چاہئے کہ برطانیہ کی امیگریشن کی بجائے افغانستان کی شہریت کی درخواست دیں، جلد وہاں نظام عدل قائم ہونے جا رہا ہے‘ انشااللہ آپ کے تمام دلدر دور ہو جائیں گے ۔

ہور سنائو فیر کی حال اے!

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.