.

صدر السیسی کے نام کھلا خط

فیصل جے عباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:


جناب عبدالفتاح السیسی!
صدر عرب جمہوریہ مصر
محترم المقام!

میں آج آپ کو یہ خط ایک صحافی کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک مخلص عرب شہری اور مصر، اس کے عوام، اس کی تاریخ اور ثقافت کے ایک حقیقی محب کے طور پر لکھ رہا ہوں۔

سب سے پہلے تو مجھے آپ کو، مصری عوام اور تمام متعلقہ عرب شہریوں کو خطے کے سب سے بڑے اور تزویراتی لحاظ سے اہمیت کے حامل ملک کا منصبِ صدارت سنبھالنے پر مبارک باد دینا ہے۔

میں نے یہ اس لیے کہا کیونکہ یہ کوئی سربستہ راز نہیں کہ گزرے چند سال عرب دنیا کے اس عظیم ملک پر بہت بھاری رہے ہیں۔ درحقیقت 2011ء کے بعد مصری نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لیے خوابوں، امنگوں اور امیدوں کا خون ہوتے ہوئے دیکھنا بہت دل شکن تھا۔ ان کے یہ مطالبات نظم وضبط کے فقدان، گم راہی اور ویژن نہ ہونے کی وجہ سے طوائف الملوکی کی نذر ہو گئے۔ اس ماحول نے لالچی، ابن الوقت اور تخریبی مذہبی نظریے کی راہ ہموار کی، اس سے نہ صرف مصری مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری ہم آہنگی کے لیے خطرات پیدا ہو گئے بلکہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے مدمقابل لانے کی بھی کوشش کی گئی۔

جناب صدر! یہ بھی کوئی راز نہیں ہے کہ آپ مصری تاریخ کے ایک اہم موڑ پر اپنی ذمے داریاں سنبھال رہے ہیں۔ آپ کو یہ سنہری موقع ملا ہے کہ آپ مخالف موجوں کا رُخ موڑ دیں اور مصر کو اس کی پٹڑی پر لائیں۔ آپ نہ صرف اپنے عوام کے مفادات اور وقار کا تحفظ کریں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نمونہ بن جائیں۔

عرب دنیا کو ایک طویل عرصے سے سیکولر مطلق العنان حکمرانی (زیادہ تر فوجی حکمرانی) یا مذہبی حکمرانی میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑ رہا ہے۔ ہم عرب شہری کی حیثیت سے آپ سے یہ توقع کرتے ہیں کہ آپ اس روایت کو توڑ دیں اور عرب دنیا میں ایک ایسے طرز حکمرانی بروئے کار لائیں جس سے یہ ظاہر ہو کہ ایک جمہوری، سیکولر اور قابل احتساب حکومت ممکن ہے جو اپنے عوام کے مفاد اور خوش حالی کے لیے کام کرے اور پھر جب اس کے اقتدار کی مدت ختم ہو جائے تو ایک نئی اور جمہوری طور پر منتخب حکومت کے لیے راستہ چھوڑ دے۔

اس روایت کو توڑنا ایک بہت بڑی کامیابی ہو گی۔ یہ کامیابی نہ صرف مصر بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے خطے کے لیے ایک ایسے وقت میں اہم ہو گی جب ہم ایسے آمروں کو دیکھ رہے ہیں جو اپنے ہی عوام پر کیمیائی ہتھیار یا بیرل بم چلانے کے لیے تیار ہیں تاکہ وہ اپنے بدستور اقتدار سے چمٹے رہنے کو یقینی بنا سکیں۔

جناب صدر! قبا محل میں منصب صدارتِ سنبھالنے کے بعد ہم نے آپ کی تقریر کو بڑی دلچسپی سے سنا ہے۔ اس میں آپ نے اپنے عوام کی اقتصادی ،سماجی اور سکیورٹی سطح پر بہتری کے لیے جن اقدامات کا اعلان کیا ہے،ان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہم دعاگو ہیں۔

میں آپ کی طرف سے دیانت داری سے اس اظہار یے پر بھی آپ کا شکرگزار ہوں کہ تمام مسائل کا آپ کے پاس حل نہیں ہے بلکہ آپ ان کے حل کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں خلوص نیت سے بروئے کار لائیں گے۔ تاہم میں نہیں جانتا کہ کون ان تمام ایشوز کو حل کرنے اور مصر کے قائدانہ کردار کو بحال کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔ وہ مصری عوام ہیں۔

جناب صدر! جان ایف کینیڈی نے ایک مرتبہ امریکی عوام سے کہا تھا کہ ''یہ نہ کہیں کہ آپ کا ملک آپ کے لیے کیا کر سکتا ہے بلکہ اپنے آپ سے پوچھیں کہ تم اپنے ملک کے لیے کیا کرسکتے ہو''۔ میں یہی بات آپ کے حوالے سے کہوں گا کہ آپ پر ذمے داریوں کا بہت بڑا بوجھ ہے۔ آپ سے بہت جلد کار گزاری کی توقع کی جا رہی ہے اور بہت جلد حکومت کی تشکیل بھی اس میں شامل ہے۔ تاہم ایسا کچھ نہیں ہے جس سے اصلاحات کا عمل تیز رفتار ہو سکے اور آپ کے اپنے ہی لوگوں کی شمولیت کے بغیر نتائج لے آئے۔

