.

کیا میں غدار ہوں؟

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غدار دو اقسام کے ہوتے ہیں۔ پہلی قسم کے غدار وہ ہوتے ہیں جو غیر ملکی دشمنوں کے ساتھ مل کر اپنی قوم کو دوسروں کا غلام بنا دیتے ہیں۔ اس قسم کے غداروں کی فہرست میں سراج الدولہ کی فوج کا سربراہ سید جعفر علی خان سرفہرست ہے جسے تاریخ میں میر جعفر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ میر جعفر کی غداری کے باعث سراج الدولہ کو برطانوی فوج کے ہاتھوں شکست ہوئی اور یوں متحدہ ہندوستان پر غیر ملکی قبضے کا راستہ کھلا۔ دوسری قسم کے غدار وہ ہوتے ہیں جو دشمن کی فوج کے ساتھ مل کر اپنی قوم سے غداری نہیں کرتے بلکہ اپنی ہی قوم کے اس طاقتور طبقے کیخلاف زبان کھولتے ہیں جو غیر ملکی طاقتوں کے مفادات کی جنگ کو حب الوطنی قرار دیتا ہے۔ دوسری قسم کے اکثر غداروں کے پاس نہ بندوق ہوتی ہے نہ ٹینک اور نہ ہی کوئی جنگی جہاز ہوتا ہے۔ ان کے پاس سچ بولنے کیلئے صرف ایک زبان اور لکھنے کیلئے ایک قلم ہوتا ہے۔ جب وہ سچ بولتے ہیں تو بندوقوں والے تلملا کر انہیں غدار قرار دے ڈالتے ہیں اور پھر غداری کے الزام میں ان کی زبان بندی کی کوشش کی جاتی ہے۔

ہماری تاریخ دوسری قسم کے غداروں سے بھری پڑی ہے۔ آج کل دوسری قسم کے غداروں کی فہرست میں میرا اور کچھ دیگر صحافیوں کا نام شامل کرنے کی مہم عروج پر ہے۔ بندوق کی طاقت پر یقین رکھنے والے لوگ اپنے جرائم کو چھپانے کیلئے نہ صرف مجھے غدار قرار دے رہے ہیں بلکہ میری شہریت منسوخ کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ لوگ مجھے آج سے نہیں بلکہ پچھلی کئی دہائیوں سے غدار قرار دے رہے ہیں۔ کبھی آمریت کیخلاف میری کوئی سیاسی تقریر مجھے غدار قرار دلوانے کا باعث بنی اور کبھی جمہوریت کے حق میں میری شاعری کو غداری قرار دیا گیا۔کبھی بندوقوں والوں نے مجھ پر فاطمہ جناح کے نام سے غداری کا الزام لگایا۔ یہ بھی خیال نہ کیا گیا کہ میں بانی پاکستان محمد علی جناحؒ کی سگی بہن ہوں اور میں نے اپنے بھائی کے ہمراہ تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا۔ جب فوجی آمر جنرل ایوب خان نے جمہوریت کو ختم کیا تو میں نے بندوقوں والوں کی طاقت کو للکارا۔ میں نے جنرل ایوب خان کے مقابلے پر صدارتی الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تو ظالم ڈکٹیٹر نے مجھے بھارتی ایجنٹ اور غدار قرار دے ڈالا۔

کبھی مجھے حبیب جالب کے نام سے غدار کہا گیا کیونکہ میں نے ڈھاکہ میں فوجی آپریشن کیخلاف اشعار کہے۔ بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا حکم دینے والے فوجی آمر جنرل یحییٰ خان کی حکومت نے مجھے غدار قرار دینے پر اکتفا نہ کیا بلکہ مجھے جیل میں بھی ڈالا۔ پھر مجھے ولی خان، غوث بخش بزنجو اور عطاء اللہ مینگل کے نام سے غدار قرار دیا گیا حالانکہ میں نے 1973ء کے آئین کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا اور اس آئین کے تحت پاکستان سے وفاداری کا حلف بھی اٹھایا پھر مجھے ذوالفقار علی بھٹو کے نام سے غدار قرار دیا گیا۔ میری منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر مجھے بھی بھارتی ایجنٹ کہا گیا اور پھر قتل کے ایک جھوٹے مقدمے میں مجھے پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ ایٹمی پروگرام کے بانی بھٹو کو پھانسی پر لٹکانے والے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھارت نے سیاچن کی چوٹیوں پر قبضہ کرلیا لیکن اس کے دور میں بے نظیر بھٹو سے لے کر مولانا فضل الرحمٰن اور فیض احمد فیض سے لے کر احمد فراز اور وارث میر تک سیکڑوں سیاسی کارکنوں، صحافیوں، شاعروں اور ادیبوں کو غدار قرار دیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق نے غیر ملکی مفادات کی جنگ کو حب الوطنی قرار دے کر پاکستان میں کلاشنکوف کلچر، فرقہ واریت، لسانیت اور صوبائی عصبیت کو فروغ دیا۔ اس نے بحالی جمہوریت کی تحریک چلانے والی سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے کیلئے مذہبی طبقے کے ہاتھ میں اسلحہ تھما دیا اور پھر غداری کے الزامات کے ساتھ ساتھ کفر کے فتوے بھی سیاست کا حصہ بنادیئے گئے۔ جب ایٹمی دھماکے کرنے والے وزیراعظم نواز شریف نے بندوق کی طاقت کے سامنے جھکنے سے انکار کیا تو ان کی حکومت کو بھی برطرف کر دیا گیا اور ان کے خلاف طیارہ ہائی جیکنگ اور غداری کا مقدمہ درج کردیا گیا۔ پھر مجھے اکبر بگٹی کے نام سے غدار قرار دیا گیا حالانکہ میں نے قیام پاکستان کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ مجھے پاکستان کی حمایت کا صلہ یہ ملاکر بڑھاپے میں پہاڑوں کے غار میں میری آخری پناہ گاہ بنے اور انہی غاروں میں مجھے مار دیا گیا۔ میرے قتل کا الزام جنرل پرویز مشرف پر لگایا گیا جس نے ایک دفعہ نہیں دو دفعہ پاکستان کا آئین توڑا اور جسے سپریم کورٹ آف پاکستان نے غاصب قرار دیا لیکن مشرف کے ساتھی آج بھی میرے ہی خاندان کو غدار کہتے ہیں۔