جناب صدر! میں یہ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ مصر موجودہ اتھل پتھل کے باوجود ہمیشہ سے قابل ذہنوں اور ٹیلنٹ کا انکیوبیٹر رہا ہے اور رہے گا۔ میں ایک مبصر کی حیثیت سے یہ بات نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ مجھے دنیا کے بڑے انٹرنیشنل فورموں اور کانفرنسوں میں ذاتی طور پر مصر کے سائنس، کاروبار اور سیاسیات سے تعلق رکھنے والے فطین اذہان سے ملنے کا موقع ملا ہے۔

ان فطین مصریوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ دل اور دماغ کا مجموعہ ہیں۔ بہ الفاظ دیگر اگر یہ لوگ مصر کو ایک مختلف جگہ پائیں گے تو وہ اپنا خون پسینہ ایک کرنے کو تیار ہوں گے۔تاہم گذشتہ حکومتوں کے ادوار میں اقربا نوازی، کرپشن اور افراتفری کی وجہ سے بہت سے مصری مایوسی کے عالم میں ملک چھوڑ کر چلے گئے یا وہ بہتر مستقبل کی تلاش میں نقل مکانی کے خواہاں رہے ہیں۔

ایک مرتبہ پھر آپ کو اس سب کو تبدیل کرنے کا موقع ملا ہے اور اس کی خوب صورتی یہ ہے کہ یہ سب کچھ ممکن ہے۔ اس کی ایک حالیہ مثال بھارت کی مشرقی ریاست بہار ہے جہاں ایک دیانت دار وزیر اعلیٰ نتیش کمار صرف چھے سال میں ریاست کی شرح نمو کو تین فی صد سے بڑھا کر سولہ فی صد تک لے گئے ہیں۔

آزاد میڈیا کی ضرورت

آپ نے اپنی تقریر اور حال ہی میں منظور کردہ آئین، جس کے آپ اب نگہبان ہیں، میں میڈیا کی آزادی، اجتماع کی آزادی اور اظہار رائے کے حق پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔ یہ بہت شاندار یقین دہانیاں ہیں لیکن جب تک ان ضمانتوں پر موثر انداز میں عمل درآمد نہیں کیا جاتا ہے اور مظاہرین مخالف قوانین اور صحافیوں کی حراستوں سے متعلق سوالوں کا جواب نہیں دیا جاتا ہے، اس وقت تک ان یقین دہانیوں کی عربی محاورے کے مصداق ''کاغذ پر روشنائی'' سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں ہے۔

میں یہ بات جانتا ہوں کہ بہت سے میڈیا ذرائع نفرت کی تبلیغ، جرائم پر اکسانے اور جھوٹ پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ اس سب کے باوجود آپ چند ایک بُرے سیبوں کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ ان کی بنیاد پر آپ کے دور حکومت میں تمام صحافیوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔

اسی طرح وہ صحافی بھی برے ہیں جو صرف مدح سرائی کے سوا کچھ نہیں کرتے ہیں اور وہ ریاست کے چوتھے ستون کی حیثیت سے کچھ کرنے کے بجائے آپ کی انتظامیہ کی غلطیوں اور غلط کاریوں کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کریں۔

جناب صدر! انسان خطا کا پتلا ہے۔ ایک آزاد اور پیشہ ور میڈیا سے جو کچھ سیکھا جاسکتا ہے، وہ سب کچھ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ اپنے عہدے داروں کا احتساب خود کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ ہر وقت بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔ میں کوئی سیاسی یا اقتصادی مشیر نہیں ہوں لیکن میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ میں ایک نئے مصر کے لیے حسب ذیل خواب دیکھ سکتا ہوں:

جناب صدر! میں آپ کو یہ تجویز کروں گا کہ آپ ریاست کے ملکیتی میڈیا اداروں کی تنظیم نو کریں۔ ان کا انتظام وانصرام ایک آزاد بورڈ آف ٹرسٹیز کے پاس ہو اور ایسے قوانین کا نفاذ کیا جائے جن کے تحت ان اداروں میں حکومت یا نجی شعبے کی مداخلت محدود ہو کر رہ جائے تاکہ سرکاری میڈیا کسی بھی وقت کسی خوف یا حمایت کی بنا پر رپورٹ نہ کرے۔

جناب صدر ! تھامس جیفرسن نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ باخبر شہری کو ایک فعال جمہوریت میں مرکزی حیثیت حاصل ہے مگر مصر کی سابقہ حکومتوں کی غلط کاریوں کی وجہ سے شرح خواندگی چالیس فی صد کے لگ بھگ ہے۔

اگر ہم مصر میں جمہوری تجربے کی کامیابی کی ضمانت چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ عوام باخبر اور باشعور ہوں۔ تعلیمی نظام میں اصلاحات میں شاید بہت وقت لگے، میڈیا کے شعبے کو بااختیار بنا کر اور آزاد کر کے ثمرات حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ آپ تحقیقاتی رپورٹنگ اور طنز کی حوصلہ افزائی کر کے اور میڈیا پروفیشنلز کو عزت و وقار سے نواز کر ایک اچھی مثال قائم کر سکتے ہیں۔ ان لوگوں کا کام ایک بہتر مصر کے قیام میں معاون ہو سکتا ہے۔

نیک خواہشات کے ساتھ، جناب صدر!

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.