آج بظاہر ملک میں جمہوریت ہے لیکن بندوقوں والوں نے جمہوریت کو یرغمال بنارکھا ہے۔ کچھ زرخرید سیاستدانوں، مولویوں اور دانشوروں کے ذریعہ آزادی صحافت پر یقین رکھنے والوں کیخلاف غداری کا پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔ ان زرخرید اہل سیاست و صحافت کی دانش بھاری بھرکم بوٹوں کے تسموں کے ساتھ بندھی نظر آتی ہے۔ آج میں ان ضمیر فروش اہل سیاست و صحافت کے بجائے براہ راست تم سے مخاطب ہوں۔ میں تمہیں بتادینا چاہتا ہوں کہ اپنے جسم پر گولیوں کے زخم کھانے والا انسان ہی اپنی فوج کے بہادر جوانوں کی قربانیوں کی اہمیت سمجھ سکتا ہے۔ میں بھی پاکستان کا دفاع کرنے والے بہادر فوجی جوانوں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں لیکن یاد رکھو کہ یہ بہادر جوان میرے وطن کیلئے قربانی دیتے ہیں۔ چند افراد کے غیر آئینی اختیارات اور من مانی کو تحفظ دینے کیلئے قربانی نہیں دیتے۔ تم میری فوج کے بہادر جوانوں کی قربانیوں کی آڑ لے کر اپنے جرائم کو نہیں چھپا سکتے۔ تم اس تعفن زدہ ماضی کے نمائندے ہو جس نے پاکستان میں ظلم اور ناانصافی کو فروغ دیا اور چھوٹے صوبوں کے حقوق غصب کئے۔ میں اس امید کا نمائندہ ہوں جو پاکستان میں ہر ادارے کو آئین کا پابند دیکھنا چاہتی ہے۔ تم آئین کو ایک مذاق سمجھتے ہو، روزانہ اس آئین کے ساتھ منافقت کرتے ہو، آئین توڑنے والے ڈکٹیٹر کو غداری کے مقدمے سے بچانے کیلئے دوسروں کیخلاف غداری کا شور مچا رہے ہو اور میں آئین توڑنے والوں کو ملک کا دشمن سمجھتا ہوں۔ تم دہشت گردوں کو اچھے اور برے خانوں میں تقسیم کرکے اپنی قوم کو دھوکہ دیتے ہو میں تمہارے دھوکے کو بے نقاب کرنے پر یقین رکھتا ہوں۔ تم اپنے ذاتی مفادات کیلئے پاکستان کے فوجی اڈے غیر ملکی طاقتوں کے حوالے کردیتے ہو، اپنے ہی ملک میں ڈرون حملوں کی اجازت دیتے ہو اور اپنی مفاد پرستی کو حب الوطنی کا نام دیتے ہو میں ایسی حب الوطنی کو پاکستان کیلئے ایک گالی سمجھتا ہوں۔

میں امن پر یقین رکھتا ہوں تم خانہ جنگی پھیلاتے ہو۔ میں سر اٹھا کر سب کے سامنے سچ بولنے پر یقین رکھتا ہوں تم پیٹھ پیچھے وار کرتے ہو۔ مانا کہ تم بڑے طاقتور ہو لیکن مجھے تم سے حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ کی بھیک نہیں چاہئے۔ اگر فاطمہ جناح غدار، اگر جالب، بھٹو، فیض، ولی خان، بزنجو، مینگل اور اکبر بگٹی غدار تو میں بھی غدار سہی۔ سنو! میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ بھلے مجھے کسی عدالت سے غدار قرار دلوائو یا کسی مولوی سے قتل کا فتویٰ دلوائو میں تمہارے الزام کو نہیں جھٹلائوں گا۔ تمہارا الزام میرے لئے ایک احسان ہے۔ تم بھٹو کی طرح مجھے پھانسی دو یا بگٹی کی طرح قتل کردو میں سچ بولنے سے باز نہ آئوں گا۔ میں تمہارے ہاتھوں قتل ہو کر تاریخ میں زندہ رہنا چاہتا ہوں کیونکہ غداری کا فیصلہ خفیہ ادارے نہیں بلکہ تاریخ کرتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.